Baseerat Online News Portal

اک چہکتا ہوا بلبل خاموش ہے  (قاضی حبیب اللہ صاحب علیہ الرحمۃ )

اک چہکتا ہوا بلبل خاموش ہے

(قاضی حبیب اللہ صاحب علیہ الرحمۃ )

آج صبح اچانک میرے عزیز شاگرد مولانا منت اللہ بھوارہ مدھوبنی کے ذریعہ یہ خبر ملی کہ حضرت مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب کا انتقال ہوگیا.

یہ خبر سن کر میں سناٹے میں آگیا. بے قراری اور اضطراب کے عالم میں حضرت والد صاحب کے کمرے کی طرف بھاگا انہیں پہلے ہی یہ وحشتناک خبر مل چکی تھی دیر تک خاموشی چھائی رہی. پے در پے اکابر علماء کی وفات کی خبر سن کر زبان گنگ سی ہوگئی تھی دل صدمہ سے لہولہان تھا اس خبر سےایسا لگا کہ کسی ہارے ہوئے لشکر کا آخری سپاہی بھی دم توڑ گیا.

جب خاموشی ٹوٹی تو والد صاحب حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ کے محاسن اور خوبیوں کا ذکر کرنے لگے استاذی حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی رحمه الله سے قاضی صاحب کے نیازمندانہ مراسم اور ان کے زیر تربیت قاضی صاحب کے بیتے ہوئے دنوں کا دیر تک ذکر کرتے رہے.

 

حضرت قاضی صاحب علیہ الرحمہ سے میری آخری ملاقات لاک ڈاؤن سے قبل مدرسہ خلیلیہ رتن پورہ کے سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی ہمیشہ کی طرح ہشاش و بشاش دیکھا

جب تقریر کے لئے اسٹیج پر تشریف لائے اور تقریرشروع ہوئی تو مجمع پر سکوت چھا گیا تقریباً ایک گھنٹے تک ان کا خطاب جاری رہا. قاضی صاحب اپنی تقریروں میں بہت سے علمی نکات اور حقائق و معارف کو بیحد سہل اور سادہ اسلوب میں بیان کرتے جس کی بنا پر ہر کسی کے لئے اس کا سمجھنا آسان ہوجاتا . میں پورے خطاب کے دوران اس احساس کے ساتھ ہمہ تن گوش رہا کہ

 

سرآمد روزگارے ایں فقیرے

دگر دانائے راز آید کہ نہ آید

 

قاضی صاحب علیہ الرحمۃ رفتار و گفتار’ خاکساری اور تواضع’ شرافت اور وفاداری’ فکر و رائے کی پختگی اور اپنے اسلاف سے محبت میں حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کی ہو بہو تصویر تھے .

اپنے استاذ حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی سے قاضی صاحب کو جو والہانہ بلکہ عاشقانہ تعلق تھا اس کی مثال چشم فلک نے بہت کم دیکھی ہوگی.

اسے حسن اتفاق کہئے کہ اس سال حضرت قاضی صاحب سے متعدد بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا مدرسہ خلیلیہ رتن پورہ کے ناظم حضرت مولانا عریف الرحمن صاحب مد ظلہ کی دعوت پر وہ کئی بار دربھنگہ تشریف لائے اور یہ عاجز ہر بار قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا رہا .ہر بار اسی قدر شفقت و محبت کا اظہار اور اتنی ہی عنایت و توجہ جس کا مجھے انہوں نے عادی سا بنادیا تھا .

قاضی صاحب کی طبیعت میں اس قدر سادگی تواضع اور عاجزی تھی کہ جواں سال علماء اور فضلاء بھی ان کی جلالت شان اور ان کے علمی اور روحانی مقام کے باوجود ان کی مجلسوں میں بے تکلف ہوجاتے تھے قاضی صاحب اس سے تنگ دل یا ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہر چند کہ میں ان کی مجالس میں کبھی بے تکلف ہونے کی جسارت نہیں کر سکا لیکن اپنے کئی ہم عمر دوستوں کو بے تکلفی کے ساتھ ان سے علمی استفادہ کرتے ہوئے دیکھا.

قاضی صاحب علیہ الرحمۃ سے پہلی بار مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور میں سنہ 2002 میں ملا تھا. اس وقت مولانا مودودی کی کتاب “الجهاد في الإسلام ” میرے مطالعہ میں تھی گاندھی جی کے اہنسا کے نظریہ کے بارے میں حضرت مولانا اعجاز صاحب سے میں کچھ پوچھ رہا تھا قاضی صاحب نے وہ کتاب میرے ہاتھ میں دیکھی اور میرے سوالات کو سنا تو فرمانے لگے “عزیزم تم سے ہم لوگوں کو بڑی امیدیں ہیں ” پھر محبت سے گلے لگایا گھر کے حالات دریافت کیے میرے بڑے بھائی ضمیر احمد مرحوم کا انتقال کچھ عرصہ قبل ہوا تھا اپنوں کی” محبت”اور غیروں کی “الفت” دیکھ کر والد صاحب نے شیخوپور کو ہی مستقر بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا کم عمری اور پے در پے حوادث نے مجھے نڈھال سا کردیا تھا ایسے وقت میں ان کے تسلی آمیز کلمات نے میری ہمت بڑھائی اور میں مزید یکسوئی سے اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوسکا.

میرے علم کے مطابق قاضی صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنی تعلیمی اور تدریسی زندگی کے بیشتر ایام مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر میں گزارے باوجودیکہ یہ ادارہ بہار بورڈ سے منسلک ہے لیکن قاضی صاحب کے حسن انتظام ان کے بے پایاں خلوص اور ان کی شبانہ روز جد و جہد اور محنت و کوشش نے اس ادارے کو ممتاز دینی اداروں کی صف میں لاکھڑا کیا . یہ ایک بے مثال علمی اور دینی کارنامہ ہے جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا .

قاضی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے ان کا ناسوتی وجود ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا لیکن ان کی خدمات کے روشن نقوش ہمیشہ باقی رہیں گے

ہر گز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

وہ ان لوگوں میں سے تھے جو مر کر بھی زندہ رہتے ہیں .

مدرسہ فلاح المسلمین کی خوبصورت مسجد اس کی وسیع لائبریری اور کشادہ صحن قاضی صاحب کی قیام گاہ اور درس گاہ یہ سب چیزیں ہم کو ان کی یاد دلاتی رہے گی

رہ رہ کے ترا درد چمکتا ہی رہے

یہ شعلہ بیتاب لپکتا ہی رہے گا

 

ان کے روشن کردہ چراغ تاریک راہوں کو منور کرتے رہیں گے ان کے نقوش قدم سے مسافران علم کو منزل کا پتہ ملتا رہےگا اور اس طرح وہ دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے

ان کی پرچھائیاں لالہ و گل میں نمایاں ہوتی رہیں گی ان کے چھوڑے ہوئے اجالوں کی تصویریں آنکھوں میں پھرتی رہیں گی

شاعر کے بہ قول

پھیلا ہے دھواں ہر سو پر ان کے تصور سے

پھر جاتی ہیں آنکھوں میں تصویریں اجالوں کی

 

دبیر احمد قاسمی

مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ دربھنگہ بہار

You might also like