Baseerat Online News Portal

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم،تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں:خورشید انوار عارفی

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم،تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں:خورشید انوار عارفی
پھلواری شریف: 4/اگست(پریس ریلیز)
بزرگ صحافی جناب خورشید انور عارفی نے اپنے اخباری بیان میں کہاہے کہ 5/اگست2020ء کا دن ہندوستانی مسلمانوں  کے لیے  بڑے آزمائش کا دن ہوگا، جب ان کی نظروں کے سامنے  شہید با بری مسجد کی جگہ جبرا و ر ظلم کی بنیاد پرمندرکی  تعمیر کا رسمی آغاز ملک کے وزیر اعظم  کے ہاتھوں ہوگا۔آر ایس ایس  کے لیے یہ دن فتح اور کامر انی کا ہو گا۔مسلمانوں کی چارسوصدی پرانی مسجد فاشسٹ تنظیموں نے 1992ء میں اس وقت کے کانگریسی وزیر آعظم پی۔وی۔نر سمہا راؤکی مر کزی حکومت کے بھر پورتعاون سے زمین دوذ کر دیاگیا۔سیکو لر جمہوری آئین کے ہندوستان میں فاشزم کے اس ننگے ناچ کو نہ صرف ہند و ستان کے عوام نے؛بلکہ ساری دنیا نے دیکھا۔وہ ہندوستان جو صدیوں سے بے مثال ہندو۔ مسلم  اتحاد اور گنگا۔ جمنی تہذیب کا گہوارہ تھا،جہاں پریم کی دریا بہتی تھی،جس ملک نے ساری دنیا کو شانتی کا پیغام دیا،جہاں  کے باسیوں نے چودہ سو سال قبل عرب سے آئے مسلمانوں کو گلے لگایا تھا، اسی ہندوستان کی سر زمین پر فاشسٹ عناصرنے ’ہندو ازم‘  کے بھیس میں ہندوستان کی ؑ عظمتوں کو ملیا میٹ کردیا،ملک کے ہندوؤں کو ساری دنیا میں بدنام کیا اور ہندوستان کو کلنک لگایا۔ اس سانحہ نے جس قدر مسلمانوں کودکھ پہچایا ہے، اسی  قدرہندووؤں کو تکلیف پہنچی ہے،اس وقت ملک پر فاشزم کا زبردست غلبہ ہے۔دستور کو بے اثر بنا دیا گیا ہے، قانون کی با لادستی جاتی رہی ہے، پو لیس اور انتطا میہ حتی کہ عدلیہ بھی سب کے سب فاشزم کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔انصاف کی امید جاتی رہی ہے۔ملک کے حا لات صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، تمام اہل ہند کے لیے بد ترہو تے جارہے ہیں،ظلم اور بر بریت کا دار دورہ ہے۔ملک میں فاشزم کی تند و تیز ہوا چل رہی ہے۔آرایس ایس نے ملک کو یر غمال بنا لیا ہے۔ان مشکل اور صبر آزما حالات میں بھی مسلمانوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو نا چاہیے۔ہما را ملک بنیادی طور پر سیکولر ہے،یہاں کے عوام کا  مزاج سیکولر ہے، یہاں کی ہواؤں اور بٹی سے سیکولرازم کی خوشبو کا احساس ہو تا ہے۔ہمیں دل برداشتہ ہو نے کی ضرورت نہیں۔ ہندوستانی آبادی کی اکثر یت جمہو ری سیکو لر ننظام حکومت چاہتی ہے۔ یہی ہماے لیے امید کی کرن ہے،جب تک ہمارا دستور قائم ہے، ہمیں اس کا فا ئدہ اٹھانا چاہیے۔ ریاستی، یا ملک کے عا م نتخا بات میں مسلمان کو متحد ہو کر ہم خیا ل عوام کے ساتھ مل کر ہندوستان  میں پھر سے سیکولر نظام حکومت قائم کر نے کی سعی کر نی چاہیے۔ملک اور یہاں کے عوام کے تئیں یہی ہماری زمہ داری بھی ہے۔یہ بات یاد رکھئے کہ ماضی میں ہم میں سے جن لوگوں نے  سیکو لر ازم  سے ہٹ کر فرقہ پرستی کی راہ اختیار کی تھی، وہ کئی نسلوں کے لئے  تبا ہی کا باعث بنے۔ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں چاہیے۔محض سینہ کوبی کر نے سے کیا حا صل۔ہمیں مسلکی اور ذات برادری کے اختلافات بھلا کر متحدہ طور پر عمل پیرا ہو نا ہو گا۔ عمل سے ہی ہم اپنی اور اپنی آئند نسل کی زندگی کو سنوار رسکتے ہیں ورنہ یہ جان لیجئے کہ ہمارا نام تک نہ ہو گاداستا نوں میں۔ خدانخواستہ28برس پہلے بابری مسجد شہید کر دی گئی تھی۔ آر ایس ایس،وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پاڑٹی کے لیڈران نے ایک جرم کا ارتکاب کیا تھا، جنہیں اس طویل عرصہ میں ہندوستان کی عد لیہ سزا دینے میں نا کامیاب رہی۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا یہ ایک ایسا ا لمیہ ہے،جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔اس موقع پر کم از کم دو ہزار مسلمانوں نے شہادت دی تھی؛ لیکن آج تک مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکا۔وہ جنہیں اس جرم کی سزا میں سلاخو ں کے پیچھے ہو نا چاہئے تھا،انہیں اس ملک کا نائب وزیر اعظم اور وزیر بنایا گیا۔رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہو نے والا ہے، جشن کی تیاریاں ہیں۔اتر پردیش کے یوگی وزیر اعلی کورونا کی وبا سے مطمئن ہفتوں قبل سے ذاتی طور پر تمام سرکاری انتظامات کا جائزہ لینے اور صبح و شام پوجا کرنے میں مصروف ہیں۔ ہندوستان کے وزیر اعظم بہ نفس نفیس مو جود رہیں گے۔ یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جس کا دستور کہتا ہے کہ ہر شخص کو ذاتی طور پر اپنے مذہب ہر چلنے کی مکمل آزادی ہے؛ لیکن اسٹیٹ یعنی حکو مت کا کوئی مذہب نہیں ہو گا، اسی کو سیکولر حکومت کہا گیا ہے؛لیکن نریندر مودی کی حکومت کا ہر قدم دستور کے خلاف ہے۔آج کا مسلمان ان ہی حالات میں ایک بے بس قوم کے مانند زندگی گذار رہا ہے۔اب جبکہ انصاف کے سارے دروازے ہمارے لیے بند ہو چکے ہیں،ہمیں اٹھ کھڑا ہو نا ہوگا۔ہمیں  ایک با عزت قوم ہو نے کا مظاہرو کرنا ہو گا۔ کھوئی ہوی عظمت حاصل کر نے کے لئے ہمیں اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرنا ہوگا۔ آج بھی مسلمان یہ فیصلہ کرلیں کہ آئندہ اپنے حقوق کے لئے حکومت کا سامنے کشکول گدائی نہیں کریں گے۔ ”پھونک ڈالیں یہ زمین و آسمان موستعار اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے۔“  مسلمانٗ کی شاندار تاریخ کو اپنے سامنے رکھئے۔آپ نے تو بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دیئے تھے۔آپ اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو جنگوں میں جب مجروح ہوا‘ اور گھو ڑوں سے گرا تو دوبارہ سوار ہو کر معرکہ آرائی کی۔ بابری مسجد کو لٹیروں نے لوٹ لیا۔ اس معاملہ کو اب اللہ کے حوالہ کیجئے۔ اپنے دل و دماغ کو پرا گندہ کر نے کے بجائے ہم مستقبل کی تعمیر کی راہ اختیار کریں۔ آئیے! آج ہم سب مل کر ایک نئی تایخ قلمبند کریں۔ اسی فیض آباد ضلع کے کسی دوسرے ہر لحاظ سے مناسب مقام پر ہم اپنے پیسوں  سے زمیں خرید کر ایک شاندار بین الاقوامی اسلامی مرکز اور مسجد کی تعمیرکر نے کا عزم کریں۔حکومت کے کسی مد دکے بغیر تعمیرشدہ یہ اسلامی مرکز ہندوستان کے سیکولرازم کی ایک شاندار مثال ہوگی۔ہم خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھیں، اللہ ہمیں نصرت و کامرانی عطا فرمائے گا۔ ہمت و استقلال کے ساتھ قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔آپ دیکھیں گے کہ کس طرح  ہندوستان کی غربت و افلاس کی ماری ہوئی مسلم قوم کا ایک ایک فرد اس شاندار تعمیر کے لیے اپنا دل و جاں نچھاورکرتاہے۔ تمام تر نا انصا فیوں اور مظالم کا شکار ہونے کے با و جودہم ایک زندہ قوم ہیں۔بابری مسجد کی شہادت کو لے کر ہم کب تک غم میں ڈوبے رہیں گے۔ ہم سب عملی میدان میں آئیں۔کسی قیادت کا انتظار نہیں کریں۔اس تحریک کی شروعات چند لوگ کریں۔لوگ ساتھ آتے جا ئیں گے اور قافلہ بڑھتاجائے گا۔(ان شا ء اللہ)فاشسٹ عنا صر نے ہندوستانی مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کر نے کے لئے مسجد شہید کی ہے۔ ہم کوئی تکرار نہیں چاہتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان حا لات میں  ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہ راہ مناسب ہوگی جب ہمیں بابری مسجد کی جگہ ایک شاندار بدل مل جائیگا اور ہمیں کھوئی ہوئی عظمت بھی دوبارہ حاصل ہوجائے گی۔

You might also like