Baseerat Online News Portal

قاضی حبیب اللہ قاسمی صاحب کا انتقال ملت کے لیے ایک بڑا سانحہ: حضرت امیر شریعت

قاضی حبیب اللہ قاسمی صاحب کا انتقال ملت کے لیے ایک بڑا سانحہ: حضرت امیر شریعت

پریس ریلیز

30 جولائی

دار القضاءامارت شرعیہ مدرسہ فلاح المسلمین بھوارہ، گوا پوکھر، ضلع مدھوبنی کے باوقار قاضی شریعت حضرت مولانا حبیب اللہ قاسمی علیہ الرحمہ کے سانحۂ ارتحال پر امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانامحمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ قاضی حبیب اللہ قاسمی صاحب کی شخصیت اس زمانہ قحط الرجال میں قابل قدر تھی ، وہ ایک مخلص عالم دین اور داعی ہونے کے ساتھ اسلاف کے نقش قدم پر چل کر اپنی خدمات انجام دیتے رہے ،وہ اکابر علماء ، امارت شرعیہ ، خانقاہ رحمانی مونگیر اور خود مجھ سے قلبی تعلق رکھتے تھے ، وہ اسلاف کے سچے جانشیں ، فکر امارت شرعیہ کے ترجمان ، صاحب بصیرت اور با وقار عالم دین تھے،ایک بڑا خطہ ان سے فیضیاب ہو رہاتھا،اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرما کر انہیں غریق رحمت فرمائے اوران کے وارثین کو صبر و سکون مرحمت فرمائے۔

قاضی صاحب کے انتقال پر امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت قاضی صاحب کا انتقال امارت شرعیہ کے لیے بھی بڑا خسارہ ہے ،اورجن اداروں کی وہ نگرانی فرما رہے تھے ان کے لیے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ انہوں نے طویل عرصے تک امارت شرعیہ کے شعبہ قضاء سے منسلک ہوکر ملک وملت کی جو نمایاں خدمات انجام دیں وہ لمبے عرصے تک یاد کی جائیں گی۔وہ بڑے شریف النفس، متواضع،بلند کردار، عالی ظرف ، کہنہ مشق مدرس،صاحب فقہ وفتاوی،تجربہ کار قاضی شریعت،فکر امارت کے مضبوط ترجمان اورعوام وخواص میں بیحد مقبولیت کے حامل تھے۔

واضح ہو کہ مولانا حبیب اللہ قاسمی ولد عبد الروؤف قاضی شریعت و سابق صدر المدرسین مدرسہ فلاح المسلمین بھوارہ گوا پوکھر ،مدھوبنی مختصر علالت کے بعد آج مورخہ ۳۰؍جولائ۲۰۲۰ء؁ مطابق ۸؍ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ؁ روز پنج شنبہ کوصبح سوا دس بجے دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کر گئے ، انا للہ و انا الیہ راجعون، وہ تقریباً ۶۶؍ برس کے تھے ، ایک طویل مدت تک مدرسہ فلاح المسلمین گوا پوکھر مدھوبنی کے صدر المدرسین رہے اور تقریباً ۲۹؍ سالوں تک دار القضاء امارت شرعیہ گو اپوکھر کے منصب قضاکو عزت بخشی اور تا حیات اس منصب پر فائز رہے۔آپ نے ہمیشہ عہدۂ قضا کے وقار کا پورا لحاظ رکھا ، وہ تقویٰ شعار، نیک طینت اوربزرگ عالم دین تھے۔ آپ کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، آپ حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں اپنی صلاحیت، خدا ترسی، تقویٰ و طہارت کی وجہ سے صف اول میں شمارکیے جاتے تھے ۔

آپ کے انتقال پر قائم مقام ناظم صاحب نے فرمایا کہ آپ علاقہ کے معتبر و مستند عالم دین تھے ، علاقہ کی کوئی بھی دینی و ملی تقریب آپ کے بغیر ادھوری رہتی ، سبھی مسلک کے ماننے والوں کے نزدیک آپ کی شخصیت مقبول و مستند سمجھی جاتی ، گویا کہ متفق علیہ شخصیت کے حامل تھے ۔ خاص بات یہ تھی کہ کسی بھی اہم معاملہ میں امارت شرعیہ اور امیر شریعت حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی رائے ضرور جاننے کی کوشش کرتے، وہ بار بار پوچھتے کہ حضرت امیر شریعت کی اس مسئلہ میں کیاہدایت ہے، جب حضرت امیر شریعت کی رائئے انہیں بتائی جاتی تو بلا چوں چرا اس پر مطمئن ہوکرعملی اقدام کرتے،گذشتہ سال اجلاس نقبائ ضلع مدھوبنی کا کامیاب انعقاد ان کی ہی نگرانی میں مدرسہ فلاح المسلمین میں منعقد ہوا۔

مدرسہ فلاح المسلمین گوا پوکھر اگر چہ بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق ایک سرکاری مدرسہ ہے ، اور سرکاری مدرسوں کے تعلق سے عام تاثر یہ ہے کہ وہاں معیاری تعلیم نہیں ہوتی ، لیکن آپ نے اپنی جد و جہد، محنت اور اخلاص سے اس بورڈ کے مدرسہ کو بھی اعلیٰ اور معیاری نظامیہ مدرسوں کے ہم پلہ بنا دیا تھا، اس مدرسہ میں جا کر یہ محسوس ہو تاتھا کہ بورڈکے مدرسوں میں بھی معیاری و مستحکم تعلیم ہو سکتی ہے اگر ذمہ داروں کے اندر احساس ذمہ داری، اخلاص و للہٰیت ہو ، اساتذہ محنتی، باصلاحیت اور اشاعت دین کے جذبے سے معمور ہوں۔

قاضی صاحب مرحوم انتہائی سادہ مزاج، پرہیز گار، منہیات تو کجا شبہات سے بھی بچنے والے اور اکابرکے چلتے پھرتے نمونہ تھے ، امارت شرعیہ کے کاموں سے اور اس سے تعلق رکھنے والے ہر شخص سے انہیں حد درجہ محبت تھی ، امارت شرعیہ کا ادنیٰ کارکن بھی ان کے پاس پہونچتا تو اسکو سر آنکھوں پر بٹھاتے اور اس کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کر دیتے ۔ امارت شرعیہ کے ہر پیغام کو گھر گھر پہونچانا اپنا فرض منصبی سمجھتے اور اس کے لیے تن من دھن سے لگے رہتے۔ آپ کے اندر خلق خد ا کی خدمت کا عظیم جذبہ تھا، وعظ و نصیحت کے ذریعہ آپ نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلیں اور انہیں دین و شریعت کا پابند بنایا۔پوراعلاقہ ان سے روحانی طریقہ پر منسلک تھا،ہر مسئلہ میں لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور وہ ان کی صحیح رہنمائی کرتے، ان کے انتقال سے امارت شرعیہ کی دیوار سے ایک مضبوط اینٹ کھسک گئی ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور امارت شرعیہ کو اور جن اداروں سے وہ منسلک تھے سب کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔ مفتی امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے قاضی صاحب کے انتقال پر اظہار رنج کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب با صلاحیت، صالح، بااخلاق ، منکسر المزاج، متقی، با وضع ا وربزرگ عالم دین تھے ، علاقہ میں اچھی شناخت رکھتے تھے ، ا ن کا انتقال ہم سبھی خدام امارت شرعیہ کے لیے ذاتی حادثہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین و متوسلین کو صبر جمیل عطا کرے۔

You might also like