Baseerat Online News Portal

دھرم سینااورراج دھرم!

محمدشارب ضیاء رحمانی
خبردرخبر
خبروں کے مطابق اترپردیش میں ہندوسوابھیمان نامی تنظیم نے دھرم سینانامی فوج تیارکی ہے۔اس فوج کامقصد ہندوستان میں داعش کامقابلہ کرناہے۔اس تنظیم نے پندرہ ہزارجوان اس مصرف کیلئے تیارکئے ہیں۔گویاکہ مشرق وسطیٰ کی طرح’’ ہندوستانی داعش ‘‘کی بنیادرکھی جارہی ہے ۔دوسرے لفظوں میں دہشت گردی کامقابلہ دہشت گردی سے کرنے کی کوشش ہے ۔دوسری طرف وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ہندوستان میں داعش کی کوئی سرگرمی نہیں ہے۔ اورنہ ہندوستانی مسلمان اس کی طرف جاسکتے ہیں کیونکہ ہندوستانی مسلمانوں کی روح میں حب الوطنی رچی بسی ہے ۔بات بھی درست ہے کہ مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ وطن عزیز کی ترقی وتعمیرمیں حصہ لیابلکہ اس کی حفاظت میں بھی اہم کرداراداکیاہے۔ان کی حب الوطنی کوثابت کرنے کیلئے نہ کسی سرٹیفیکٹ اورنہ کسی کی سندکی ضرورت ہے۔مسلمانوں کی حب الوطنی پرکسی طرح کابھی کوئی سوال نہیں اٹھایاجاسکتاہے۔ہندوستانی مسلمانوں نے جناح پرگاندھی کوجب فوقیت دی تھی اسی وقت اس نے طے کرلیاتھاکہ اسی وطن کی مٹی میں ہمیں رہناہے اوراسی کاہوکررہناہے۔مسلمان صرف وطن عزیزکی دردیوارہی نہیں اس کی بنیادکاحصہ ہیں۔ہماری تاریخ میں شہیداشفاق اللہ خان اوربہادرعبدالحمیدہیں،ملک کی تعمیرمیں اے پی جے عبدالکلام کی خدمات کااعتراف انہیں بھی ہے جوشک کی سوئی مسلمانوں کی طرف گھماتے رہتے ہیں۔حیرت تویہ ہے کہ نصیحت وہ کررہے ہیں جواپنے ہیڈکوارٹر پرملک کے پرچم کولہرانہیں سکتے۔
عالم اسلام کے ساتھ ساتھ تمام ہندوستانی علماء نے صراحتہ داعش کو غیراسلامی بتاتے ہوئے دولت اسلامیہ کے نام پرپنپ رہے ناسورکودشمنان اسلام کی طرف سے منظم حربہ قراردیاہے۔ایسے میں ہندوستان میں داعش کے خطرات کابہانہ بناکردھرم سیناکی تشکیل کیامعنیٰ رکھتی ہے۔مذہب کے تحفٖظ کے نام پرفوج کیاغیرآئینی عمل نہیں ہے ،فوج کے متواز ی فوج کی تشکیل کیابغاوت کے زمرہ میں نہیں ہے۔اورآئین اوردستوراورسسٹم پربھروسہ کس کاکمزورہے ،اسے اب بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اکثریتی طبقہ کوکون سے خطرات درپیش ہوگئے ہیں جن کیلئے سینابنانے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ یاتویہ سراسرہندوستانی کی قابل تعریف فوج کی بہاردی پر فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے سوالیہ نشان ہے جوسراسرملک کی توہین ہے۔ یاملک کوخانہ جنگی کی آگ میں جھلسانے کاخطرناک کھیل چل رہاہے۔دیش بھکتی کانعرہ لگانے والاالیکٹرانک میڈیااس معاملہ پر خاموش ہے،فوج کی خودمختاری اوراس کی صلاحیتوں پرسوالیہ نشانہ کھڑاکرنے پراس کی نظرکیوں نہیں جاتی ؟۔یہ دیش کے تحفظ اوراس کے امن وسکون کامعاملہ ہے۔کیاہندوستانی قانون ،عدالت ،میڈیا،انتظامیہ ا ورریاستی ومرکزی حکومتیں دیگرکمیونٹی کواپنے اپنے مذہب کے تحفظ کی خاطرسیناکی تشکیل کی اجازت دے سکتی ہیں۔اس سے سراسرخانہ جنگی کے باب کھل جانے کاخدشہ ہے ۔
دراصل یوپی کوفرقہ پرستی کی تجربہ گاہ بنایاجارہاہے،کیونکہ وہاں الیکشن سامنے ہے۔فرقہ پرستوں کومطلب ہے توصرف اقتدارسے ،چاہے اس کیلئے اسے کچھ بھی کرناپڑے۔ملک کاوقار،اس کاامن چین کہیں جائے ۔رام مندرکے ساتھ ساتھ اب یہ ایک نیاایشوسامنے لایاگیاہے۔اترپردیش مستقل فرقہ وارانہ تشددکی زدمیں ہے اورسماجوادی سرکاربری طرح اس سے نمٹنے میں یاتوناکام ہے یامیچ فکسنگ کاکھیل چل رہاہے۔یوپی سرکارجہاں مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پرجھانسہ دے رہی ہے وہیں وہ فرقہ پرستی کی منہ بھرائی میں بھی مصروفِ عمل ہے۔سماجوادی پارٹی میں مسلم اراکین کی بھیڑلگی ہے،لیکن سب کے سب پارٹی کے وفادار۔ اترپردیش سرکارکواب بھی ہوش کے ناخن لے کرفرقہ پرستی پرلگام کسناچاہئے۔گرچہ بہارالیکشن میں سماجوادی کاحقیقی چہرہ سامنے آچکاہے۔دوسری طرف سنگھ سرکارکے مرکزمیں آنے کے بعدفرقہ پر ستوں کے حوصلے کس قدربلندہوگئے ہیں،ان واقعات سے اس کااندازہ بخوبی ہوجاتاہے ۔یوپی سرکاراور بی جے پی سرکارراج دھرم نبھانے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔اہم ایشوزسے توجہ ہٹانے کیلئے غیرضروری ایشوزچھیڑکرملک کے سیکولرتانے بانے کوکمزورکرنے کی جتنی کوششیں ہوسکتی ہیں،سب کی جارہی ہیں۔ فرقہ پرستوں کابس ایک ہی ایشوہے ہندوتوکیلئے ملک کوجس سطح پرلے جانے کی ضرورت ہے ،لے جایاجائے۔حالانکہ اوربھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے فیچرایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

You might also like