Baseerat Online News Portal

آہ۔! محب اردو خان لطیف محمدخان ہم سے رخصت ہوگئے

عارف شجر
حیدرآباد، تلنگانہ
[email protected]
ٓٓ آسمان صحافت کا ستارہ،محب اردو، اردو نواز،اردو کے فروغ اور اسکی توسیع کرنے والا، بغیر کسی لالچ ومفاد کے ملک کو اردو کی آواز بننے والا، ہر دلعزیز،مخلص اور اپنے اسٹاف پر شفقت کا ہاتھ پھیرنے والاانسان ہمارے بیچ سے رخصت ہو گیا ہے۔ اس عظیم شخصت کو پورا ملک خان لطیف محمد خان کے نام سے جانتا تھا۔مرحوم نے امریکہ کے شکاگو میں آخری سانس لی۔ تدفین کا کا م وہیں کے ایک قبرستان میں انجام پایا۔ مرحوم کے پسماندان میں اہلیہ کے علاوہ دو فرزند وسیم محمد خان اور ڈاکٹر اسلم محمد خان اور چار دختران شامل ہیں۔ مرحوم خان لطیف محمد خان کے خاندان کا نام حیدرآباد کے معتبر شخصیات میںشمار ہوتا ہے۔مرحوم این آر آئی تھے،ان کے اندر اردو کی لطافت اور اسے سے محبت بے شمار بھری پڑی تھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے 23سال قبل روزنامہ منصف کو خرید لیا اور اسے جدید تکنیک سے آراستہ کرکے اپنی بھرپور صحافتی خدمات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بلندیوں تک پہنچانے میںجی جان سے محنت کی۔آج اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ روزنامہ اردو کے بلند ترین ناموں میں سر فہرست نام ہے۔روزنامہ کی کامیابی کے بعد انہوں نے منصف ٹی وی نام سے الیکٹرونک نیوز چینل کا آغاز کیا اسکا خاص مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں اور دبے کچلے لوگوں کی آوازبنے اور انکے مسائل حکومت تک پہنچے۔انکی اس بے لوث خدمت نے اسے بھی چند سالوں میں ملک اور بیرون ملک میں مشہور کر دیا مسلمانوں ، اقلیتوں بے سہاروں، اور دبے کچلے لوگوں میں یہ نیوز چینل ایک امید کی کرن بن کر ابھرا جو لوگ نا امید ہوگئے تھے انہیں اس چینل نے امید جگا دی لوگ بے باک ہوکر منصف ٹی وی سے اپنی بات کہہ پاتے تھے۔
منصف ٹی وی جیسے اردو کے بڑے چینل میں مجھے بھی کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس چینل میں چار سال تک ہم نے اینکر اور سینئر کاپی ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی۔ ان چار سالوں کے دوران ہم نے کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ ایک بات جو سب سے اچھی تھی کہ اس میں جیتنے بھی اسٹاف رہے یعنی چینل کے جیتنے بھی شعبے کے اسٹاف تھے سبھی نے چینل کو اونچائیوں تک پہنچانے میں اپنی بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا سبھی یہاں دوستانہ مزاج رکھتے تھے اس چینل کو اپنا چینل سمجھ کرپروان چڑھاتے رہے۔اسٹاف میں کام کے تئیںحرارت اور جذبہ پیدا کرنے کے لئے چینل کے چیئر مین مرحوم خان لطیف محمد خان کا بڑا اہم رول رہتا تھا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب بھی منصف چینل کی سالگرہ منائی جاتی تھی جس میں چینل کے سبھی اسٹاف موجود ہوا کرتے تھے انکے اندر جذبہ ، حوصلہ اورہمت پیدا کرنے کے ساتھ ، ساتھ خبر کے تئیں غیر جانبداری برتنے کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ مرحوم ہمیشہ اس بات کو ذہن نشیں کراتے تھے کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لئے کس پتھریلے اور نوکیلے راستے سے گذرنا پڑا یہ وہی جانتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ اردو چینل کا لائسینس لینا جوئے شیر لانے کے برابر ہے اول تو مسلمان اور اس پر سے اردو چینل ،حکومت کے سینے پر سانپ لوٹنے جیسا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ مجھے چینل کے لئے لائسینس بہت جدو جہد کے بعد ملے ہیں اس لئے اسے لائسینس کو برقرار رکھنا آپ سبھی اسٹاف کے ہاتھ میں ہے۔یقینا وہ آج ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن انکی یادیں انکی باتیں انکا درس اب بھی دل کے نہاخانے میں محفوظ ہے۔انکے اس طرح اچانک چلے جانے سے اردو صحافت میں ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے جسے بھرنے میں کئی عرصے لگ جائیں گے۔ انکی رحلت پر پورے حیدرآباد شہر میں صف ماتم ہے ،سبھی اسٹاف غمگین ہیں ۔ منصف چینل کے انچارج محمد مجیب ،سابق انچارج سید اعجاز علی،سینئر اینکر، مصطفیٰ محسن ، محمدحسام الدین، فرحاد بھائی ،جمیلہ اور نیہا صاحبہ کے علاوہ مونس انور اورمحمد شکیل ، کاپی ایڈیٹر میں محمد مقبول احمد، مولانا ممتاز،کیمرہ مین میں محمد حمید خان، محمد علی بھائی، پی سی آر میں کاکا اورمحمد حسام نے اظہار تعزیت کیا ہے انکا کہنا ہے کہ مرحوم خان لطیف محمد خان ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے انکے رحلت سے سبھی سوگوار ہیں۔

You might also like