Baseerat Online News Portal

چمپارن کی بیٹی روحینہ لطیف خان کی UPSC میں کامیابی سے نئی نسل کو حوصلہ ملے گا ۔۔۔۔۔۔، امتحان میں 718 ویں پوزیشن حاصل کرنے پر علمی حلقہ نے دی مبارکباد

رکسول۔10/اگست (محمد سیف اللہ)

یوں تو ہر شخص اپنی زندگی میں بڑے بڑے سپنے سجا کر کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنے کا عمل شروع کرتا ہے لیکن یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ زندگی کے قیمتی سفر میں کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو مشکلات اور دشواریوں کے سامنے سر جھکا دینے یا تھک ہار کر بیٹھ جانے کی بجائے عزم وحوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی منزل کو پانے کی جد وجہد کر تا ہے اور پھر اپنی زندگی میں کچھ کر لینے کی ٹھان کر جب وہ مکمل خود اعتمادی کے ساتھ آگے قدم بڑھاتا ہے تو راہ میں کھڑے رکاوٹوں کے پہاڑ بھی اس کے عزم وحوصلے اور خود اعتمادی کے سامنے سر جھکاکر انہیں اس طرح آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں کہ دنیا دیکھتی رہ جاتی ہے اور اس کی یہ بڑی کامیابی ایک بڑے طبقے کے لئے امید کی بن کر نمودار ہوتی ہے،یہ اور بات ہے کہ ایسے لوگ سماج میں انگلیوں پر گنے جاتے ہیں لیکن چمپارن کی ہونہار بیٹی روحینہ لطیف خان نے یوپی ایس سی کے امتحان میں 718 واں رینک حاصل کرکے پورے سماج کے سامنے اپنے عزم وحوصلے اور خود اعتمادی کی جو مثال پیش کی ہے اس سے نہ صرف ہر طرف مسرت چھائی ہوئی ہے بلکہ اپنی اس کامیابی سے انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی ملک وسماج کی نیک نامی کی علامت بنتے ہیں،روحینہ لطیف خان کیسریا بلاک کے بتھنا گاوں باشندہ طفیل احمد خان کی ہونہار بیٹی ہیں جن کی اس بڑی کامیابی سے پورا علاقہ خوشی میں ڈوبا ہوا ہے اور انہیں علمی حلقہ کی جانب سے مبارکبادیاں دی جارہی ہیں،بتادیں کہ طفیل احمد خان بھی سب انسپکٹر کی حیثیت سے ان دنوں چھتیس گڑھ میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں،روحینہ لطیف خان کی زندگی سے جڑی کہانیاں بتاتی ہیں کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم کوربا اسکول سے حاصل کی اور مرکزی یونیورسٹی درگ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے دوران بڑے بڑے سپنے دیکھے جن میں سے ایک آئی ایس بننا بھی تھا اور چونکہ وہ مشہور سائنس داں اور ملک کے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام صاحب کو اپنا آئڈیل مانتی ہیں اور ان کے راستے پر چل کر ملک وقوم کی خدمت کرنے پر یقین رکھتی ہیں اس لئے انہوں نے اپنے اس خواب کی تعبیر کے لئے نہ صرف ذہنی طور پر خود کو تیار کیا بلکہ اس خواب نے انہیں کبھی بھی سکون سے سونے نہ دیا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس وقت تک اپنی جد وجہد جاری رکھی جب تک ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوکر کامیابی نے ان کے قدم نہ چوم لئے،ظاہر ہے کہ روحینہ لطیف خان کی یہ بڑی کامیابی نئی نسل کے لئے نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے اور خاص طور پر جب کہ تقابل کے اس دور میں بڑی کامیابی تک پہنچنے کے لئے مسلسل تگ ودو کرنی پڑتی ہے روحینہ کا کامیابی کی اس منزل کو پانا ملک وقوم کے خوش آئند مستقبل کی علامت ہے،یہی وجہ ہے کہ صحافی عزیر انجم،محد اسلم,مفتی ضیاء الحق،مفتی نثار احمد،محمد سمیع اللہ،مولانارضوان اللہ،ابوالحسنات ندوی،شقلیں شمسی،مولانا معین الحق،محمد احتشام،نصیر احمد مکھیا اور ڈاکٹر طارق جمال سمیت سماج کے ہر طبقہ نے انہیں اس کامیابی پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان سے نیک توقعات وابستہ کی ہیں،جبکہ دوسری طرف خود روحینہ بھی اپنی اس کامیابی سے کافی مطمئن ہیں اور وہ اپنی اس کامیابی کا سہرا اپنے والدین اور اساتذہ کے سر ڈالتے ہوئے مکمل خود اعتمادی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ملک وقوم کی خدمات انجام دینا چاہتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ملک کو اس وقت نئی نسل کے عزم کی ضرورت ہے اس لئے اگر مجھے عملی زندگی میں ملک کے لئے کام کرنے کا موقع ملا تو میں ہر پل اپنے عزم کے ساتھ میدان میں کھڑی رہوں گی،انہوں نے کہا کہ نئی نسل اگر چاہ لیں تو وہ بہت کچھ کر کے دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے اور زمانے کے چیلنجوں کو قبول کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

You might also like