Baseerat Online News Portal

میری نماز اور میری قربانی سب اللہ کے لیے

 

ڈاکٹر سلیم خان

حضرت ابراہیم ؑ کے نماز سے  تعلق اور زندگی کے نماز سے رشتے میں بلا کی مماثلت   ہے۔  انسانی زندگی کی ابتدا اذان سے اور خاتمہ نماز پر ہوتا ہے۔ یہ  حسن اتفاق ہے کہ   یہ دونوں کا م دیگر افراد کے ذریعہ  انجام  پاتے ہیں۔ اس  کی  اپنی کوئی  شراکت داری نہیں ہوتی۔   نماز کی شروعات قرآن مجید میں درج   حضرت ابراہیمؑ کے کلمات اور دعا سے ہوتی ہے اور اختتام درود ابراہیمی اور اس کے بعد ایک دعا پر ہوتا ہے۔  اہل ایمان جب جاء نماز پر کھڑے ہوتے ہیں تو  کہتے ہیں : ’’ میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے درحالیکہ میں حق کی طرف متوجہ ہونے والا اور دین باطل سے بیزار ہوں اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو شرک کرتے ہیں، میری نماز، میری عبادت میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم کیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (یعنی فرما نبرداروں) میں سے ہوں۔ ‘‘یہ دراصل  سورہ انعام کی آیات 79 ، 161اور 162 ہیں ۔

اس کے ساتھ یہ دعا  بھی شامل ہے کہ :’’اے اللہ ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں  لہٰذا تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ اور کوئی گناہ نہیں بخش سکتا اور بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر کیونکہ تیرے سوا اور کوئی بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کر سکتا اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے کیونکہ بجز تیرے اور کوئی بد اخلاقی سے مجھے نہیں بچا سکتا۔ میں تیری خدمت میں حاضر ہوں اور تیرا حکم بجا لانے پر تیار ہوں ۔ تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور برائی تیری جانب منسوب نہیں کی جاتی، میں تیرے ہی سبب سے ہوں اور تیرا حکم ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں تو بابرکت ہے اور اس بات سے بلند ہے ۔میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے ہی سامنے توبہ کرتا ہوں‘‘ ۔

سورۂ انعام کی جو آیت 79 اوپر مذکور ہے اس کا سیاق اور سباق آیت  74 سے شروع ہوکر 81ویں آیت تک ہے ۔   ارشادِ ربانی ہے :’’ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا “کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں‘‘۔ شروعات آذر کے سامنے شرک کے برملا انکار سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد رب کائنات اپنا وہ احسان بیان فرماتا ہے جس کی بدولت  ستاروں کی  پرستش کرنے والی  قوم کے درمیان آنکھیں کھولنے والے حضرت ابراہیم ؑ کو معرفت سے نوازہ گیا۔  ارشاد ہے :’’ ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے ۔ چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔ پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا ۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا “اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو‘‘ ۔

  ان آیات کو کچھ مفسرین حضرت ابراہیم ؑ کا اپنی قوم سے مناظرہ بھی قرار دیتے ہیں ۔ اپنی  قوم کے سامنے بتوں اور ستاروں کی خدائی سے انکار کے بعد وہ آیت آتی جو نماز کے ابتداء میں پڑھی جاتی ہے۔ اس میں فرمایا گیا :’’میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔  یہاں پردنیا میں خدائی کے سارے  جھوٹے دعویداروں سے کٹ کر یکسوئی کے ساتھ  اللہ سے  جڑجانے کا اظہار ہے۔ اس  عزم وارادے کے بغیر نہ تو خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی ممکن ہے اور نہ ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اسلامی  زندگی گزاری جاسکتی ہے۔   کلمۂ شہادت   کا عرفان  انسان کا رخ درست کردیتا ہے۔ تکبیر تحریمہ کے بعد نمازی ساری دنیا سے کٹ کرخدائے واحد  کی عبادت کے لیے یکسو ہوجاتا ہے۔  اس کے بعد رکوع  کی حالت میں بندۂ مومن  کا دل اللہ تعالیٰ کی جانب جھک جاتا اور پھر  اس کا سارا وجود خالق کائنات کے آگے سربسجود ہوجاتا ہے۔ یعنی  اس کے فکر وعمل  دنیا اللہ تعالیٰ کے مرضی کی تابع و فرمان ہوجاتی ہے۔

   مومنانہ زندگی  کی ابتدا تو اس طرح ہوجاتی ہے مگروہ  سارے مراحل بھی  مختلف انداز میں پیش آتے ہیں جن کا ذکر آگے کی آیا ت میں ہے۔ ارشاد قرآنی ہے:’’اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی ‘‘۔اللہ کی اطاعت کرنےوالا مومن جب دین  کی دعوت دیتاہے تو مزاحمت کی  یہ  پہلی منزل اس کا استقبال کرتی    ہے۔  ایسے  میں ایک داعی الی الخیر کو  کیا جواب دینا چاہیےاس کی رہنمائی  آگے کی گئی  ہے:’’ تو اس نے قوم سے کہا “کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے‘‘۔ یہ تنازع صرف زبانی خرچ تک محدود  نہیں رہتا بلکہ دھونس  دھمکی تک پہنچ جاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم ؑ کے جواب میں اس کے اشارے موجود ہیں  :’’ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟‘‘ یعنی قوم سے کہا جارہا کہ تم مجھے ڈرانے دھمکانے کے بجائے خواب غفلت سے نکل کر خود اپنے انجام کی فکر کرو ۔

 دعوت و تبلیغ کے اس نازک مرحلے میں اللہ تباک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی ایک نہایت دلنشین  منطق کا ذکر فرمایا ہے:’’ اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ‘‘۔ یعنی حقیقی معنیٰ میں جس  شریک ٹھہرانے والےکو خوفزدہ ہونا چاہیے وہ تو نڈر بنا ہوا ہے اور ستم بالائے ستم  دوسروں کو ڈرا رہا ہے۔ اس منطقی جواب کے بعد قوم کو استفہامیہ انداز میں  غورو فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ اب تم ہی بتاو :’’ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو ‘‘۔ اس آیت  سے یہ بات واضح  ہوتی ہے کہ اہل ایمان خوف و دہشت کا شکار   نہیں ہوتے بلکہ  اطمینان و سکون  سے  اپنافرض منصبی  ادا کرتے ہیں۔  ان آیات میں  اہل ایمان   کو راہِ راست پریکسوئی کے ساتھ  گامزن رہتے ہوئے  بلاخو ف و خطر دعوتِ اسلام  پیش کر نے کی تلقین کی گئی ہے ۔

سورۂ انعام کی جو آیت مذکور آیا ت 161  اور162  سے پہلے بھی اللہ تعالی نے نبی کرم ﷺ کے ذریعہ    راہِ راست پر یکسوئی  کے ساتھ گامزن ہونے کا   اعلان کروا کر اس کی نسبت حضرت ابراہیم ؑ سے جوڑ دی ہے، فرمایا :’’ اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ‘‘۔ اس تمہید کے بعد  ارشادِ حقانی ہے:’’ کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں ‘‘۔  اس آیت میں نسکی کا ترجمہ بہت سارے مترجمین نے قربانی بھی کیا ہے۔

اس جامع دعا کے اندر نماز اور قربانی کے علاوہ جینے اور مرنے کا ذکر پوری زندگی پر محیط  ہے۔ بندۂ مومن بندہ اللہ  کی  خوشنودی کے لیے جیتا ہے  اور  رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیتاہے۔ یہ  قربانی سے زندگی  کا تعلق ہے۔ جس طرح نماز سے قبل یہ دعا پڑھی جاتی ہے اس طرح عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی سے پہلے بھی اس کو پڑھا جاتا ہے ۔ قربانی کرتے و  قت بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کر ذبح کرنے سے قبل یہ نیت کی جاتی ہے کہ :’’اے اللہ! تو میری جانب سے اور محمدﷺ کی امت کی جانب سے قبول فرما‘‘۔  احادیث نبویﷺ میں قربانی کی یہ دعا بھی ملتی ہے: اے اللہ میری طرف سے  قبول فرما جیسے تو نے قبول کیا اپنے خلیل ابراہیم ؑ  اور اپنے حبیب محمد ﷺ کی طرف سے‘‘ ۔ عید الاضحیٰ    کاخلیلؑ و حبیب ؐخدا  کی قربانیوں سے بڑا گہرا تعلق  ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشادِفرماتا ہے:’’ اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ ویسے تو درود سلام کے کوئی وقت کی تحدید نہیں ہے لیکن نماز کے اختتام پر درود ابراہیمی پڑھتے وقت  اس حکم کی بڑے اہتمام سے   بجا آوری ہوتی  ہے ۔  اس موقع پر بھی  محمد ﷺ کے ساتھ  حضرت  ابراہیم ؑ کو  یاد رکھا جاتا ہے : ’’یا اللہ! محمد اور آل محمد پر درود نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر درود نازل کیا ، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ یا اللہ! محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے‘‘۔ اس طرح پوری امت حضرت ابراہیم ؑ اور محمدﷺ کے تئیں اپنی عقیدت و محبت کا  اعادہ  ہر روز پانچ وقت کی نماز میں  کرتی  ہی رہتی  ہے   لیکن عیدالاضحیٰ کے دن قربانی  کا جشن  بامِ  عروج  پر پہنچ جاتا ہے  اور علامہ اقبال کی آرزو انگڑائی لینے لگتی ہے؎

سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا

خلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا

کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے

یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

 

You might also like