Baseerat Online News Portal

*کرناٹک میں ٹیپو سلطان شہید ؒ کی تاریخ کو نصابی کتابوں سے ہٹایا جانا : آزاد ہندوستان کی تاریخ پر ایک بدنماداغ* ✍🏻 از قلم : عبد الرحمن چمپارنی

*کرناٹک میں ٹیپو سلطان شہید ؒ کی تاریخ کو نصابی کتابوں سے ہٹایا جانا : آزاد ہندوستان کی تاریخ پر ایک بدنماداغ*

✍🏻 از قلم : عبد الرحمن چمپارنی ؔ

مرد مجاہد ، انگریزوں اور مرہٹوں سے مقابلہ کرنے والے ، ہندوستانی عوام وباشندوں کی غلامی نہ دیکھنے والے ، آزاد خیال، آزادفکر ، اور آزادی کو چاہنے والے ، اور پھر فرنگیوں پر غالب آکر اپنی خواب کی شرمندہ ٔ تعبیر کرنے والے ، ملک عزیز کو انگریزوں کی ظلم و استبداد سے خلاصی دلانے والے ،شریعت و دین سے واقف ، عاشق دین ، محب وطن ، وہ تھے شیر میسور حضرت سلطان ٹیپو شہید ؒ

آپؒ ۲۰؍ نومبر ۱۷۵۰ ء بہ مطابق ۲۰؍ ذی الحجہ ۱۱۶۳ ء کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے ، موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے ، جو بنگلور شہر کے ۳۳ ؍ کلومیٹر ۲۱ ؍ میل شمال میں واقع ہے ، ٹیپو سلطان کانام آرکاٹ کے بزرگ ٹپیو کے مستان اولیا کے نام پر ہے ، آپ ؒ کو اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہاجاتا تھا ، حید ر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خا ص توجہ دی اور فوج اورسیاسی امور میں اسے نو عمری میں ہی شامل کیا ۱۷؍ سال کی عمر ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانے اختیار دے دیا اسے اپنے والد حید ر علی جو جنوبی بھارت کے سب سے طاقتور حکمراں کے طو رپر ابھر کر سامنے آئے ، آپ ؒ نے اپنی تمام عمر انگریزوں سے جنگ کی اور انہیں کئی ایک مرتبہ شکست فاش بھی کیا ، آپ ؒ ہی نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کیاور بر صغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے ، آپ ؒ نے انتہائی دورس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذکیں ، صنعت و تجارت کو فروغ دیا ، آپ ؒ انگریزوں سے لڑنے کے لیے اور انہیں ہندوستان سے نکال باہر کرنےکےلیے ایران ، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں ، مگر کامیاب نہ ہوسکے ، میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنکا پٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ،ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھر پور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کرادودیا ، لیکن غادر وں اور دھوکہ بازوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑگئی ، اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو بھاگ جانے کا مشورہ ہ دیا ، اور بالآخر ۴؍ مئی ۱۷۹۹ ء کو میدان جنگ میں دشمنوں لڑ تے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کردیا ، آپ ؒ ہی کاملفوظ تھا ، ‘‘ شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ کی زندگی سے بہتر ہے ’’ آپ ؒ تمام عمر ہندوستانی باشندوں کی آزادی کے لیے کوشاں اور فکر مند رہے ، اسی چیز کی فکر میں آپ ؒ شہید ہوئے ، مگر افسوس ، معاندین اور دشمنوں نے آپ ؒ کی شخصیت کو مجروح کر نے کی کوششیں شروع کردی ، چناچہ سب سے پہلے مستشرقین نے آپ ؒ کو ہدف نشانہ بنانا چاہا ، پروفیسر خلیق احمد صاحب نظامی ؔ ؒ علی گڑھی نے ، سابق وائنس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سیرت ٹپیو سلطان شہید ؒ کے پیش لفظ میں لکھا ہے

‘‘ ٹیپو سلطان کے حالات زندگی پر سب سے پہلے مستشرقین نے توجہ کی ، لیکن ان کا مقصد سلطان شہید ؒ کو ایسے معاندانے رنگ میں پیش کر نا تھا کہ ان کی شخصیت کسی تحریک کا مرکز نے بن سکے ، لیکن جب ہندوستانی مؤرخین نے ان کے حالات زندگی کو تفصیل سے لکھنا شروع کیا تو صورت حال بدل گئی ، ’’

دیکھئے : سیرت سلطان ٹیپو شہید ؒ ، مصنف : مولانا محمد الیاس صاحب ندوی ؔ ، مط ، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ ، سن اشاعت و باردوم : ۱۴۲۰۔۱۹۹۹ء ( ص؍ ۲۱)

انگریز تو خیر ان کے خون کے پیاسے تھے ، اپنی دشمنی ، تعصب ، تنگ نظری ، بدگمانی ، ملک گیر اقتدار و دولت کی ہوس میں انہوں نے سلطان پر ایسے ایسے الزامات تراشے جو قیاس بھی نہیں کئے جاسکتے ، لیکن افسو س اور دکھ کہ برادران وطن نے مسلمانوں کی تاریخ مسخ کرنے ، مسلمانوں کو بدنام کرنے کے چکر میں ٹپیو سلطان کی حالات زندگی کو مسخ کردیا ، تعصب انگیزی تعصب ذہنی اور تعصب رویہ کی پتہ اس وقت چلاا جب انہوں نے کر ناٹک میں ایک عرصہ سے کوشش کر تے کرتے کرونا وائرس کے زمانہ میں کل ۸؍ ذی الحجہ ۱۴۴۱ ھ بہ مطابق ۳۰؍ جولائی ۲۰۲۰ ء بہ روز جمعرات کو ٹیپو سلطان شہید ؒ کے متعلق کتابوں کی نصاب کو اسکول اور کالج سے کرونا وائر س کے بہانے خارج کردیا ، کرونا وائر س اور نصاب کا مختصر کرنا تو در اصل ایک بہانہ ہے ، کسی اور کتاب یا کسی اور حصہ کو خارج کیا جاسکتا تھا ، آئیے حقیقت جانیں ان کا پلان اور منصوبہ جو پہلے سے ہی تھا ، کروانا وائر س اور حالیہ وقت میں جب کہ ہرشخص بیماری سے بچنے کی احیتاطی تدابیر کر رہا ہے ، ایک دوسرے سے دوری اور بعدی اختیار کر رہا ہے ، اقتداری لوگوں نے خیال کیا کہ عوام الناس بالخصوص مسلمانان ہند کرونا وائر س اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کے کسی غلط پالیسی اور غلط رویہ کے خلاف آواز بلند نہیں کر یں گے ،اور صدائے حق نہیں اٹھائیں گے ، حالاں کہ یہ ان کی خام خیالی ہے ، جب تک جسم میں جان اور دل میں ایمان رہے گا ، ان شا ء اللہ تعالی ! حق کے سر بلند ی کے لیے ندائے پرچم اسلام اٹھتا رہے گا ، اور باطل کے خلاف آوازیں و صدائیں اٹھتی رہے گی ، پڑھیئے اور روشناس ہوئیے ان کے مکارانہ عیارانہ چال اور پرو پیگنڈہ سے

ٹیپو سلطان سے متعلق ابواب درسی کتابوں سے ہٹائے جائیں گے

‘‘ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۹ ؁ء ۲؍ ربیع الاول ۱۴۴۱؁ ھ کو کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یوریا نے کہا کہ ٹیپو سلطان کو عظیم بتانے والے تاریخ کے اسباق کو اسکول کی درسی کتابوں سے ہٹایا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ریاست میں ٹیپو سلطان سے متعلق تاریخ کے اسباق کو درسی کتابوں سے ہٹانے کی کو شش کررہی ہے ، اس طرح کے موضوعات کو درسی کتابوں میں جگہ نہیں ملنی چاہیئے ، انہوں نے کہا کہ ۱۰۱ ؍ فیصد ی ہم اس طرح ک چیزیں نہیں ہونے دیں گے ، اس کے فورا ً بعد بی جے پی کر ناٹک نے ٹو ئٹ کیا کہ ‘‘ ٹیپو جینتی ’’ کی عوامی تقریبات کا خاتمہ کرکے ، ہمارے وزیر اعلی نے ریاست کی عزت بحال کی ہے ، اگلے قدم کے طور پر ہمارے بچوں کے سامنے اصلی ٹیپو سلطان کو لانے کے لیے درسی کتاب کو پھر سے لکھنے کی ضرورت ہے ، ان کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ٹیپو نے ہندؤوں کے خلاف ظلم کیا اور وہ کٹر مخالف تھا ، وزیر اعلی یدی پورپا کا بیان کرناٹک کے بی جے پی ایم اے رنجن کے اس مطالبے کے بعد آیا ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا

‘‘ ٹیپو سلطان سے متعلق سبق کو درسی کتاب سے ہٹایا جائے ’’

اس سے پہلے کرناٹک کے وزیر تعلیم سر یش کمار نے افسروں سے کہا تھا کہ وہ ۱۸؍ ویں صدی کے میسور ریاست کے متنازع حکمراں ٹیپو سلطان پر مشتمل باب کو تاریخ کی نصابی کتابوں سے ہٹانے کے بی جے پی ایم اے کے مطالبے پر غور کریں اور تین دن میں رپورٹ دیں ۔

دیکھئے اور پڑھیئے اور انقلاب ، اخبار ،بہ روز جمعرات ، ۳۱ ؍ اکتوبر ۲۰۱۹ ء ؁ ء ۲؍ ربیع الاول ۱۴۴۱ ھ ؁ ( جلد نمبر؍ ۷ شمارہ نمبر ۲۶۶ )

آپ نے دیکھا ، زہر آلو د ، تنگ نظر ،اور تعصب آمیز فکر اور سوچ کو، کل اس کا شرمندہ ٔ تعبیر کیا گیا ، اور اس گندی ، گھٹیا سوچ کے مطابق کرونا اور نصاب کے بہانے لے کر ٹیپو سلطان سے متعلق ابواب کو ساتویں کلاس کے نصاب سے خارج کردیا گیا ، پڑھئے کل کی تازہ خبر اس کے متعلق

‘‘ ۳۰؍ جولائی ۲۰۲۰ ء؁ ۸؍ ذی الحجہ ۱۴۴۱ ھ کو کویڈ وبا کی وجہ سے کرناٹک میں ٹیپو سلطانؒ کی تاریخ کو ساتویں جماعت کے نصاب کتاب سے ہٹایا گیا ہے ، وجہ یہ بتایا گیا ہے کہ ۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول کے کام کرنے کے دنوں میں کمی کی وجہ سے نصابی کتابوں سے کچھ نصابات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اور ٹیپو سلطان سے متعلق اسباق کو کتابوں سے نکال دیا گیا ’’

دیکھئے : اخبار بہ نام : تاثیر پٹنہ ، ۳۱ ؍ جولائی ۲۰۲۰ ء ؁ ۹؍ ذی الحجہ ۱۴۴۱ ھ ؁ ( جلد نمبر : ۸ شمارہ نمبر : ۲۱۲ صفحہ نمبر ۱۱

یہ ہے اس وقت کے حکمران اور اقتدار پر بیٹھے لو گوں کی سازشیں ، پرو پیگنڈیں اور اس کا نتیجہ کہ جس کی وجہ سے دن بہ دن مسلمانوں کے داخلی ، شرعی اور اعتقادی مسائل میں دخل اندازی کی جارہی ہے ، اور مسلمانوں کو ہراساں ، سرگرداں ذہنی و جسمانی اعتبار سے پریشان کیا جارہا ہے ، بیان کرنے کی ضرورت نہیں سب حالات ہمارے سامنے ہیں ، گذشتہ پر سو کی بات ہے کہ ایک بی جے پی لیڈر نے مسلمانو ں کے خلاف بدکلامی اور بدزبانی کی اور کہا کہ مسلمانوں کو قربانی کرنی ہے تو اپنے بچوں کی قربانی کریں ، اور کل گذشتہ ۳۰ ؍ جولائی ۲۰۲۰ ء کوہندوستان کے عظیم شخصیت شیر میسور ٹیپو سلطان پر قد غن لگاکر ان کے متعلق کتابی ابواب کو نصاب سے خارج کردیا گیا ،

مسلمانان ہند کی ذمہ داریاں

پہلی ذمہ داری : یہ ہے کہ مسلمانان ہند اس غلط پالیسی اور پروپیگنڈہ کے خلاف آواز بلند کریں ، مسلم قائدین عظام مسلم تنظیموں اور جماعتوں کے طرف سے میمورنڈم دیں اور کرناٹک حکومت سے علی حالہ ٹیپو سلطان کے حصے سے متعلق نصاب کے بقاء کا مطالبہ کریں ،اور مسلم مجاہدین آزدای اور اکابر پر غلط بیانی کرنے والوں پر حکومت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کریں،

دوسری ذمہ داری یہ ہے مسلمان اپنی اولاد کو اسلامی تعلیم ، اسلامی تاریخ اور ہندوستان کی تاریخ سے ضرور بالضرور روشناس کرائیں اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ ،اکابرین و قائدین و حکمران مسلم کے کار کردگیوں سے آگاہ کیا جائے ، ورنہ یہ دن دور نہیں کہ غیر مسلمانوں کے تاریخ پورے طور پر مسخ کردیں گے اور خود مسلم طلباء ، پڑھے ، لکھے لوگ غیروں کے پھندے میں آکر پھنس جائیں گے ، اور ان کی سپوٹر کر کے خود اپنے پیروں میں کلہاڑی مار لیں گے ، اگر کہاجائے کہ دور حاضر میں ایسا ہورہاہے تو غلط نہیں ہوگا ،

مسلمانوں کی کمی اور کوتاہی کی وجہ ہے کہ غیر اسلامی تاریخ اور ہندوستانی تاریخ کو مسلمانوں کے خلاف توڑ موڑ کر پیش کر کیا جارہا ہے اور مسلمان بہ چشم خود دیکھ رہے ہیں ، بعض جگہوں پر تو ایسے لوگوں کی خود مسلمانوں کی طر ف سے حمایت مل رہی ہے ، او ریہ ظاہر ہے کہ جب مسلمان اپنی تاریخ کو نہیں پڑھیں گے ،تو غیر اپنی زبانوں میں جھوٹ اور غلط واقعات لکھ کر اپنے اسکولوں میں نصاب میں داخل کردیں گے اور جب نونہالان اسلام اسکول اور کالج میں ان کی تحریر کردہ اپنی تاریخ پڑھیں گے تو ان کے رگ ور یشہ میں خود اپنوں کے خلاف زہر بھر جائے گا اور آج ایسا ہوبھی رہا ہے ، آپ نے انقلاب اخبارکی خبر میں دیکھا کس قدر زہر اور آگ ہے ، جس میں یہ بھی ذکر ہےکہ ٹیپو سلطان ؒ ہندوؤ ں کے ساتھ بھید بھاو ٔ کرتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے ، حالانکہ آپ ؒ کا معاملہ ایسا ہر گز نہیں تھا ، آپ خود ملاحظہ فرمائیں ، ایک انگریز کی تحریر جن کے خلاف آپ ؒتھے اور جن کو آپ ؒنے اپنے رفقا ء کے ساتھ مل کر ہندوستان سے نکال باہر کیا اور غلام ہندوستان کو آزادی کے فخر سے اونچا کرایا ،

ایک انگریز مورٔخ مور ٹیپو سلطان شہید اور ان کے سلطنت کے بارے میں لکھتا ہے ،

‘‘ جب آپ اجنبی ملک سے گذر رہے ہوں ، اور دیکھیں کہ زراعت ترقی پر ہے ، شہر آباد یں ، صنعت و حر فت کو ترقی ہو رہی ہے ، تجارت فروغ پا رہا ہے ، اور پر گام ترقی یہ ظاہسر کر رہی ہے کہ رعایا خوش حال ہے تو سمجھ لو کہ حکومت عوام کی مرضی کے مطابق ہے ، یہ ہے ٹیپو سلطان کی حکومت کا نقشہ ’’

دیکھئے : سیرت سلطان ٹیپو شہید ؒ ، مصنف : مولانا محمد الیاس صاحب ندوی ؔ ، مط ، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ ، سن اشاعت و باردوم : ۱۴۲۰۔۱۹۹۹ء (ص ؍ ۲۸

اس اقتباس سے یہ بات بے غبار ہوجارہی ہے کہ ٹیپو سلطان شہید ؒ کے ساتھ حکومت کرناٹک کا رویہ سرا سر تعصب آمیز ، تنگ نظری کی دلیل ہے ، ایسا سب اس لیے کیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان تھے ، اور اس وقت مسلمانوں کو ہراساں کرنا مقصود بھی ہے، مگر مسلمانان ہند کو چاہیے کہ وہ کسی طرح کا کوئی خدشہ ، ڈر اور خوف محسوس نے کریں ، بل کہ اسلامی تعلیم سے آگاہ ہو ، تاریخ اسلام ، تاریخ ہند سے شناسائی حاصل کریں ، اللہ تعالی توفیق بخشے ، اورہمیں حق اور سچ کاشیدائی بنائے ، اور شر پسندوں کی شر پسندی سے محفوظ فرمائے ،آمین ثم آمین

You might also like