Baseerat Online News Portal

ہمیں حالات کی گردش سے مایوس ہونے کی بجائے اس سے سبق لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ ، حوصلے کے ساتھ جی کر ہی ملک کی سیاسی تصویر بدل سکتے ہیں: مولانا ارشد فیضی

رکسول۔ 8/ اگست( محمد سیف اللہ)

بھلے ہی ہمیں اپنی جمہوریت پر فخر ہو مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان دنوں ملک کے اندر مذہبی منافرت اور علاقائی ولسانی عصبیت جس تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے،جس طرح اقتدار کے غرور میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ ملک کی جمہوریت کے جنازے نکالے جارہے ہیں اور جس انداز سے تمام تر آئینی بالا دستیوں کو ختم کرکے پورے نظام پر ہندتووادی نظریہ کی چھاپ ڈالی جارہی ہے اس سے عام دلوں خاص کر اقلیتی طبقہ کے اندر بے چینی کا پایا جانا ایک فطری بات ہے لیکن میں آپ سب سے صرف اتنا ہی کہونگا کہ ان حالات میں گھبرانے کی بجائے ہمیں حوصلے سے ہر سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ اگر سازشی ارادہ رکھنے والے تنگ خیال لوگ اپنے مشن میں کسی بھی طرح کامیاب ہوگئے اور یہاں کے جمہوری اقدار کی یونہی دھجیاں آڑائی جاتی رہیں تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ہندوستان عالمی برادری کے ہاتھوں کھلونا بن جائے گا یہ باتیں پیام انسانیت ٹرسٹ بہار کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے اپنے بیان میں کہیں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان کے جمہوری نظام میں عوامی حقوق اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے یقین دہانیاں موجود ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی بقاء کے حوالے سے اس کے اندر بڑے بڑے دعوے کئے گئے ہیں لیکن ان سب کے باوجود یہاں کی اقلیتوں پر آزادی کے بعد سے لے کر آج تک آئے دن جو ظلم ہوتے رہے ہیں اور جس طرح مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا کھیل برسوں سے رچا جاتا رہا ہے اسے جمہوری نظام کے سامنے ایک سوالیہ نشان کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا.لیکن ان سب معاملوں میں مسلمانوں کی بے حسی کو بھی نظر انداز کرکے آگے بڑھنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہی وہ مسلمان ہے جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے انسانیت کا قتل ہوتا دیکھا،جن کی آنکھوں کے سامنے نہ جانے کتنے نوجوانوں کی لینچنگ کر دی گئی،جن کی آنکھوں کے سامنے بے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جاتا رہا،جن کی آنکھوں کے سامنے عدالت میں انصاف کا خون ہوتا رہا،جن کی آنکھوں کے ساتھ پولس کے ظالمانہ کردار کی گھناونی تصویریں سامنے آتی رہیں،جن کی آنکھوں کے سامنے عورتوں کی عزت وعفت کے سودے ہوتے رہے،جن کی آنکھوں کے سامنے بھوک سے بچے دم توڑتے رہے، جن کی آنکھوں کے سامنے مذہب کے نام پر کھلے عام حیوانیت کا کھیل رچا جاتا رہا،جن کی آنکھوں کے سامنے حکومت کے سیاسی مفادات کے لئے غریبوں مزدوروں اور بے سہارا لوگوں کو سسک سسک کر مرنے پر مجبور کیا جاتا رہا، جن کی آنکھوں کے سامنے بے رحم ڈاکٹروں کے ذریعہ معصوموں کا گلا دبا دیا جاتا رہا،جن کی آنکھوں کے سامنے میڈیا سماج میں زہر پھیلاتا رہا،جن کی آنکھوں کے سامنے تین طلاق کے بہانے مسلمانوں کے آئین میں دخل اندازی کی جاتی جاتی رہی،جن کی آنکھوں کے سامنے بابتی مسجد کو گراکر اس کی جگہ بتکدہ بنایا جاتا رہا مگر ان سب کے باوجود بے حسی کا یہ عالم رہا کہ ان کی پیشانیوں پر شکن تک نہیں آیا،حد تو یہ ہے کہ یہاں کا مسلمان گجرات فساد میں بھی چپ رہا،نجیب کی گمشدگی کے معاملے میں بھی ان کی زبان پر تالے لگے رہے،نوٹ بندی نے سینکڑوں لوگوں کی جان لی مگر کسی کے منہ سے آہ تک نہیں نکلی انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آزادی کے بعد سے لے کر آج تک حکومت کے ہر غلط قدم کو جائز ٹھہرانے اور ان پر مصلحت کی چادر ڈال کر خاموش رہنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق آواز اٹھائی ہوتی اور ہر ناانصافی کے خلاف حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور عوام پر ہونے والے ظلم کے خلاف ایکشن لیا ہوتا تو آج ملک کی تصویر ہی کچھ اور ہوتی نہ مسلمانوں کے پرسنل لاء پر حملے ہوتے،نہ بابری مسجد ہاتھ سے جاتی،نہ طاقت کے غرور میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا تے اور نہ ہی انسانیت کا خون کرکے تالیاں پیٹی جا رہی ہوتیں،انہوں نے کہا کہ مضبوط حکومت کی تصویر وہی عوام دیکھتی ہے جنہیں اپنی طاقت اور اپنی حیثیت کا احساس ہوتا ہے اس لئے ہمیں ہندوستان جیسے مضبوط جمہوری ملک میں اپنی طاقت کا احساس کرتے ہوئے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا اور ہر قدم پر تک کر حکومت سے سوال کرتے رہنے کی عادت ڈالنی ہوگی ورنہ تاریخ ہمیں اپنے پنوں میں جگہ نہیں دے گی، انہوں نے کہا کہ جو سماج اپنی مجموعی طاقت کو نہیں سمجھتا اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمان بھی حکومت کی فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے جسے توڑ کر آگے بڑھنے کی ہمت کرنی ہوگی اگر ایسا نہیں ہوگا اور یہاں کا مسلمان خاموشی سے ساری نا انصافیوں اور ظلم کو دیکھتی رہے گی تو اس کا مستقبل تارک ہو جائے گا،

You might also like