Baseerat Online News Portal

کرونا کے ماحول میں سیاسی مفادات کی غرض سے رکھی جارہی رام مندر کی بنیاد ۔۔۔۔۔، بنیادی سوالات سے نظریں ہٹاکر اس سمت میں قدم بڑھانا سمجھ سے بالا تر :محمد سیف اللہ

رکسول۔ 3/ اگست( پریس ریلیز)

ہمیں یہ قطعی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہ جمہوری اصولوں کی پاسداری کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتا ہے اس لئے ہمیں قانون کی بالا دستی کو قائم رکھتے ہوئے تمام طبقات کے یکساں حقوق کی بقاء کو یقینی بنائے رکھنے پر زور دینا ہوگا،ورنہ اگر ملک پر کسی ایک مذہبی نظریہ کو تھوپ کر اس کے جمہوری اقدار کو پامال کرنے یا اس کے وقار سے کھیلنے کی اجتماعی یا انفرادی کوشش ہوئی اور ہم نے آئین کے مطالبات کو نظر انداز کرکے آگے کا سفر جاری رکھا تو نہ صرف یہ ملک اپنا عالمی وقار کھو دے گا بلکہ مستقبل میں اس کے غیر یقینی نتائج بھی سامنے آئیں گے،یہ باتیں ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول کے سینئر صحافی محمد سیف اللہ نے اپنے اخباری بیان میں کہیں انہوں نے کرونا کے بڑھتے اثرات کے بیچ ایودھیا میں رام مندر کی بنیاد اور پھر اس میں ملک کے وزیر اعظم کی شرکت پر سوال کھڑتے ہوئے کہا کہ یہ ساری جد وجہد سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے ہو رہی ہیں ورنہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کرونا کی جنگ لڑ رہا ہے اور مناسب علاج کی سہولیات فراہم نہ ہونے کے سبب ہزاروں لوگ موت کی نیند سو چکے ہیں اور آئے دن نہ جانے کتنے ہی لوگوں کی جانیں جارہی ہیں،ڈاکٹرس پریشان ہیں اور مریضوں کی قابل اطمینان دیکھ بھال کے لئے انتظامات نہیں ہیں،غریب بھوک سے بےحال اور سماج کے متوسط طبقے روزگار کے لئے در در بھٹک رہے ہیں ایسے میں ضرورت تو اس بات کی تھی کہ بڑے اسپتالوں کی بنیاد رکھ کر عوامی زندگیاں بچانے کے اقدامات کئے جاتے اور غریبوں کے گھروں میں چولھے جلائے رکھنے کی منظم منصوبہ بندی کی جاتی مگر ان سب ضرورتوں کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے حکومت جس طرح کے قدم اٹھا رہی ہے کم از کم اسے موجودہ صورت حال میں مناسب نہیں کہا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے یہی ضروری نہیں تھا کہ تمام تر مسائل سے نظریں چراکر بس اسی ایک مسئلے پر ساری توجہ لگا دیا گیا،انہوں نے کہا ہو سکتا ہے اس عمل سے ایک خاص طبقہ کی حمایت تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر ملک کو بحران سے نہیں نکالا جاسکتا،انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ منظرنامہ میں حکومت جس پالیسی پر کام کر رہی ہے وہ اس کی تنگ خیالی اور جانب داری کو ترساتا ہے اور اگر یہی رویہ رہا تو ہم آگے بڑھنے کے سارے راستے بھول کر غلط راہ پر چل پڑیں گے،انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ ملک اپنے جمہوری دستور کی پاسداری کے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے اور اس تعلق سے اس کی اپنی جو شناخت دنیا بھر میں ہے اس کی وجہ کر عالمی برادری اس کو قدر واحترام کی نظر سے دیکھتی ہے لیکن موجودہ دور میں وقتی اور سیاسی مفادات کے لئے جس طرح کی سازشی کوششیں چل رہی ہیں اس نے ہر اس شخص کی پیشانی پر فکر کی لکیریں ڈال دی ہیں جن کو ملک کا جمہوری اقدار پسند ہے اور وہ جو ہندوستان کو عالمی سطح پر منفرد حیثیت سے کھڑا دیکھنے کہ تمنا رکھتا ہے،انہوں نے کہا کہ آج بڑی چالاکی کے ساتھ ہندوستان کی تاریخ کے ساتھ چھیڑ خوانی کا سلسلہ شروع ہے ظاہر ہے کہ یہ ایک سنگین سوچ کا نتیجہ ہے ایسی صورت حال میں اس منظر نامے کا قابل اطمینان حل نکالنے کے لئے ہمیں اپنی نئی نسل کو دستور ہند کی عظمت واہمیت سے واقف کرانا اور انہیں یہ بتانا ہوگا کہ ہمارا رشتہ جس ملک سے ہے وہاں ہر طبقے کے یکساں حقوق مسلم ہیں جن کی حفاظت کا فرض نبھانا ملکی وریاستی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری کا حصہ ہے،محمد سیف اللہ نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے جس نظرئیے کی بنیاد رکھی اور بھیم راو امبیڈکر نے ہمارے سامنے جس دستور کو عملی شکل میں پیش کیا تھا وہ ہمارے لئے عمل کا نمونہ ہے اور انہیں اپنا کر ہی ہم اس ملک کو خوشحالی اور امن کے ساتھ کامیاب منزل کی طرف لے جا سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں مذہبی بھید بھاو کے لئے نہ تو کوئی جگہ ہے، نہ ہی اس کی کوئی گنجائش نکالی جا سکتی ہے بلکہ ایسی سوچ رکھنے والے کسی بھی طرح ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے،انہوں نے کہا کہ جو سماج نفرت کا عادی ہو جائے اس کا مستقبل ہمیشہ بے اطمینانی کا شکار رہتا ہے اس لئے ہمیں مذہبی وسماجی نفرت کے ماحول سے باہر نکل کر ایک ہندوستانی کے طور پر ساتھ ساتھ چلنے اور ایک سو تیس کڑور عوام کے جذبات واحساسات کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی فکر کرنی ہوگی۔

You might also like