Baseerat Online News Portal

حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت “الحب فی لله والبغض فی لله” کی تفسیر تھی، مفتی روح اللہ قاسمی،. جلسۂ تعزیت بر وفات قاضی شریعت مدھوبنی،

جلسہ تعزیت بر وفات قاضی شریعت

پریس ریلیز

مؤرخہ 29/ذی الحجہ، 1441ھ، مطابق 20/ جولائی 2020ع،

بروز جمعرات بمقام مسجد عمر فاروق موسی نگر بھوارہ مدھوبنی، ابوہریرہ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام_نمونہ اسلاف، علوم قاسمیہ کے پاسوان وامین، فکرامارت کے بےباک ترجمان، باوقار قاضی شریعت، عارف باللہ الحاج حضرت مولانا قاضی محمد حبیب اللہ صاحب قاسمی رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلے میں ایک ہم عظیم ا لشان جلسہ تعزیت کا اہتمام کیاگیا۔ جس کی صدارت مدرسہ فلاح المسلمین کے نامور استاد، مقتدر عالم دین، بے باک خطیب ومدرس حضرت مولانا مفتی محمد روح اللہ صاحب قاسمی نے فرمائی، جبکہ جلسہ کی نظامت نوجوان عالم دین حضرت مولانا مفتی عزرائیل قاسمی بانی و مہتمم جامعہ عبداللہ ابن مسعود سترو پٹی گھوگھرڈیا،و مدیر مسؤل ماہ نامہ “المحاسن” نے پرجوش انداز میں کی۔ عوام و خواص کو جلسہ کی اطلاع ملتے ہی شہر مدھوبنی وعلاقہ مدھوبنی کے مختلف گاؤں دیہات سے حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ کے عقیدت مند و محبین، مخلصین و متوسلین اور تلامذہ نیز مدھوبنی کے سیاسی و سماجی کارکنان اور دینی و ملی قائدین نے جلسہ میں شرکت کر کے حضرت قاضی صاحب کی حیات و خدمات کے تعلق سے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار فرمایا اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے محاسن اور بےلوث خدمات کو یاد کیا۔خصوصا مدرسہ فلاح المسلمین کے مؤقر صدر حضرت مولانا عبداللہ صاحب قاسمی نے حضرت نور اللہ مرقدہ کو یاد کرتے ہوئے کہا: میں حضرت کے ابتدائی طالب علموں میں سے ایک ہوں، حضرت قاضی صاحب صرف ایک بزرگ عالم دین نہیں بلکہ وہ ایک زبردست اور ماہر استاذ اور مشفق مربی بھی تھے ،اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ ملکہ عطاء کیا تھا کہ کسی بھی کتاب کے کسی بھی مشکل مسئلہ کو اپنے اچھوتے اور عام فہم انداز میں طلبہ کو اس طرح بتاتے کہ غبی سے غبی طالب علم مطمئن ہوجاتاتھا۔ نیز حضرت کی قیادت اور شبانہ روز جدوجہد نے مدرسہ فلاح المسلمین کو شمالی بہار کا ایک عظیم دینی درسگاہ بنا دیا جس ادارے نے ایسے لعل و جواہر تیار کیے جس کی بڑی تعداد آج امت کی قیادت کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ عالی جناب شمس الحق صاحب سابق پرمکھ نے کہا کہ آپ ایک عہد ساز شخصیت، بہترین رھنما اور مفکر ملت تھے۔ ساتھ ہی بھوارہ اور شہر مدھوبنی کے چیدہ علماء کرام نے حضرت نور اللہ مرقدہ کی علمی قابلیت و صلاحیت، اوصاف و کمالات، عاجزی و انکساری، دور اندیشی، فقہی بصیرت، قرآن و حدیث پر زبردست ملکہ اور آپ کے اقوالِ حکیمانہ کو اپنے اپنےاندز میں پیش کیا۔نیز درد بھرے دلدوز انداز میں منظم کلام اور مرثیے کے ذریعہ بھی حضرت نور اللہ مرقدہ کو یاد کیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ مدرسہ فلاح المسلمین کے نوجوان عالم دین حضرت مولانا مفتی مسیح احمد قاسمی نے کہا کہ حضرت الاستاذ رحمتہ اللہ علیہ ایک فرد نہیں بلکہ حضرت کی شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہے، نیز حضرت نور اللہ مرقدہ کا مدارس و مکاتب کے لئے فکرو کڑھن ، ہر وقت قوم و ملت کے لئے تڑپنا اور عوام و خواص میں آپ کی یکساں مقبولیت پر جامع تبصرہ کیا‌۔ ذیلی دارالقضاء مدرسہ فلاح المسلمین کے معاون قاضی حضرت مولانا نجم الہدی قاسمی نے حضرت نور اللہ مرقدہ کے فقہی بصیرت، دور رس نگاہ اورمشکل ترین پیچیدہ مسائل کو چٹکی میں حل کر دینے کے کئی واقعات کا تذکرہ بھی کیا، حضرت مولانا مفتی اعجاز صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند نے آپ کی تربیت سازی پر عمدہ انداز میں اپنے خیالات کا تذکرہ کیا؛ جب کہ حضرت نور اللہ مرقدہ کی حیات اور مرض الوفات کے احوال آپ کے ہونہار فرزند ارجمند،صالح نوجوان عالم دین، ممتاز فاضل دیوبند، باکمال مقرر و مدرس، علوم حبیب کے سچے جانشین، فخر بھوارہ حضرت مولانا مفتی محمد امداد اللہ صاحب قاسمی نے حضرت نور اللہ مرقدہ کے زندگی پر تفصیلی گفتگوکرتے ہوے کہا کہ {ابا} رحمتہ اللہ علیہ کی پوری زندگی بالخصوص ہم علماء کے لئے نمونہ ہے، قوم و ملت کے لئے کس طرح کام کرنا ہے وہ ہمیں دیکھا اور بتاکر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، اخیر میں حضرت مفتی روح اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہ صدارتی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ کچھ بول سکوں بس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ کی شخصیت “الحب فی لله والبغض فی لله” کی تفسیر تھی، آپ شریعت کے خلاف کسی بھی کام کو برداشت نہیں کرتے، غیر ہو یا کوئی اپنا! آپ غیر شرعی امور میں یا کسی کام میں کمی کوتاہی کو دیکھتے تو آپ نکیر فرماتے یہی وجہ ہے کہ کتنے ہی بار آپ نے اپنوں سے اختلاف کیا لیکن وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ وہ رب کے رضا کے لئے کیا۔ نیز حضرت مفتی صاحب نے ابو ہریرہ فاؤنڈیشن اور اس کے متحرک چیئرمین مولانا یوسف قاسمی اور انکے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ جلسہ کے اختتام پر بہترین اور عمدہ نظم و نسق کو دیکھتے ہوئے مدرسہ فلاح المسلمین کے صدر حضرت مولانا عبداللہ صاحب قاسمی اور حضرت مولانا مفتی محمد روح اللہ صاحب قاسمی اور ماسٹر مرتضی صاحب مولانا آصف امام صاحب فلاحی وغیرہ نے نوجوان عالم دین ابوہریر فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا یوسف قاسمی کا شکریہ ادا کیا نیز فاؤنڈیشن کی ترقی کے لئے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔

You might also like