Baseerat Online News Portal

سرحدی علاقہ کی تقدیر بدلنے کے لئے ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کرنی ہوگی :راکیش یادو، ایم آئی ایم جوائننگ کمیٹی کے انچارج نے بڑے پیمانے پر کیا اپنی مہم کا آغاز

رکسول ۔13/اگست ( محمد سیف اللہ )

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول،آداپور،چھوڑا دانو اور چین پور کا علاقہ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک جس بد حالی کے نرغے میں ہے اس سے نجات دلانے کے لئے ہمیں نہ صرف اپنے سیاسی منصوبے اور طریقہ کار بدلنے ہوں گے بلکہ نفرت کی سیاست سے بہت اوپر اٹھ کر علاقائی مفادات کے لئے کام کرنا ہوگا تاکہ یہاں کی عوام کو پرسکون ماحول میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکے یہ باتیں آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جوائننگ کمیٹی کا پربھاری بنائے جانے کے بعد سرحدی خطے کے سرگرم سیاسی لیڈر راکیش یا دو نے اپنے اخباری بیان میں کہیں انہوں نے ایم آئی ایم کو بہار کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جس طرح کی زہریلی سیاست پروان چڑھ رہی ہے اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو آئندہ اس کی بھاری قیمت یہاں کی عوام کو چکانی پڑے گی کیونکہ نفرت کی سیاست سے اگرچہ کچھ لوگ سیاسی فائدے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر اس طرح کی سیاسی پالیسی سے علاقہ کی بد حالی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ علاقہ کی ترقی کو مناسب سمت دینے اور اس پورے سرحدی علاقے کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کے لئے ہمیں نہ صرف ٹھوس منصوبہ بندی کرنی ہوگی بلکہ آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخاب میں ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا ہوگا جو مذہب اور ذات کی تفریق کو بھلا کر عوامی مفادات کے تحفظ پر یقین رکھتا ہو اور علاقہ کی تعمیر وترقی کے تئیں سنجیدہ اور ایماندار ہو،انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے رکسول اور نرکٹیا اسمبلی حلقہ کی شناخت کو بگاڑنے اور سیاسی فائدے کے لئے یہاں کی عوام کے آپسی اتحاد کو کمزور بنانے کی جو سازش رچی جارہی ہے اسے کسی بھی صورت کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا،کیونکہ اگر ایسا ہوا تو مستقبل میں اس کے نقصاندہ نتائج سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ جولوگ اب تک ان حلقوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں اب ان سے حساب مانگنے کے دن قریب آرہے ہیں اس لئے عوام کو اپنے بنیادی سوالات کے ساتھ اپنے نمائندوں سے ان کے کئے کا حساب مانگنے کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ مستقبل کی طرف خود اعتمادی کے ساتھ قدم بڑھانا آسان ہو،انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کی بہار اسمبلی الیکشن میں دھماکہ دار انٹری سے یہاں کے سیاسی ماحول کا رخ بدلے گا کیونکہ یہ ملک کی وہ منفرد پارٹی ہے جو نفرت کی سیاست کے سہارے آگے بڑھنے کی بجائے صرف عوامی فلاح اور ملک کے اندر سیکولرزم کی جڑوں کو بچائے رکھنے کی جنگ لڑنے کو ترجیح دیتی ہے اس لئے کہ ہم نے جس جمہوریت کے سائے میں اب تک کا سفر طے کیا ہے اگر وہ کمزور ہو گیا یا اس پر فرقہ پرستی کی چادر ڈال دی گئی تو یہ ملک اپنی وہ شناخت کھو دے گا جس کے لئے وہ عالمی سطح پر اپنی خاص شہرت رکھتا ہے،انہوں نے کہا کہ ماضی کے دنوں میں نرکٹیا اور رکسول اسمبلی حلقہ کی ترقی کے حوالے سے اگرچہ بڑی بڑی باتیں کی جاتی رہی ہیں مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ اسمبلی حقلہ آج بھی ترقی کی رفتار میں کافی پیچھے ہے اور نہ جانے کیوں اسے ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی عوام کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا ہے،ظاہر ہے کہ یہ اپنے آپ میں فکر مندی کی بات ہے جس کی وجوہات تلاش کرنی ہونگی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجلس اتحاد المسلمین سے متعلق کون کیا خیال رکھتا ہے اس سے قطع نظر ہماری پارٹی بہار کے شاندار مستقبل کے لئے سرگرم کردار ادا کرے گی کیونکہ پچھلے پندرہ سالوں میں بہار میں صرف ترقی کے نام پر دھوکہ بازی کا کھیل ہی کھیلا جاتا رہا ہے،نہ یہاں تعلیم وروزگار کے قابل اطمینان مواقع ہیں نہ غریبوں کی غربت کے خاتمہ کے لئے کوئی اسکیم،انہوں نے کہا کہ جالے سے پارٹی انتخاب لڑ کر جیت حاصل کرے گی اور اس کے لئے میں نہ صرف نوجوان ٹیم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاونگا،بلکہ مجھے یقین ہے کہ بہار کی عوام نفرت اور دھوکے کی چادر سے نکل کر اپنے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی ۔

You might also like