Baseerat Online News Portal

بہارکے ہائی اسکولوں میں اردو کی لازمیت ختم کرنابڑی سازش امارت شرعیہ نے کہا،حکومت فوراََضابطے کوواپس لے،اردوکاحق دیاجائے

بہارکے ہائی اسکولوں میں اردو کی لازمیت ختم کرنابڑی سازش

امارت شرعیہ نے کہا،حکومت فوراََضابطے کوواپس لے،اردوکاحق دیاجائے

پٹنہ

13 اگست 2020

اردوکے ساتھ بہارمیں ہورہے سوتیلے برتائو پرامارت شرعیہ نے بھی آوازاٹھائی ہے۔اورحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اردوکوختم کرنے کی سازش نہ کی جائے اورحکومت اپناحالیہ نوٹیفکیشن واپس لے ۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست بہارکے ہائی اسکولوں سے اردو کی لازمیت کو ختم کر کے اس کو اختیاری مضمون کے خانے میں ڈال دینا ، اسکولوں سے اردو کو ختم کرنے کی ایک منظم سازش ہے ۔ اس سے نہ صرف اردو کو نقصان ہو گا ، بلکہ اردو آبادی کے لیے روزگار کے سنہرے مواقع بھی ختم ہو جائیں گے۔واضح ہو کہ حکومت بہار نے اپنے مکتوب نمبر11/niyojan 02-01/2019 799 مورخہ 15مئی 2020 کے ذریعہ ہائی اسکولوں میںاساتذہ کی تعداد میں کمی کی ہے ۔ پہلے ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی منظور شدہ تعداد 8+1(8اساتذہ1پرنسپل، جہاں فزیکل ایجوکیشن منظور نہیں ہے)اور 9+1(9اساتذہ 1پرنسپل جہاں فزیکل ایجوکیشن منظور ہے) تھی۔ اس کو کم کر کے اب حکومت نے اساتذہ کی حد 8سے گھٹاکر6کر دی ہے۔چھ اساتذہ کی درجہ بندی اس طرح ہے ، ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس، سوشل سائنس اور سکینڈ لینگویج یعنی دوسری زبان ۔ دوسری زبان میں اردو، سنسکرت، بنگلہ وغیرہ زبانیں شامل ہیں ۔ حکومت نے اپنی اس ترمیم کی وجہ یہ بتائی ہے کہ چونکہ اب ہائی اسکول صرف نویں اور دسویں تک محدود ہو گیا ہے ، اس لیے اساتذہ کی تعداد کم کرنا ضروری تھا۔لیکن اردو داں حلقوں میں حکومت بہار کے اس اقدام سے بے چینی پائی جارہی ہے اور اس کو ہائی اسکولوں سے اردو کی لازمیت کو ختم کرنے کی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں محبین اردو اور سماجی و ملی تنظیموں کی طرف سے مسلسل آوا ز اٹھائی جا رہی ہے ۔ امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے بھی حکومت بہار کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اردو اور فارسی کے اساتذہ اسکول ، کالج و یونیورسٹی میں ہوتے تھے، اسکولوں سے فارسی کو کنارہ لگا دیا گیا اور اب اردو کا نمبرآگیا، لیکن حکومت نے نہایت چالاکی سے اردو کو لازمی مضامین سے ہٹا کر اس کو دیگر زبانوں کے خانے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے ساتھ بہت ہی غیر منصفانہ سلوک ہے ۔ سرکاری افسران اور محکمہ تعلیم کا اردو کے ساتھ جو سوتیلا رویہ ہے وہ سب کے سامنے ہے ، ایسے میں اردو کو لازمی مضامین کے خانے سے ختم کرنا اس کو ہائی اسکولوں سے یکسر نکال دینے کے مترادف ہے ۔ کیوں کہ اب جب اساتذہ کی تقرری ہوگی تو اردو ، بنگلہ اور سنسکرت میں سے کسی ایک ہی زبان کے لیے استاذ کی تقرری ہوگی ، اس لیے کہ دیگر زبان کے لیے ایک ہی استاذ کی تقرری کا ضابطہ ہے ۔ ایسے میں جب کہ اردو کے خاتمے کے لیے پوراحکومتی نظام سرگرم عمل ہے تو اردو استاذ کی تقرری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ۔ مولانا موصوف نے حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پہلے اردو کو مستقل مضمون کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کودوبارہ بحال کیا جائے اور اساتذہ کی تقرری اس کے اعتبار سے کی جائے ۔اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے ، اس اعتبار سے اس کاحق ہے کہ اس کو لازمی مضمون کادرجہ دیا جائے نہ کہ اس کو اختیاری مضامین کے خانے میں ڈال کر اس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا جائے۔مولانانے اردو سے محبت کرنے والوں اورتمام ملی و سماجی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اردو کے حق کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور مضبوط طریقہ سے حکومت سے مطالبہ کرےں کہ اردو کو اسکا حق دیا جائے اور اس کے ساتھ سوتیلا سلوک بند کیا جائے،نیز اس نئے ضابطے کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔

You might also like