Baseerat Online News Portal

ایک اوریومِ جمہوریہ

محمدشارب ضیاء رحمانی
خبردرخبر
گذشتہ برس جب ہم یو م جمہوریہ منارہے تھے توملک اس وقت کے اوراب کے حالات میں کافی فرق آچکاہے۔دادری کاشرمناک واقعہ،بہارودہلی میںفرقہ پرستی کی شکست،گلبرگی کاقتل،شیوسیناکی ہٹ دھرمی،دھرم سیناکی تشکیل،شان رسالتﷺمیں گستاخی اوران گنت واقعات اس ایک سال میں پیش آئے جنہوں نے یہ طے کردیاہے کہ ملک جن خطرناک ہاتھوں میں پہونچاہے،اس کی ترقی ان ہاتھوں سے نہیں ہوسکتیبلکہ انہیں صرف ایک فن آتاہے ،اس کے اردگررہنے والوں کوصرف وطن عزیزمیںفرقہ پرستی کے خطرناک کھیل کھیلنے کاہنرمعلوم ہے۔یادکیجئے!گذشتہ برس یوم جمہوریہ پرحامدانصاری کے سلامی نہ لینے پربھی خوب واویلامچایاگیاتھا،اورانہیں غداروطن تک کہہ دیاگیاتھا،لیکن بعدمیں صدارتی دفترسے یہ وضاحت آئی کہ یوم جمہوریہ کی سلامی صرف صدرجمہوریہ کااستحقاق ہے۔حالانکہ اس موقعہ پرہمارے وزیراعظم صاحب اوروزیردفاع نے بھی سلامی لے ڈالی تھی۔حامدانصاری نے پروٹوکول پرعمل کیاتودیش دروہ کہلائے،لیکن پروٹوکول توڑنے والے اورصدرجمہوریہ کی حق تلفی کرنے والوں پرچپی سادھ لی گئی۔ ادھرکے دنوں میں ہمارے پی ایم صاف فوٹوکھنچانے میں رہے اورہماراترنگاالٹاہوگیایہی نہیں گذشتہ ماہ ہی قومی ترانہ کے وقت وزیراعظم صاحب نے چلناشروع کردیااوروطن عزیزکواس وقت شرمندگی اٹھانی پڑی جب انہیں پکڑکرواپس لاناپڑا۔یہ دواہم واقعات ایسے ہیں جنہیں نظراندازنہیں کرناچاہئے،آئینی عہدہ پربراجمان شخص سے ایسے امیدنہیں کی جاسکتی تھی لیکن حیرت یہ ہے کہ ان سے کوئی بازپرس نہیں ہوسکی۔مسلمانوں نے تونہ صرف وطن عزیزکی سرحدوں کی رکھوالی کی ہے بلکہ اس کے وقار،اس کے آئین ،اس کے سیکولراصولوں کی بھی حفاظت کی ہے۔اندرتک جھانک لینے کے بعدخوب اندازہ ہوجائے گاکہ وطن فروشی سے کس کے دامن داغدارہیں اورکون حب الوطنی کے جذبہ سے سرشارہے،ملک کے سامنے فوجیوں کے تابوت کے گھوٹالے بھی ہیں اورویرعبدالحمیدکی شہادت بھی ۔
2015کے یوم جمہوریہ کے مہمان خصوصی امریکی صدرباراک اوبامہ تھے،اوراس برس فرانسیسی صدراولاندہیں۔یوم جمہوریہ کومودی جی نے اوبامہ کے ذریعہ اپنی خوب واہ واہی لوٹی،خوب فوٹوکھنچوائے ،والہانہ استقبال کے ساتھ ساتھ خوب ضیافت بھی فرمائی لیکن جاتے جاتے اوبامہ مودی کووہ زخم دے گئے کہ آج بھی وہ تروتازہ ہے۔بھگوابریگیڈکواس کی کسک اب محسوس ہوتی ہویانہ ہو،ہرسچے ہندوستانی کادل اب بھی رنجیدہ ہے کہ گاندھی جی کے ملک کوانہیں مذہبی رواداری کی تلقین کرناپڑی پھروہائٹ ہائوس میں بھی اپنے بیان کی انہوں نے مزیدوضاحت کی۔سنگھ پریوارکی سیاسی ونگ بی جے پی لاکھ عدم رواداری کے پیداہوئے ماحول کوچھپانے کی کوشش کرے،لیکن امریکہ اوربرطانیہ تک میں ملک کیمذہبی ہم آہنگی پرمنڈلاتے خطرات کی گونج سنائی دے چکی ہے۔اقلیتیں خاص طورپرمسلمان اورعیسائی جس طرح عدم تحفظ کے شکارہیں،اوردن بدن ان کے اس احساس میں اضافہ ہی ہورہاہے،اس نے اس یوم جمہوریہ پرآئین اورسیکولرزم کے حوالہ سے بہت کچھ سوچنے کیلئے ہرسچے شہری کومجبورکردیاہے ۔ایک طرف دنیاکی دواکثریتی آبادی (مسلمان اورعیسائیوں)کے خلاف منصوبہ بندمہم جاری ہے ،دوسری طرف سب کاساتھ سب کاوکاس کانعرہ لگانے والی سرکار،دنیاکی ان ہی دوآبادیوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ یومِ آئین پردستورِہندکے مقدمہ سے لفظ سیکولرہٹانے پراصرارکرنے اور گوڈسے کامندربنانے کاپارلیمنٹ میںمطالبہ کرنے والوںکویوم جمہوریہ پراحتساب کرلیناچاہئے کہ وہ حکومت جمہوری دستوراوراس کی روح سے کتنی ہم آہنگ ہوکرکام کررہی ہے؟۔اوریہ ذمہ داری دیش کے ہرشہری کی ہے کہ وہ ملک کوجمہوری بنائے رکھنے اوراس کے دستورکے تحفظ کیلئے تیاررہے،فرقہ پرست دستورکی روح سے چھیڑچھاڑکاارادہ رکھتے ہیں۔ہمیں عزم مصمم کرناہے کہ جمہوریت کوروح کوہرگزمجروح نہیں کرنے دیں گے۔ہم نے کل بھی وطن کی ،اس کے اصولوں کی اوراس کے اقدارکی رکھوالی کی ہے اورآج بھی ہمیں ہی یہ ہنرمعلوم ہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچرایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

You might also like