Baseerat Online News Portal

روداد برائے عوامی نشست مدرسہ چشمئہ فیض ململ

روداد برائے عوامی نشست مدرسہ چشمئہ فیض ململ

کاشف حسن.

بتاریخ 8 اگست ایک عوامی نشست مدرسہ چشمہ فیض ململ کے احاطے میں ہوئی ، جہاں بھر پور غور وخوص عوامی اتفاق رائے اور مشورے سے مدرسہ چشمئہ فیض ململ شاخ دارالعلوم ندوہ العلماء کی زمداری جناب مولانا فاتح اقبال ندوی و قاسمی جانشین مولانا وصی احمد صدیقی رح اور مولا مکین احمد رحمانی رح کے سپرد کی گئی،

ایک طویل بحث و مباحثہ اور دورس نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ خلا کو پر کرنے اور باظابطہ زمداری آپسی معاونت ہر اتفاق راے کے نتیجے میں مولانا فاتح اقبال ندوی قاسمی کو مدرسہ ہذا کی زمداری کا بارگراں سونپ دیا گیا،

ململ کے عوام و خواص نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے جو نمایاں خوبی پیش نظر رکھی ان میں تدبر، معاملہ فہمی ، ،فیصلہ سازی اصابت راے ۔ استقامت، تجربہ ۔منجمینٹ کی صلاحیت تھی،

اسی طرح مولانا فاتح اقبال ندوی وقاسمی کے انتخاب پر جو تعقل پسندانہ رائے ململ کی عوام نے بطور دلیل پیش کی ان میں چند کچھ اس طرح تھیں ،

مولانا فاتح اقبال ندوی و قاسمی کو حضرت مولانا وصی احمد صدیقی رح اور مولانا مکین احمد رحمانی رح کی رفاقت حاصل رہی۔

 

ایک لمبا تجربہ کئی سالوں پر محیط مولانا کو اپنے دونوں سرہرست کی حاصل رہی جہاں انھوں نے نرم گرم حالات دیکھے اور محدود وسائل کے ساتھ زمینی کوشش میں بطور زمدار جو پریشانی پیش آسکتی ہیں ساتھ رہ کر مولانا نے اپنے ان دونوں سرپست سے بھت کچھ سیکھا ،چانچہ مولانا کو ایک لمبا تجربہ حاصل ہے ،،

اسی طرح ماضی قریب کے کچھ سالوں میں بطور زمدار جامعہ فاطمہ الزہراء کی تیز گام ترقی جو نتائج شکل میں لوگوں نے مشاہدہ کیا ان کو بطور دلیل پیش گیا ،اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھر کے زمدار نواجوان اور نئے خون جو ملک بھر میں بطور زمدار دینی و عصری مدرسے اور انسٹیٹیوٹ اور تحریکات کامیابی کے ساتھ چلاریے ہیں ،ان سے تعلقات، مزید ملک کی موجودہ صورت حال خصوصا مدارس اور مسلمانوں سے متعلق ملی کاز پر تحریکی ازاہان کےساتھ مولانا کی دلچسپی اور براہ راست عملی شکل میں مختلف پروگرام سے اس کا اظہار

یہ تمام وہ باتیں تھیں جس کی وجہ سے ململ کی عوام خواص نے مولانا فاتح اقبال ندوی وقاسمی کا انتخاب مدرسہ چشمہ فیض ململ کے لیے بطور زمدار اور مہتمم کے کیا ۔

پروگرام کا ایک دوسرا، مرحلہ اندون اور بیرون ملک میں موجود ململ کی ان شخصیات / سرپرست / برزگ / اور چشمئہ فیض کے فیض یافتہ خیرخواہوں کے تحریری پیغامات اور آڈیوڈ میسج پر مشتمل تھا، جو اس وقت گاوں میں موجود نھی ہیں

تمام خیر خواہوں نے اہنے پیغام میں مدرسہ کے ساتھ والہانہ محبت کااظہار کیا اسی طرح مولانا فاتح اقبال ندوی وقاسمی کو اس عہدے کے لیے موزوں تر قرار دیا، ان سب میں بیشتر نے اپنے پیغام میں مجلسہ عاملہ اور شوارائی کمییٹی بنائے جانے پر زور دیا جہاں صاحب ثروت، صاحب علم، اور صاحب رائے کی ایک کمیٹی ہو جو کسی بھی نرم گرم حالات اور بحران سے مدرسہ کو نکالنے میں مددگار ثابت ہوسکیں ،وہیں شورائی نظام کے عملی نفاز پر یہ بھی دلیل دی گئی کہ شوارا میں شامل ممبران مدرسہ کے مخلص ہوں اور شعوری طور پر مدرسہ سے قلبی لگاو ان میں موجود ہوں اسی طرح اخلاص کے ساتھ مدرسہ کے کام میں معاون میں ہوں،

اس جانب بھی توجہ دلائی گئی

شورا سیاسیت کی طرح حزب مخالف جماعت بن کر ایکشن اور ریکشن کے عمل میں مبتلا نہ ہوں یا وہ اپنے عمل سے اس بات کا اظہار نہ کریں، کہ جیسے پارلیمنٹ میں خرب مخالف کے رول پلے کر رہے ہوں،

پروگرام کا آخری مرحلہ صدارتی گفتگو پر مشتمل تھا اس سے قبل

جناب مولانا فاتح اقبال ندوی وقاسمی نے انتخاب میں اپنے نام کے آنے پر خدا کی حمدو و ثنا کے بعد مشروط رائے کا ساتھ اس بار گراں کو قبول کرنے کی زمداری لی ،

مولانا نے اپنی گفتگو میں یہ واضح طور پر کہا کہ میں یہ زمداری اس وقت قبول کرونگا جب آپ عوام وخواص کا ساتھ ہو میری زاتی کوئی حثیت نھی نہ مدرسہ کسی فرد واحد کی موروثی شے ہے ۔مدرسہ ایک تحریک کانام ہے اور موجودہ منظر نامے میں جہاں تشخص کا مسئلہ مسلمانان ہند کو درپیش ہے ایسے میں اسلامی تشخص کے قلعے میں اسی وقت زندگی دوڑ سکتی ہے جب آپ تمام اہالیان ململ مدرسہ کو اپنی زمداری سمجھیں ،مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ گاوں کا ہر ایک فرد مدرسہ کا زمدار ہے اگر وہ ایک زندہ سماج کا حصہ ہے حساس طبیعت کا مالک ہے سنجیدگی کے ساتھ گاوں کے مستقبل کے کوشاں ہے اور اپنے جذبات کو گاوں کی تعلیمی ترقی سے مہمیز کرتا ہے ایسا ہر شخص ہمارا معاون اور زمدار ہے ۔

آخر میں صدارتی گفتگو مولانا معین ندوی امام وخطیب جامع مسجد ململ ناظم تعلیمات مدرسہ ہذا کی ہوئ جہاں مولانا نے سب کی راے کے ساتھ اتفاق کا اظہار کیا، اس طرح مولانا فاتح اقبال ندوی وقاسمی کے نام کے ساتھ دعاؤں کے جھرمٹ میں مہر ثبت کردی گئی،،

پروگرام کی نظامت مولانا عبد الخالق ندوی صاحب نے بہتر کوڈیشین کے ساتھ عوامی اظہار رائے کو نتیجہ تک پہونچانے میں بہتر رول پلے کیا ۔

You might also like