Baseerat Online News Portal

صبح کی بات

فہیم اختر ندوی

 

السلام علیکم

 

ملکی دستور میں سب کےلئے تعلیم اور سائنسی ذہن پیدا کرنے کی بات بے انتہا اہم رکھی گئی ہے۔۔۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں کئی جگہ الفاظ تو یہی لائے گئے ہیں، لیکن پالیسی کی پوری تفصیل اس کے خلاف ہے۔۔۔ اور یہی اس پالیسی کی پہچان ہے، یعنی دعوے کچھ اور کام دیگر۔۔

 

دیو مالائی کہانیوں اور تاریخ میں گم مذہبی اصطلاحوں اور پراچین کال کی بھول بھلیوں میں واپس لے جانے سے کیا سائنس کی موجودہ ترقیوں سے ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے؟ کجا کہ سائنسی جستجو اور تردید و تنقید کا ذہن بنے۔۔ جدید اصلاحی اور تعلیمی تحریکات، اور بھارت کی تعمیر کرنے والے عہد وسطی اور عہد جدید کے ہمارے آدرش پرشوں کے نظریات کو پڑھے بغیر تعلیمی ترقی کا کون سا ذہن تشکیل پاسکتا ہے؟ خیالات کی آزادی اور جمہوری روح کی پرورش کیا جدید دنیا کو پڑھے بغیر بھی کی جاسکتی ہے؟ ۔۔ موجودہ پالیسی ان تصورات کو بری طرح مجروح کررہی ہے۔۔۔

 

غریبی سے جھوجھ رہے اس ملک میں موجودہ مہاماری کی خطرناک غربت کے موقع پر بھی’ سرکار نے تعلیم کی ذمہ داری اٹھانے سے ادائے معشوقانہ کے انداز میں پلہ جھاڑ لیا ہے۔۔ غور کیجئے۔۔ آنگن واڑی میں تین سال کی تعلیم کےلئے وہی دسویں تعلیم والے اساتذہ ہوں گے، رضاکار کی مدد لی جائے گی، اور ساتھی طلبہ ایک دوسرے کو پڑھائیں گے۔۔ تو نئے اور ماہر اساتذہ کی ضرورت ختم ہوگئی۔۔ اور ایسے اساتذہ کو نوکری بھی نہیں مل پائے گی۔۔ اسکول اپنے وسائل ایک دوسرے سے بانٹیں گے، تو گویا ہر جگہ اسکول کی ضروریات پوری نہیں کی جائیں گی۔۔ اور بچے کچھ تعلیم یا اکٹیویٹی کےلئے اپنے اسکول سے دور کے دوسرے اسکول جانے پر مجبور ہوں گے۔۔ تو ان کی تعلیم خراب ہوگی۔۔ اور اس پر پردہ ڈالنے کےلئے اب تعلیمی مضامین کے برابر ہی دوسری چیزیں جیسے کھیل کود ڈانس فلم بینی اور صحت وغیرہ رپورٹ کارڈ میں شامل کرکے اچھا نتیجہ دکھایا جائے گا، خواہ بچے اصل مضامین میں بودے ہوجارہے ہوں۔۔ آگے بھی ایسے بچوں کو امتحان کا خوف نہیں رہے گا۔۔ تو تعلیمی قابلیت کا ستیاناس مزیدار طریقہ پر کیاجاتا رہے گا۔۔ یہ بچے کون ہوں گے؟ وہی غریب کمزور اور چھوٹی ذاتوں و اقلیتوں کے بچے جن کی اکثریت ہے۔۔۔

 

پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو ترغیب دی گئی ہے، مال دار گھرانوں کو اس کےلئے قانون حق تعلیم جس میں تعلیم کے معیارات اور وسائل پر سختی رکھی گئی تھی، اس میں ڈھیلاپن لانے کا یقین دلایا گیا ہے۔۔ اسکول کے انتظام اور اساتذہ کی تقرری ان کی مرضی کے مطابق ہوگی۔۔ تو ایسی صورت میں یہاں صرف خوشحال افراد کی تعلیم ہوسکے گی۔۔

 

اعلی تعلیم کو تو اس طرح زک اور زد پہنچایا جارہا ہے کہ پھر کوئی آہ بھی نہ کرسکے، اور ان کی نسلیں غلامی میں چلی جائیں۔۔ اس پالیسی کے مطابق اب جو افراد اپنی غربت اور دیگر پریشانیوں کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پائیں گے، ان کو منصوبہ بند طریقہ سے آئندہ محروم بنا دینے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔۔ ایک سال پر تعلیم چھوڑنے والے کو سرٹیفیکٹ دے کر کالج اور سرکار نے اپنا پلہ جھاڑ لیا ہے، دو سال پر ڈپلومہ کا کاغذ دے کر انھیں الوداع کہہ دیاگیا ہے۔۔ اس ڈگری پر ان طلبہ کو کہیں نوکری نہیں مل سکے گی۔۔ یہ سرٹیفیکٹ اور ڈپلومہ تو کسی خاص مضمون کا بھی نہیں ہے کہ اس کی اہمیت ہو، یہ محض گریجویشن کی چھوٹی تعلیم ہے۔۔ اور یہ طلبہ کیا پھر اس حیثیت میں آپائیں گے کہ تعلیم آگے بڑھاسکیں؟ ۔۔۔ تو ایسے طلبہ کی بھاری تعداد اعلی تعلیم سے پیچھے رہ جائے گی، اور سرکاری کاغذ پر ڈراپ آؤٹ زیرو ہوگا۔۔۔ تو یہ بھی اس پالیسی کی خاص پہچان ہے۔۔۔

 

ریسرچ کسی قوم کی ترقی کےلئے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔۔ موجودہ پالیسی میں یہ ایک بندھوا مزدور بن گیا ہے۔۔ ذرا غور کیجئے۔۔ پورے ملک کے ریسرچ پر نگرانی کےلئے ایک علاحدہ انتظامی ادارہ بنایا گیا ہے جو وزیر اعظم کے ماتحت ہوگا۔۔ اب آپ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ اس ادارہ کے ذریعہ کیسا ریسرچ ہوگا، اور کن تحقیقات کے دروازے بند ہوجائیں گے، گذشتہ چند برسوں کی تصویر نظر میں لے آئیے۔۔ سچ، سوال، تنقید، تردید، اور تحقیق کے بغیر صرف طوطے کی آواز دوہرانے سے ریسرچ کا کیسا معیار بنے گا اس کا اندازہ لگالینا چاہئے۔۔

 

اور سب سے اہم بات یاد کرلیجئے۔۔۔ پچھلے برسوں میں تعلیم کے کتنے اعلی ادارے قائم ہوئے، کتنے اسکول کھولے گئے، تعلیم پر کتنا خرچ کیاگیا، تعلیمی اداروں میں فکر و تحقیق رکھنے والے کتنے افراد کو عہدے دئے گئے، اداروں کی سربراہی طے کرنے کا معیار کس قابلیت کو بنایا گیا، اور تعلیمی اداروں میں جمہوری قدروں اور تعلیمی تحقیق کی کس روح کو پروان چڑھایا گیا؟؟؟۔۔۔ بس ماضی کے برسوں کی یہی روایت آگے کی ہر شکل درشا دے گی۔۔

 

اس تعلیمی پالیسی مسودہ کو لائن لائن اور حرف حرف پڑھئے، نشانات لگائیے، اور دیکھئے کہ اس کے چمکتے الفاظ کے پہلو بہ پہلو ہی، اور اس کی لائنوں میں ہی کیا کچھ لکھ دیا گیا ہے۔۔ زیادہ تر صاف، اور بہت سی جگہ اشاروں میں۔۔۔ پڑھئے اور خود واقف بنئے اور دوسروں کو واقف کیجئے۔

 

خدا حافظ

 

11 اگست 2020

20 ذو الحجہ 1441

You might also like