Baseerat Online News Portal

صبح کی بات فہیم اختر ندوی کے ساتھ _ #HappyIndependenceDay2020

صبح کی بات

فہیم اختر ندوی

 

آج یوم آزادی ہے.. یعنی ہم 1947 کی آزادی وطن کا جشن 2020 میں منارہے ہیں۔۔ پورے ملک اور دیش واسیوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔ یہ آزادی برطانوی غلامی سے لی گئی تھی، ہندو مسلم اتحاد کی قوت سے ملی تھی.. اور اس میں زیادہ بڑی قربانی اور محنت مسلمانوں نے دی تھی، کیونکہ ملک ان سے ہی چھینا گیا تھا، اور ملک کی آزادی کو انھوں نے ذاتی لالچ نہیں ملک کی ذمہ داری اور دینی فریضہ سمجھا تھا…

 

گورے انگریزوں نے خوشحال ہندوستان کو لوٹ لیا تھا، ترقی یافتہ صنعت کو برباد کردیا تھا، علم وفن کا نظام بدل کر نوکروں اور غلاموں کی نسل بنایا تھا، میل محبت سے رہنے والے باشندوں کو باہم لڑادیا تھا.. اور سونے کی چڑیا کہلانے والے ملک کو کنگال، بھکمری کا شکار، اور نفرتوں کا میدان بنادیا تھا…

 

ملک کی خوبیاں عہد وسطی کے سینکڑوں برس کی محنت کا نتیجہ تھیں، یہ چھ سو برس کا مسلم دور تھا.. انھوں نے ملک کو وہ سب دیا، وہ سب بنایا، وہ سب دکھایا، جس سے ہندوستان سب سے بڑا، سب سے خوشحال اور سب سے مضبوط ملک بنا تھا… اور برطانیہ کے جاتے وقت ملک ٹوٹا، بکھرا، اور باہم لڑا ہوا تھا…

 

آج یہ تصور بدل دینے کی پر فریب کوشش عروج پر ہے.. اب آزادی کا مطلب برطانیہ سے نہیں’ عہد وسطی سے ہے۔۔ نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ اگلے بیس سالوں میں وہ نسل تیار کی جانی ہے جو اس تصور میں ہی ڈھلی ہوگی، اور عہد وسطی کو ملک کا فخر نہیں کلنک سمجھ چکی ہوگی، کیونکہ یہی اور اسی طرح انھیں پڑھایا جائے گا۔۔۔

 

اب بھارت آزادی کے ایسے دور میں لایا جارہا ہے، جس میں ترقی کے کام مخصوص طبقوں اور لوگوں کےلئے ہی ہوں گے۔۔ تعلیم، معیشت، اور عہدے ان ہی کےلئے اور ان کی پسند کے مطابق ہوں گے.. ان کے خزانے بھرے اور ان کی سنسکرتی چھائی ہوگی.. بقیہ لوگوں کی آہ، کراہ اور چاہ کی پرواہ بھی نہیں رکھی جائے گی… اور بھارت میں یہ آواز گونجے گی کہ ملک ترقی کرچکا ہے، اس آواز کو سچائی ماننے والے بڑی تعداد میں ہوں گے.. وہ اس آواز کا ساتھ دیں گے.. اور ملک کے محروموں کا چہرہ دکھانے والوں کو ملک مخالف سمجھا جائے گا…

 

یہ شروع ہوچکا ہے، اس کی تیاری بڑی محنت سے ہوئی ہے، اور آگے کی پلاننگ ظاہر ہوچکی ہے.. تعلیمی مسودہ اس کی سبق آموز مثال ہے۔۔ اس نئے تصور اور تیاری میں جھوٹ ضرورت ہے، تضاد بیانی اچھائی ہے، اظہار اور عمل کی دو الگ راہیں طریقہ ہے، اور ترقی کا مفہوم واضح ہے.. تو ان سب سے آگاہ رہیئے۔۔۔

 

لیکن۔۔ سچائی اس سے بڑی طاقت ہوتی ہے، حقیقت مضبوط ہوتی ہے، دلائل سخت جان ہوتے ہیں۔۔ تو یہ سب ہمارے آپ کے پاس ہیں۔۔ ملمع سازی میں پائیداری نہیں رہتی ہے۔۔ تو ہر خیر خواہ سونچے، ہم آپ سب سونچیں کہ۔۔ سچائی کی طاقت سماج کو کس طرح مضبوط بنائے، اور ہماری آپ کی حصہ داری کہاں اور کیسے ہوسکے۔۔ کرنے کے بہت کام ہیں، محنت ہی پھل لاتی ہے، اور سنجیدگی ہی سمجھ کی راہ دکھاتی ہے۔۔

 

آئیے ہم سب مل کر، سب کی بہتری کے کام سونچیں، کریں، اور فائدہ پہنچائیں۔۔ اسی میں انسانیت کی خوشی ہے، اور رب کی خوشی بھی ہے۔

 

خدا حافظ

15 اگست 2020

24 ذو الحجہ 1441

You might also like