Baseerat Online News Portal

ہجومی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد سے امارت شرعیہ کے نمائندہ کی ملاقات ۔۔۔۔۔ ، مرزا قاری نصیر احمد بیگ نے مجرمین کے خلاف سخت کارروائی کا کیا مطالبہ

جالے ۔14/ اگست( محمد ارشد فیضی )

ان دنوں بہار میں فرقہ وارانہ فسادات کی فضا کر جس طرح یہاں کے پر امن ماحول کو مکدر کرنے کی سازش رچی جارہی ہے اس کے خلاف بڑے پیمانے پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ سماج میں نفرت کا زہر پھیلا کر ریاست میں امن وسکون کی بات کرنا حکومت کی متعصبانہ ذہنیت کی ترجمانی کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح بہار کے اندر قانون کی بالادستی کو ختم کرکے فرقہ پرست عناصر کو دہشت پھلانے کی چھوٹ دے دی گئی ہے اگر اس کو روکنے کے لئے ریاستی حکومت نے کوئی قابل اطمینان پیش رفت نہیں کی تو بہار نفرت کی آگ میں جھلس کر اپنا وجود کھودے گا اس لئے میں حکومت سے مطالبہ کرونگا کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے تاکہ ہر طرف بدامنی کے پھیلنے پر قابو پایا جاسکے یہ باتیں گزشتہ رات جالے بلاک کے راڑھی مہدئی چوک پر سماج دشمن عناصر کے مشترکہ حملے میں زخمی ہونے والے دوگھرا کے متعدد افراد سے ملاقات کے لئے پہنچنے پر امارت شرعیہ کے جالے بلاک صدر مرزا قاری نصیر احمد بیگ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہیں،بتادیں کہ گزشتہ رات دوگھرا گاوں باشندہ مشہور عالم دین مولانا وصی احمد کے بھائی مولانا ذکی احمد اور سمیع احمد اپنے اہل خانہ کے ساتھ قریب کے گاوں سے اپنے گھر لوٹ رہے تھے کہ اسی دوران مہدئی چوک پر پوجا جلوس میں شامل لوگوں کی بھیڑ نے ان کی گاڑی روک کر حملہ کر دیا اور گاڑی سے نکال کر ان کو بے تحاشا مارا گیا جس کے سبب انہیں زبردات چوٹیں آئیں،عالم یہ رہا ہے ان لوگوں نے گاڑی میں بیٹھی پاپردہ خواتیں کو بھی لاٹھی ڈنڈوں سے مارکر زخمی کر دیا،قابل ذکر بات یہ بھی کہ ظلم کی یہ واردات پولس کی آنکھوں کے سامنے انجام دی گئیں مگر پولس انتظامیہ روکنے کی بجائے خاموش تماشائی بنی رہی یہی وجہ ہے کہ حساس واقعہ کے بعد پورے علاقہ کے مسلمانوں میں خوف کا ماحول ہے اور انہوں نے ایسی ذہنیت کے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے.مرزا نصیر احمد بیگ نے ہجومی تشدد کا نشانہ بنے لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں نہ صرف تسلی دی بلکہ مجرمین کے خلاف سخت کارروائی کے لئے انہوں نے انتظامیہ پر دباو ڈالنے کا بھی بھروسہ دیا اور کہا کہ امارت شرعیہ کے ذمہ داران اس معاملے کو لے کر کافی حرکت میں ہیں ۔

You might also like