Baseerat Online News Portal

صبح کی بات فہیم اختر ندوی کے ساتھ_ 07/08 /2020

صبح کی بات
فہیم اختر ندوی

السلام علیکم

ہم ملک کی نئی تعلیمی پالیسی 2020 پر بات کررہے ہیں۔۔ یہ پالیسی ہے، یعنی ایک منصوبہ ہے، تصور اور سوچ ہے، اس میں اہداف ہیں، اور ان کو حاصل کرنے کی راہیں دکھائی گئی ہیں۔۔ خود یہ قانون نہیں ہے۔۔۔

اس منصوبہ کی روشنی میں قوانین بنیں گے، فیصلے ہوں گے، ادارے بنائے جائیں گے، اور اقدامات کئے جائیں گے۔۔ اس کا آغاز ہو بھی چکا ہے، مثلا اب اس وزارت کا نام فروغ انسانی وسائل MHRD کی جگہ وزارت تعلیم MoE ہوگیا ہے۔۔۔

یہ منصوبہ جب مجوزہ مسودہ بن کر آیا تھا، تب عام لوگوں سے رائیں اور مشورے مانگے گئے تھے، کافی لوگوں نے تجاویز بھیجی تھیں، مسلم تنظیموں، اداروں اور افراد نے بھی اپنی میٹنگیں، پروگرام اور مباحثے کرکے اچھی تجاویز ارسال کی تھیں۔۔ اس منصوبہ کو منظوری سے پہلے پھر بحث اور غور کےلئے سامنے لایا جانا چاہئے تھا۔۔ تب کھل کر سامنے آتا کہ کن تجاویز کو قبول کیاگیا ہے، اور کن مشوروں کو نظر انداز کردیا گیا ہے، اور کیوں؟۔۔۔ یہ بھی معلوم ہوتا کہ اب اس میں کہاں کہاں اور کیا خامیاں ہیں؟؟ ۔۔۔ لیکن ایسا نہیں کیاگیا، اور کیبینٹ سے منظور کرلیا گیا۔۔۔

ماہرین کے مطابق کئی مشورے قبول کئے گئے ہیں، مثلا ہندی میڈیم میں لازمی تعلیم ہٹالی گئی ہے، لیکن گھماکر وہ بات مادری زبان یا علاقائی زبان میں تعلیم دینے کی کہی گہی ہے، البتہ ‘جہاں ممکن ہو’ کا لفظ لایا گیا ہے۔۔ اب بھی بہت سی کمیاں اس میں موجود ہیں۔۔ اور سب سے اہم یہ کہ بہت سی باتیں واضح نہیں کی گئی ہیں، مبہم باتوں نے شکوک اور سوالات پیدا کردئے ہیں۔۔۔

اس منصوبہ میں کئی باتیں مفید ہیں، اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔۔ ہم بھی ان سے فائدہ کا ذہن بناسکتے ہیں۔۔

اسکول میں مادری زبان میں تعلیم بچوں کےلئے تعلیم کو سہل بنائے گی، تو ہم اردو کو مضبوط کرسکتے ہیں۔۔ آنگن واڑی تعلیم میں گاؤوں اور دیہی علاقوں کے چھوٹے بچوں کو ابتدائی تربیت اور صحت و غذا سے جوڑا جاسکتا ہے، اس میں مقامی افراد کے ذریعہ رہنمائی اور تعاون کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔۔ مڈل اور سیکینڈری سطح میں فارن لینگویج کے تحت عربی زبان کی تعلیم اپنائی جاسکتی ہے۔۔ اس میں ہی ہنر اور پیشیوں کی تعلیم دی جائے گی، تو اس سے بچوں کو آراستہ کرکے آئندہ کاروبار کی راہیں بنائی جاسکتی ہیں۔۔

اعلی تعلیم میں ایک سالہ، دو سالہ، تین سالہ اور چار سالہ تکمیل کے نظام کے ذریعہ ادھوری تعلیم سے طلبہ کو بچایا جاسکتا ہے۔۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ تعلیم ہی ترقی اور سمجھ کی کنجی ہے، اور تعلیم دنیا میں بامقصد زندگی گذارنے کےلئے ہے۔۔ تو اسکول سے لے کر اعلی تعلیم تک میں جتنی سہولیات آئیں گی وہ سب کےلئے مفید ہوں گی۔۔ محنت، ذہانت اور قابلیت پر کسی دوسرے کا کنٹرول نہیں ہے، اور قابلیت کو سراہنے پر دنیا مجبور ہے۔۔۔

تو عہد اور کوشش کریں کہ ہر ہر کی تعلیم اور گھر گھر کی تعلیم ہوگی، مکمل اور معیاری تعلیم ہوگی، اور آگے بڑھ کر امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔۔۔

آج بس، کل پھر بات کرتے ہیں، فائدوں کے ساتھ اندیشوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔

خدا حافظ

7 اگست 2020
16 ذو الحجہ 1441

You might also like