Baseerat Online News Portal

مولانا وصی احمد قاسمی کے انتقال پر بریلینٹ انٹرنیشنل اسکول میں تعزیتی نشست

مولانا وصی احمد قاسمی کے انتقال پر بریلینٹ انٹرنیشنل اسکول میں تعزیتی نشست

 

مدھوبنی ( عنایت اللہ ندوی ) مدرسہ چشمہ فیض ململ کے ناطم،جامعہ فاطمہ الزہراء ململ کے بانی و سرپرست اور معروف عالم دین حضرت مولانا وصی احمد قاسمی کے سانحہ ارتحال پر بریلینٹ انٹرنیشنل اسکول کھیری بانکا میں مولانا شبلی صاحب قاسمی قائم مقام ناظم امارت شریعہ کی صدارت میں دعائیہ نشست کا اہتمام کیا گیا،اس موقع پر ناظم امارت شریعہ نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا مولانا وصی احمد صدیقی ؒ علاقہ میں ایک دینی ،ملّی شخصیت کے طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی و سیاسی شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔پورا بہار بالخصوص متھلانچل میں اکابر علماءمیں انکا شمار ہو تا تھا۔امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے خاص تربیت یافتہ تھے۔ اس موقع پر بریلینٹ انٹرنیشنل سکول کے چیئرمین عبد الحئی صاحب نے مولانا وصی صدیقی صاحب سے اپنے والہانہ تعلقات کو اور ان کی شفقت و محبت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کے دنیا سے اچانک اس طرح رخصت ہونے کا گمان بھی نہیں تھا، لیکن قدرت کی ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، مرنے کا ایک وقت مقررہ کو ٹالا نہیں جاسکتا ، مولانا مرحوم عظیم نسبت کے حامل اور بزرگانہ اداؤں کے حامل تھے۔ ان کا وجود ملتِ اسلامیہ کے لیے بلاشبہ نعمت و برکت تھا۔ ان کے فیوض و برکات سے ایک عالم مستفیض ہواانہوں نے م،مولانا حسنین صاحب نے عبد الحئی نے مولانا وصی صدیقی صاحب سے اپنے والہانہ تعلقات کو اور ان کی شفقت و محبت کو یاد کرتے ہوئے کہیں ، انہوں نے دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کے دنیا سے اچانک اس طرح رخصت ہونے کا گمان بھی نہیں تھا، لیکن قدرت کی ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، مرنے کا ایک وقت مقررہ کو ٹالا نہیں جاسکتا ، مولانا مرحوم عظیم نسبت کے حامل اور بزرگانہ اداؤں کے حامل تھے۔ ان کا وجود ملتِ اسلامیہ کے لیے بلاشبہ نعمت و برکت تھا۔ ان کے فیوض و برکات سے ایک عالم مستفیض ہوا۔ساتھ ہی انہوں نے مولانا فاتح اقبال صاحب کو مہتمم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور ململ والوں کو اس حسن ا نتخاب پر داد و تحسین سے نوازا ،مولانا حسنین صاحب نے وصی احمد قاسمی اور مولانا مکین صاحب کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناظم صاحب اور نائب مہتمم صاحب کی حیثیت آفتاب و مہتاب کی طرح تھیں ان دونوں کو اللہ نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا، مدرسہ چشمہ فیض اور جامعہ فاطمہ الزہراء ان کی قربانیوں کی زندہ یادگار ہیں، وہ روشن ضمیر عالم دین تھے، حالات حاضرہ پر ان کی گہری نظر تھی،مولانا نسیم صاحب نے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس قحط الرجال کے دور میں حضرت ناظم صاحب کا انتقال ملک وملت کا بڑا خسارہ ہے، ناظم صاحب اسلاف کے نمونہ تھے، مشکل اور سخت حالات میں مسکرا کر کام کرنا ان کی فطرت تھی، انہوں نے کہا کہ سہی خراج عقیدت اس وقت ہوگا جب ان کے مشن کو اور ان کی تحریک کو اسی پرجوش انداز میں آگے بڑھایا جائے آپ بےشمار خوبیوں کے مالک تھے، مولانا غفران ساجد قاسمی نے مولانا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے ایک بہترین قائد اور میر کارواں تھے آپ کے تربیت یافتہ اور استفادہ کرنے والوں کی بڑی تعداد ملک بھر موجود ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، مولانا عبد الخالق صاحب نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ناظم صاحب اپنی خدمات کی بنیاد پر دیر تک یاد کئے جائیں گے، وہ اچھے منتظم، بہترین مربی اور شفیق استاذ تھے، طلبہ کے ساتھ بے حد شفقت ومحبت سے پیش آتے تھے ،اس موقع پر مدرسہ چشمئہ فیض کے نو منتخب مہتمم اور مولانا وصی احمد صدیقی اور مولانا مکین صاحب کے سچے جانشیں مولانا فاتح اقبال ندوی نے کہا کہ ناظم صاحب اسلاف کی زندہ جاوید مثال تھے،ہر ایک سے محبت کے ساتھ پیش آتے،اپنائیت کا مظاہرہ کرتے،انسانی خدمت کے کاموں میں پیش پیش رہتے، مولانا کا انتقال علمی دنیا کے لئے بڑا خسارہ ہے، انہوں نے کہا کے اب چونکہ چشمہ فیض کی ذمہ داری میرے کندھوں پہ آئی ہے تو ان شاءاللہ نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ چشمہ فیض کی ترقی اور اور اس کی ہمہ جہت کامیابی کے لئے پوری کوشش کرونگا ،نظامت کے فرائض بریلینٹ انٹرنیشنل اسکول کے ڈائیریکٹر سیف اللہ فہمی نے انجام دیا انہوں نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ حضرت کے انتقال سے دلی صدمہ پہنچا،ناظم صاحب رحمہ اللہ ہمارے مربی تھے،انہوں نے پوری زندگی مدرسہ کی خدمت میں گزار دی، خدا ان کی محنتوں کو قبول فرمائے،اس موقع پر مولانا عبدالغنی ، مولانا ابوالجیش ندوی ، عنایت اللہ ندوی ،طارق منہاج ، محمد منا ،رضوان اللہ ، صبغت اللہ ، ابو شہمہ ذبیح اللہ آر بی آر ، شفیع اللہ ، کلیم اللہ ، قاری غزالی ،محمد سالم ، عبد السلام ، عبد القیوم ، وغیرہ موجود رہے

You might also like