Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصورکو اعزازی کرنل رینک کا سرٹیفیکٹ پیش کیا گیا

علی گڑھ، 13؍اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کو آج ان کے دفتر میں بریگیڈیئر سنجے کادین (گروپ کمانڈر، این سی سی گروپ، علی گڑھ) نے کرنل منیش سریواستو (1یوپی انجینئر کمپنی این سی سی) اور کرنل آر کے سانگون (کمانڈنگ آفیسر، 8یوپی بٹالین، اے ایم یو) کے ہمراہ نیشنل کیڈٹ کارپس (این سی سی) کے اعزازی کرنل کے رینک کا سرٹیفیکٹ اور دیگر متعلقہ دستاویز پیش کئے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل راجیو چوپڑہ (پی وی ایس ایم، اے وی ایس ایم، ڈی جی این سی سی، اور مدراس رجیمنٹ میں کرنل) کے مطابق کرنل کمانڈنٹ کا اعزاز نامور شخصیات اور سینئر افسروں کو عطا کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس اعزاز سے این سی سی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، اچھے کیڈٹ سامنے آئیں گے اور اساتذہ کے اندر ایسوسی ایٹ این سی سی آفیسر کی حیثیت سے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا جذبہ بھی مضبوط ہوگا ۔

٭٭٭٭٭٭

راحت اندوری سچے معنوں میں عوام کے شاعر تھے: پروفیسر طارق منصور

علی گڑھ، 13؍اگست: ’’راحت اندوری سچے معنوں میں عوام کے شاعر تھے جنھوں نے ہمیشہ عام انسان کے مصائب و مشکلات کے لئے اپنے درد و کرب کا اظہار کیا اور ان کی آواز بنے‘‘۔ انھوں نے تشدد اور ناانصافی کے خلاف طاقتور احتجاج درج کرانے کے لئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا‘‘۔

ان تاثرات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے راحت اندوری مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ 

علی گڑھ برادری راحت اندوری کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتی ہے ، ان کی احتجاجی شاعری نے عصر حاضر کی اردو شاعری کو نئی جہت عطا کی۔ پروفیسر منصور نے اپنے بیان میں مزید کہا ’’راحت اندوری نے مشاعروں میں اپنی ایک انفرادی شناخت قائم کی اور اردو شاعری کو ہر خاص و عام میں مقبول کیا۔ ان کی شاعری نئی نسلوں کو تحریک دیتی رہے گی‘‘۔ 

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے تین طلبہ فلبرائٹ ایف ایل ٹی اے پروگرام کے لئے منتخب

علی گڑھ، 13؍اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ انگریزی کے تین طلبہ کو سال 2020-21 کے لئے امریکہ کے فلبرائٹ فارین لینگویج ٹیچنگ اسسٹنٹ (ایف ایل ٹی اے) پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ 

ڈاکٹر اِرم شاہین انصاری (یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا)، مس اینی جونس (یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن) اور مسٹر عبدالصبور قدوائی (یونیورسٹی آف جارجیا) کو اس نو ماہ کے ثقافتی تبادلہ پروگرام کے لئے منتخب کیا گیا ہے جسے یو ایس ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ اسپانسر کرتا ہے۔ پروگرام اگست 2020ء سے مئی 2021ء تک جاری رہے گا۔

ان کامیاب طلبہ نے اے ایم یو کے یوجی سی-ایچ آرڈی سنٹر میں ڈاکٹر صدف حسین اور ڈاکٹر اسجد حسین کی رہنمائی میں تربیت حاصل کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اے ایم یو کے ایک درجن سے زائد طلبہ و طالبات فلبرائٹ ایف ایل ٹی اے پروگرام کے لئے منتخب کئے جاچکے ہیں ۔ حال ہی میں ڈاکٹر شہ نور شان یونیورسٹی آف ٹیکساس سے ایف ایل ٹی اے پروگرام مکمل کرکے واپس آئی ہیں۔ 

٭٭٭٭٭٭

 ترکی ، ہندوستان اور مہاتما گاندھی کے موضوع پر پروفیسر ایچ ہلال شاہین کاخطبہ

علی گڑھ، 13؍اگست: ’’امن کی علامت کے طور پر دنیا بھر میں مشہور مہاتما گاندھی ہندوستانی سیاست کی اخلاقیات کا پیمانہ تھے جو ترکی میں پیش آنے والے واقعات اور تحریک خلاف سے کافی متاثر تھے‘‘۔ 

ان خیالات کا اظہار نامور اسکالر اور مؤرخ پروفیسر ڈاکٹر ایچ ہلال شاہین (گرسن یونیورسٹی، ترکی) نے کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام مہاتما گاندھی کے فکر و فلسفہ کے تھیم پر ویب ٹاک سیریز کے تحت خطاب کررہی تھیں ۔ ان کے خطاب کا موضوع تھا: ترکی، ہندوستان اور مہاتما گاندھی: خلافت تحریک کا عکس۔

پروفیسر شاہین نے کہاکہ گاندھی جی کے عدم تعاون کے فلسفہ کو خلافت کمیٹی نے ممبئی میں مئی 1920میں اپنایا تھا اور گاندھی جی نے کانگریس کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے بعد خلافت تحریک میں لوگوں کو شامل کرنے کے لئے ہندوستان کا وسیع پیمانہ پر دورہ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستانی سیاست میں عثمانی کاز کی قدر و قیمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد کیا تاکہ ہندوستان میں برطانوی راج سے بے اطمینانی کا اظہار کیا جاسکے۔ 

پروفیسر شاہین نے کہا ’’ینگ انڈیا کے ایک شمارہ میں گاندھی جی نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ترکی کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے خلاف متحد ہوں۔ انھوں نے لکھا ’’ہندوستان آج تیار نہیں ہے لیکن اگر آج ہم ہر اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہوتے ہیں جو ترکی کو تباہ کرنے یا ہماری غلامی کو طویل کرنے کے لئے رچی جارہی ہے تو ہمیں جلد از جلد ایک روشن خیال عدم تشدد کا ماحول پیدا کرنا ہوگا اور یہ کمزوروں کے عدم تشدد کے برعکس طاقتور اور مضبوط لوگوں کا عدم تشدد ہوگا جو قاتل نہیں بنیں گے بلکہ سچائی کو ثابت کرنے کے لئے مرجانا گوارہ کریں گے‘‘۔ 

پروفیسر شاہین نے مزید کہا ’’مہاتما گاندھی کی خدمات میں صرف یہی نہیں شامل ہے کہ انھوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف اور ہندوستان میں آزادی کے لئے تحریک چلائی بلکہ ان کی خدمات ترکی کی جنگ آزادی یا انقلاب میں بھی بہت نمایاں رہی ہیں۔ جب فاتح اتحادی طاقتیں ترکی کو تقسیم کرنے پر کمربستہ تھیں تو گاندھی ، ترکی کاز کے ایک عظیم اخلاقی حامی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے‘‘۔ 

ویب ٹاک سیریز کے اس آخری لیکچر کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ برطانوی راج سے آزادی کی جدوجہد کے دوران خلافت تحریک ایک بہت اہم تحریک تھی اور اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ کوششیں شامل تھیںاور یہ مشترکہ جدوجہد اور آگے بڑھی جب مہاتما گاندھی نے عدم تعاون تحریک کو خلافت تحریک سے جوڑا اور برطانوی راج کے خلاف عوامی غصہ اور ناراضگی کو ایک سمت عطا کی اور اسے مضبوط کیا ۔

وائس چانسلر نے اس موقع پر پروفیسر شاہین کو اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی ۔

مہمان مقرر کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسر ایم جے وارثی نے ہندوستان اور ترکی کے تاریخی رشتوں میں پروفیسر شاہین کی علمی خدمات کا خصوصیت سے ذکر کیا۔ پروفیسر عبدالسلام نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور پروگرام کی نظامت کی جب کہ پروفیسر وسیم احمد نے اظہار تشکر کیا۔ 

You might also like