Baseerat Online News Portal

بہار کو ترقی دینے کی بات کرنے والے فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنے میں مصروف ۔۔۔۔۔۔، آر جے ڈی لیڈر ششانک سنگھ کا ریاست میں جرائم کے بڑھتے رجحان پر اظہار تشویش

رکسول۔ 14/ اگست (محمد سیف اللہ )

سماج میں نفرت کا زہر پھیلا کر ریاست میں امن وسکون کی بات کرنا حکومت کی متعصبانہ ذہنیت کی ترجمانی کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح بہار کے اندر قانون کی بالادستی کو ختم کرکے فرقہ پرست عناصر اور دنگائیوں کو دہشت پھلانے کی چھوٹ دے دی گئی ہے اگر اس کو روکنے کے لئے ریاستی حکومت نے کوئی قابل اطمینان پیش رفت نہیں کی تو بہار نفرت کی آگ میں جھلس کر اپنا وجود کھودے گا اس لئے میں حکومت سے مطالبہ کرونگا کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے تاکہ ہر طرف بدامنی کے پھیلنے پر قابو پایا جاسکے یہ باتیں ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول کے سرگرم آر جے ڈی لیڈر ششانک سنگھ نے آج اپنے بیان میں کہیں انہوں نے ملک کی عوام کو یوم آزادی کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے جہاں اس حقیقت کو دہرایا کہ ہمیں آزادی کا جشن مناتے ہوئے اپنے ان بزرگوں کو یاد کرنا چاہئے جنہوں نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ دے کر اس ملک کو آزادی دلائی تھی وہیں ہمیں اس ملک کے جمہوری اقدار کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے بھی اپنی ذمہ داریوں کا محاسبہ کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ آزادی کے تہتر سال بعد ملک کو جس راستے پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے اس کو ملک کے مستقبل کے لئے اطمیان بخش نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ وہ راستہ نہیں ہے جس کا نقشہ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور امبیڈکر جی نے تیار کیا تھا،انہوں نے کہا کہ پورے بہار میں بھلے ہی اس وقت آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ ریاست کی این ڈی اے حکومت آزادی کے ساتھ بہار کے وقار کے ساتھ بھی کھلواڑ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس نے سیاسی فائدے کے لئے پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں دھکیلنے کا جو منصوبہ تیار کر رکھا ہے وہ نہایت خطرناک ہیں،ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں حکومت سے کوئی بہتر امید نہیں کی جاسکتی،انہوں نے کہا کہ بھلے ہی ریاستی حکومت بڑی بڑی باتیں کر لے اور سرکاری سطح پر قانون کی بالادستی کے ڈھول پیٹے جائیں مگر سچ یہ ہے کہ ان دنوں بہار پوری طرح جرائم اور بدعنوانی کا مرکز بن چکا ہے نہ یہاں عوام کی جانیں محفوظ ہیں اور نہ سرکاری ایجینسیان عوامی مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں،ہر طرف لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کا کھیل جاری ہے،ششانک سنگھ نے کہا کہ ایک طرف جبکہ کرونا نے یہاں کی عوام کو معاشی بحران کی آخری منزل تک پہونچا دیا ہے اور ہر طرف افرا تفری وبے اطمینانی پھیلی ہوئی ہے وہیں دوسری طرف ریاستی حکومت ان تما حالات سے بے خبر انتخابی تانے بانے بننے میں مصروف ہے اور فرقہ پرستی کے سہارے اقتدار کی کرسی پر پھر سے قابض ہونے کا خواب دیکھ رہی ہے لیکن میں سیدھے لفظوں میں بتانا چاہتا ہوں کہ عوام کی آنکھوں پر پٹی ڈال کر زیادہ دنوں تک حکومت نہیں کی جاسکتی اس لئے اب حکومت کو اس کا سپنا چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ یہاں کی عوام نتیش کمار کی دوہری پالیسی پر اب کسی بھی طرح بھروسہ نہیں کر سکتی،انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور سشاشن کی بات کرنے والے لوگوں نے پوری ریاست کو ہی سماج دشمن عناصر کے حوالے کرکے بہار کی تباہی کو تماشا دیکھ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت نہ صرف ہر چہار جانب ظلم کا ننگا ناچ جاری ہے بلکہ پورا بہار ہی فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جھلس رہا ہے آنے دن یہاں کے دلتوں اور مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں لیکن حکومت اس پر ایکشن لینے کی بجائے سازشی ذہنوں کو سہارا دینے اور سماج دشمن عناصر کو بچانے میں مصروف ہے،انہوں نے کہا کہ بہار اس وقت ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس کر رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آرجے ڈی تیجسوی جی کی قیادت میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گی اور بہار کو قابل رشک ترقی دینے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

You might also like