Baseerat Online News Portal

سناٹوں کو توڑ کر نکل جانے والے شاعر تھے راحت اندوری :محمد صادق آرزو

جالے۔ 24/ اگست (پریس ریلیز )

راحت اندوری کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریک کا عنوان تھا اس لئے میں کہ سکتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف ان کے اشعار افسردہ دلوں کو آواز دیتے رہیں گے بلکہ ایک لمبے عرصے تک ادبی حلقے کو ان کی غیر موجودگی کا احساس ہوتا رہے گا یہ باتیں جالے کے سرگرم سیاسی وسماجی لیڈر محمد صادق آرزو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہیں انہوں نے عظیم شاعر راحت اندوری کے انتقال پر جہاں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ادبی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا وہیں انہوں نے کہا کہ شاعری کی دنیا سے وابستہ لوگوں کی ایک طویل فہرست میری نگاہوں کے سامنے ہے مگر سچ یہ ہے کہ راحت صاحب جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کی شاعری صرف شاعری ہی نہیں بلکہ انقلاب عہد کا ترجمان ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ راحت صاحب نے اپنی ہوری زندگی جس انداز سے اردو کے نوک پلک سنوارنے میں لگادیں ویسے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں ان کی سوچ وفکر کا دائرہ اور لب ولہجہ بھی عام لوگوں سے کچھ الگ تھا وہ بات کرتے ہوئے اتنی صفائی سے دلوں میں اتر جاتے تھے کہ سامنے کو والے کو احساس تک نہیں ہوتاتھا،ان کی بڑی خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ظلم ونا انصافی کے خلاف کھل کر بولتے اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے,ان کے یہاں مصلحت پسندی نام کی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ مکمل خود اعتمادی کے ساتھ حالات سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے گزر جانے پر یقین رکھتے تھے،ان کا ایک منفرد انداز تھا جس کے سبب وہ دنیا بھر میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے،محمد صادق آرزو نے کہا جن لوگوں نے بھی راحت صاحب کو دیکھا یا سنا تھا وہ جانتے تھے کہ انہوں نے زندگی کے کسی موڑ پر بھی تنگ خیالی کو اپنی شاعرانہ فکر کا حصہ بننے نہیں دیا بلکہ ان کی خوبی تھی کہ وہ حالات کے اتار چڑھاو کا بڑی سنجیدگی اور ذمہ داری سے محاسبہ کرتے اور حالات کی گردش کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ شاعری کے روپ میں ڈھال کر ہمارے سامنے پیش کر دیتے کہ ادبی دنیا میں ہلچل پیدا ہو جاتی،ان کی بے باکی اور جرآت کا عالم یہ تھا کہ وہ کسی سے خوف کھائے بغیر ملک وقوم کی ترجمانی ان کی محفلوں میں بھی کرتے جن کو نہ تو ملک کے مفاد سے کوئی لینا دینا ہوتا اور نہ قوم کے مفادات سے،اسی لئے میں بلا کسی تردد کے کہ سکتا ہوں کہ ان کی جدائی کی کسک برسوں تک دلوں میں بے قراری کو زندہ رکھے گی۔

You might also like