Baseerat Online News Portal

قاضی صاحب کی رحلت “مصیبت کا کوہ گراں

قاضی صاحب کی رحلت “مصیبت کا کوہ گراں ”
فکر جمیل آج صبح اس وقت میرے غم کی انتہا ہوگئ جب حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ کے انتقال کی منحوس خبر کوگراں بن کر میرے وجود پر گری. میں اس وقت موٹر سائیکل پر سوار تھا خبر سنتے ہی دل پارہ پارہ ہوگیا سانس اکھڑنے لگی. اعصاب جواب دینے لگے . بدن میں لغزش ہونے لگی. بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور گاڑی سے اترتے ہوئے انا للہ وانا الیہ را جعون پڑھا . تھوڑی دیر نڈھال بیٹھا رہا خدا یا یہ تونے کیا کردیا ابھی تو تیرے اس عظیم بندے کی ہم سب کو بڑی ضرورت تھی. قحط الرجال کے مہیب اندھیرے میں یہ تو آخری چراغ تھا تونے اسے بھی گل کردیا. کیا یہی تیری سنت تیرا قانون تیری خدائی ہے .ہاں ہاں یہی حقیقت ہے یہی سچائی ہے جس کا سامنا بڑے بڑے شہنشاہوں حکمرانوں پہلوانوں یہاں تک کہ نبیوں اور رسولوں کو بھی کرنا پڑا ہے “آئی حیات لائی قضا لے چلی چلے. اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے . قضا و قدر کے فیصلوں کو نہ تو عقل وخرد کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے نہ انسانی فہم و ادراک کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے
بشری تقاضوں نے ہمیں رونے بلکنے غم کرنے اور بکھرنے آنسو بہانے کا موقعہ ضرور دیا ہے مگر ہمیں یہ حق کہاں کہ ہم اس کی مرضی کے خلاف زبان وقلم کو جنبش دیں “آمنت بما قدرت ورضیت بما خلقت ”
آج لوگ قاضی صاحب رح کو انکے اوصاف حمیدہ. کمالات کریمہ. گوناگوں خوبیوں. وناقبل فراموش کارناموں. کو یاد کرکے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں . ہر طرف ماتم کا ماحول ہے. آنسوؤں سسکیوں نے پہرا لگا رکھاہے.جسکو دیکھو سکتے میں پڑا ہے. زباں گونگی اور قلم خاموش ہو ہو گیا ہے. میرے پاس تو آپ کی شان میں لکھنے اوخراج عقیدت پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے. سوائے اس محبت کے جو میرے حصے میں آئی یا وہ یادیں جو آپ سے وابستہ ہیں
یوں تونہ مجھے حضرت کی تلمذی کا شرف حاصل تھا اور نہ کوئی رشتہ وقرابت داری تھی. اس کے باوجود مجھ سے بے انتہا محبت فرماتے تھے. جب کبھی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملتا .ہمہ جہت متوجہ ہو کر ہرتپاک استقبال کرتے اور “تفضل. تفضل “کہتے ہوئے اپنے بازو میں بٹھاتے. میرے جھجھکنے پر ہمت بڑھاتے اور مجھے بے تکلف کرنے کی کوشش کرتے ” پہلے چائے پھر شان نزول.” ادھر چائے کا آرڈر دیتے ادھر درس میں منہمک ہوجاتے .جب تک چائے آتی درس مکمل کرلیتے .پھر اپنا پر وقار با رعب چہرہ کو تبسم فرماتے ہوئے پوری طرح متوجہ ہوتے .اور فرماتے “جی شیخ “اس طرح گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا دوران گفتگو اس حقیر کی تعریف کرتے اور یکا یک یہ فرماکر میری فکر مندی ضرور بڑھا دیتے “مولانا آپ نے خود کو ضائع کرلیا ” آج انکی اس بات کو یاد کرکے آنکھیں چھلک رہی ہیں. دل تڑپ رہاہے. کاش میں آپکو قیمتی بن کر دکھا پاتا . جیسا مجھے آپ دیکھنا چاہتے تھے یوں تو امارت شرعیہ کے ذریعے پورے بہار میں دارالقضا کا نظام چل رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو کورٹ کچہری کے لفرے سے بچایا جاسکے اور انکی عزت و آبرو روپے پیسے کی حفاظت ہوسکے. جس کا فائدہ ملت کے لوگوں کو خوب خوب مل رہا ہے. مگر مدہوبنی مرکزی دارالقضا کی حیثیت سب میں بلند اور ممتاز اس لئیے ہوجاتی ہے کیونکہ اسے حضرت مولانا محمد حبیب اللہ قاسمی جیسا قابل معاملہ فہم ہمدرد شریف النفس بزرگ عالم دین قاضی ملا. آپ نے نے نہ صرف نکاح. طلاق . میراث کے مسائل حل کئے بلکہ ملت کے سماجی عائلی جھگڑے بھی ختم کئے
آپ کے دل میں ملت کا بے پناہ درد تھا .دو لوگوں کو جھگڑتے دیکھتے یا کہیں فوجداری ہو جاتی . یا کسی کی ازدواجی زندگی میں تلخی آجاتی تو آپ بے چین ہوجاتے اور اس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک کوئی حل نہیں نکل جاتا .آپ لوگوں کی مشکلات اور تنازعات کو حل کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے اور جس خطہ کا معاملہ ہوتا وہاں کے معاملہ فہم سماج دوست معتمد افراد کی مدد لیتے اور حل تلاش کرنے کی سعی مسلسل شروع کر دیتے. اس سلسلے میں ناچیز کو بھی یاد کیا کرتے تھے جب کبھی ایسا موقعہ آتا کہا کرتے ” مولانا ایک نیکی کا کام بتاؤں فلاں فلاں کے درمیان تنازع ہوگیا ہے معاملہ کورٹ میں چلا گیا ہے . یا چلا جائے گا . فلاں فلاں کو پکڑنے سے صلح ہو جا نے کی امید ہے. میں چاہتا ہوں کہ یہ عظیم نیکی آپ کے حصے میں آئے مجھے معلوم ہے یہ کام آپ کر سکتے ہیں اس کے بعد میری جدوجہد شروع ہوجاتی. اس طرح آپ کی سرپرستی میں اس حقیر سے بھی کچھ خیر کے کام انجام پائے ہیں اللہ شرف قبولیت بخشے
قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ اپنے مخالفین کو کوئی جواب نہیں دیتے تھےنہ برہمی کا اظہار فرماتے اور نہ اپنے ہمدردوں بہی خواہوں متوسلین ومنسلکین کو کسی طرح کے تنازعات اور جھگڑوں میں پڑنے دیتے. ایک بار حضرت پر بیان بازی کو لیکر ایک صاحب سے میرا جھگڑا ہوگیا. جب یہ بات آپ کو معلوم ہوئی تو مجھے بلاکر سخت پکڑ کی. فرمانے لگے “ہوسکتا ہے کہ اس شخص کی غلط فہمی کے سبب اللہ انہیں معاف کردے اور آپ پھنس جائیں. آپ نے تو جان بوجھ کر جھگڑا کیا ہے . آپکو اس شخص سے معافی مانگنی چاہیے اور اپنا معاملہ درست کر لینا چاہیے .چنانچہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ میں نے معافی تلافی کر لیا ہے تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا .
حضرت ایک بے باک ناقد اور مصلح تھے جو حق اور سچ اللہ دل میں ڈالتا ببانگ دہل بولتے اس کی پروا کئے بغیر کہ سامنے کون ہے اپنا ہے یا پرایہ. چنانچہ جب میری کتاب “اہل بدعت کی مذہبی خود کشی ” منظر عام پر آئی تو بجائے اس کے کہ خوشی کا اظہار فرماتے مبارکباد پیش کرتے .کہنے لگے میں تو یہ نہیں کہتا آپ کی محنت ضائع ہو گئ مگر اے کاش یہ محنت مثبت عنوان سے کی گئی ہوتی تو شاید اس کا اجر و ثواب اور نفع کئ درجہ بڑھ جاتا.
آپ کی بے انتہا محبت کا اثر آپ کے ارادےپر ہرگز نہیں پڑتا تھا یہی وجہ ہے کہ جب چاہتے تھے کسی کی دعوت قبول کر تے اور پورے اہتمام کے ساتھ شرکت فرماتے جب چاہتے انکارفرمادیتے چنانچہ حج کی روانگی کے موقعہ پر میرے گھر تشریف لائے مجھے ڈھیروں دعائیں دی میلوں ساتھ چلے. مگر جب میں نے نیا گھر بنایا اور دعوت کی تو شرکت سے انکار کردیا اور فرمانے لگے آپ نے فضول خرچی کی ہے ابغض المباحات علماء کی شان نہیں ہو سکتی اللہ اللہ اس شان و معیار کا انسان کیا پھر ہماری نظریں دیکھ سکیں گی ! اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے, ہم سب کو خاص کر برادر مفتی روح اللہ اور مفتی امداد اللہ کو صبر جمیل عطا فرما ئے آمین یا رب العالمین
خاک پائے بزرگاں
جمیل احمد قاسمی
خادم التدریس ! حکومت بہار (مدہوبنی )

You might also like