Baseerat Online News Portal

ملک میں خوشگوار سیاسی تبدیلی کے لئے میں نے تھاما ایم آئی ایم کا دامن ۔۔۔۔۔، پارٹی میں شامل ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں راکیش یادو کا بیان

رکسول ۔14/ اگست( محمد سیف اللہ )

سماجی نفرت کے سہارے ملک کو ترقی دینے کا لواب پورا نہیں ہو سکتا اس لئے میں نہ تو نفرت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں اور نہ ہی مذہبی ولسانی تعصب زندگی کے کسی حصے میں میری فکرمندی کا حصہ رہی ہے بلکہ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اگر ہم خوشحال ہندوستان کے خواب کہ صحیح تعبیر چاہتے ہیں تو ہمیں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اصولوں سے سبق لے کر تعصب وتنگ نظری کے دائرے سے باہر آنا ہوگا اور مذہبی وخاندانی بندشوں سے باہر نکلتے ہوئے خالص انسانی رشتے کی بنیاد پر سماج کی خدمت کو یقینی بنائے رکھنے کی جد وجہد کرنی ہوگی ورنہ اگر ہندوستانی سماج اسی طرح نفرت وتعصب کی بھٹی میں جھلستا رہا اور ہم سیاسی فائدے کے لئے آپس میں تعصب کی دیواریں کھڑی کئے رہے تو دھیرے دھیرے سماجی تانے بانے پوری طرح بکھر کر رہ جائیں گے اور ہماری حیثیت بس ایک انسانی بھیڑ کی ہوکر رہ جائے گی یہ باتیں ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول کے سرگرم لیڈر راکیش یادو نے آج باضابطہ طور پر ایم آئی ایم کا دامن تھامنے کے بعد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہیں،انہوں نے اس موقع پر جہاں ایک طرف ملک کی موجودہ صورت حال پر کھل کر روشنی ڈالی اور بدلتے منظر نامے پر تشویش کا اظہار کیا وہیں انہوں نے کہا کہ میں برسوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا ہوں اور میں نے اس کے لئے وہ سب کچھ کیا ہے جو میری سیاسی ذمہ داریوں کا حصہ تھی مگر میں نے محسوس کیا کہ یہ پارٹی ملک کو ایسے رخ پر لے جارہی ہے جس میں اس کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا اس لئے ہم نے اپنا سیاسی موقف بدلتے ہوئے ایک ایسی پارٹی کا دامن تھاما ہے جو نہ صرف ہندوستان کے شاندار مستقبل کو یقینی بنانے کے تعلق سے سنجیدہ ہے بلکہ اس کے اندر ملک کی قیادت کرنے والی تمام خوبیاں جمع ہیں،انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کو اگر چہ اس وقت ملکی سطح پر کئی آزمائشوں کا سامنا ہے مگر اس کے قائد اسد الدین اویسی صاحب جس خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کی پیش رفتیں ملک میں خوشگوار سیاسی ماحول کو جنم دے گی انہوں نے کہا کہ ہمارا رشتہ جس چمپارن سے ہے وہ انقلاب کی سرزمین رہی ہے اور یہاں کی تہذیبی وثقافتی روایتوں نے تاریخ کے ہر دور میں محبت ورواداری کا درس دیا ہے ساتھ ہی اس سرزمین سے وابستہ افراد نے غلام اور آزاد ہندوستان کی طویل تاریخ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے وہ مثالی کارنامے انجام دیئے ہیں کہ انہیں بھلانے کی حماقت نہیں کی جاسکتی ہے اور آپ کو بتادوں کہ اس سرزمین نے اتنے بڑے کارنامے اسی وقت تک انجام دیئے جب تک یہاں کی سرزمین مذہبی، لسانی اور علاقائی نفرت وتعصب کی لعنت سے پاک رہی اور ہم بس ہندوستانی بن کر اس ملک کے وقار کی حفاظت کے لئے آگے بڑھتے رہے لیکن جب سے پورے ماحول پر نفرت کی چادر ڈال دی گئی ہے جس کی وجہ سے سارا منظر ہی بدلا بدلا سا نظر آرہا ہے اور پچھلے کچھ سالوں میں ذاتی وسیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے سماج میں نفرت کا زہر گھولنے کی جو سازشیں رچی جاتی رہی ہیں اس نے سماج کے ہر طبقے کو متاثر کرتے ہوئے انہیں زندگی کے تکلیف دہ موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ہمارے سامنے جس ہندوستان کانقشہ پیش کرکے عدم تشدد کے سہارے ہمیں آگے بڑھنے کا پیغام دیا تھا موجودہ حکومت اسے پوری طرح نظر انداز کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے یہی وجہ کہ ایک ہندوستانی سماج اب ذات برادری اور مذہبی ولسانی خانوں میں تقسیم ہوکر تباہی کے دہانے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایسی صورت حال میں ہم سمجھتے ہیں کہ اس منظر نامے سے نکلنے کے لئے ہمیں سماج کو نفرت کے ماحول سے باہر نکالنے کا عمل شروع کرنا ہوگا اور نفرت کی آگ کو بجھانے کے لئے محبت ورواداری اور اخوت وہمدردی کے پانی استعمال کرنے ہونگے،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راکیش یادو نے کہا کہ سماج کے کسی بھی ایک طبقہ کو ترقی کی رفتار سے دور رکھ کر ہندوستان کے شاندار مستقبل کو یقینی بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہمیں ایک ساتھ مل کر ہندوستان کی تعمیر کے لئے آگے بڑھنے کے لئے ایسے قائد کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگا جو ملک کے مستقبل کی سنجیدہ اور ایماندارانہ فکر رکھتا ہے۔

You might also like