Baseerat Online News Portal

تری لحد پہ خدا کی رحمت، تری لحد کو سلام پہنچے

(امین ملت مولاناامین عثمانی ندوی کی یادمیں)

نوائے بصیرت: غفران ساجدقاسمی
چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن وہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی
عجیب قیامت کاحادثہ ہے،کوروناکے اس دورمیں ہرآنے والادن کوئی نہ کوئی بری خبرلے کرآرہاہے،ایک اندازے کے مطابق عالمی وباکوروناکے اس دورمیں اب تک ۲۰۰ سے زائداہل علم وفضل کاقافلہ اللہ کے حضورپہونچ چکاہے۔علمائے کرام کے اس دنیائے فانی سے تیزی کے ساتھ رخصت ہونے پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث یادآرہی ہے جس میں کہاگیاہے کہ علم کوعلماء کے ذریعہ اٹھالیاجائے گااورمستقل طورپرعلماء کے رخصت ہونے سے یہ بات محسوس ہونے لگی ہے کہ یقینااس دنیائے ناپائیدارسے علم کے اٹھائے جانے کاوقت قریب آچکاہے،اوراس بات پرمزیدیقین ہوجاتاہےکہ اس وقت جولوگ بھی دنیاسے جارہے ہیں ان کا نعم البدل تودور،بدل بھی نظرنہیں آرہاہے۔حدیث ملاحظہ ہو:سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں (کے سینوں) سے کھینچ لے لیکن وہ علم کو اہل علم کی وفات کے ذریعے سے اٹھائے گا حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے۔ جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘(صحیح بخاری: 100، صحیح مسلم: 6800)
یوں تواب تک کئی مشہورشخصیات آنافانامیں دنیاسے رخصت ہوگئیں جس میں بطورخاص دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث حضرت مولانامفتی محمدسعیدپالنپوری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولاناعبدالرحیم فلاحی رحمۃ اللہ علیہ،حضرت علامہ ڈاکٹرخالدمحمود رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولاناعبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ مہتمم دارالعلوم آنند،حضرت مولاناافتخارالحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولاناحکیم ادریس حبان رحیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانامتین الحق اسامہ قاسمی کانپور رحمۃ اللہ علیہ صدرجمعیۃ علماء اترپردیش،حضرت مولاناسیدمحمدسلمان رحمۃ اللہ علیہ ناظم مظاہرعلوم سہارنپور،حضرت مولاناوصی احمدصدیقی قاسمی نوراللہ مرقدہ مہتمم مدرسہ چشمہ فیض ململ مدھوبنی اورحضرت قاضی حبیب اللہ قاسمی رحمۃ اللہ علیہ قاضی شریعت امارت شرعیہ مدھوبنی قابل ذکرہیں۔اورابھی کل کی ہی بات ہے کہ ہندوستان کے معروف قاضی ،فقیہ وقت،کئی نسلوں کے مربی اورسرپرست،اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے رکن تاسیسی ، استاذالاساتذہ حضرت مولانامحمدقاسم صاحب مظفرپوری اللہ کوپیارے ہوگئے۔ابھی قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کاغم ہلکابھی نہیں ہواتھاکہ ملت اپنے ایک اوردردمنداورغم گسارسے محروم ہوگیا۔
جی ہاں! میری مراداسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے سکریٹری برائے تنظیمی امور،آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاملہ،المعہدالعالی پٹنہ کے ٹرسٹی حضرت مولاناامین عثمانی ندوی صاحب ہیں،جی ہاں!حضرت مولاناامین عثمانی ندوی صاحب آج ۲؍ستمبرکومختصرعلالت کے بعداللہ کے حضورچلے گئے۔مولاناامین عثمانی ندوی صاحب عمومی طورپرتومتعارف نہیں تھے لیکن علمی،دینی ،ملی وسماجی حلقوں میں اچھی شناخت رکھتے تھے،اورہندوستان میں ملی ودینی کاموں سے تعلق رکھنے والاہرشخص ان سے اچھی طرح متعارف تھا،اس کے ساتھ ہی بیرون ممالک کے علمی حلقوںمیں بھی اچھی گرفت رکھتے تھے۔مولاامین عثمانی ندوی صاحب جنہیں اب رحمۃ اللہ علیہ لکھناپڑرہاہے،انتہائی سادگی پسند،متواضع،منکسرالمزاج،جدوجہدکے عادی،اخاذذہن کے مالک،عربی،انگریزی اوراردوزبانوں پرلکھنے پڑھنے اوربولنے پریکساں قادر،نام ونموداورشہرت وریاکاری سے کوسوں دوربس اپنی دنیامیں مگن رہاکرتے تھے اوراپنے کام سے کام رکھنے والے انتہائی مخلص اورملت کادردرکھنے والے عظیم انسان تھے۔مولاناامین عثمانی ندوی بہارکے گیاضلع سے تعلق رکھتے تھے اوربہارکی مشہورخانقاہ خانقاہ فردوسیہ کے خانوادے سے تھےاوران کے والدکانام محمدعیسیٰ فردوسی تھا۔سابق امیرشریعت بہاراڑیسہ وجھارکھنڈاورآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سابق جنرل سکریٹری حضرت مولاناسیدنظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی آپ کی قرابت داری تھی۔آپ نے ندوۃ العلماء سے فضیلت کے بعدجامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسرکے عہدے پربحال ہوگئے لیکن حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پراپنی اعلیٰ ملازمت کوترک کرکے اسلامک فقہ اکیڈمی کے کارواں سے جڑگئے۔اورقاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتمدکی حیثیت سے اکیڈمی کی ذمہ داریوں کوسنبھالناشروع کیااوراپنافریضہ نبھاتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپردکردی۔اسلامک فقہ اکیڈمی کے سینئررکن مفتی امتیازاحمدقاسمی نے بتایاکہ علالت کے باوجودمستقل دفترآتے رہے،اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی کے منع کرنے کے باوجودپابندی سے دفترآتے رہے اورمعمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے رہے،رفقاکے کہنے پریہی جواب دیتے کہ بھائی کام زیادہ ضروری ہے،اوراس طرح لگن کے ساتھ اپنے کام میں مشغول ہوجاتے۔آج کے دورمیں ایسے لوگ خال خال ہی نظرآتے ہیں۔
مولاناامین عثمانی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میراکوئی بہت زیادہ خاص تعلق نہیں تھا،البتہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں ملاقات ہوتی رہتی تھی،اوراپنی عادت کے مطابق انتہائی خندہ پیشانی سے ملتے،خبرخیریت دریافت کرتے،قیام وطعام کے سلسلے میں معلومات حاصل کرتے اورپھراپنے کام میںمشغول ہوجاتے،ایک عجیب بات ہے اورتقریبااکیڈمی کے فقہی سیمیناروں میں شرکت کرنے والے سبھی اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ پوری بزم سجانے والے خودبزم میں اسٹیج پرنظرنہیں آتے،ہمیشہ اسٹیج کے پیچھے سے اپنے فرائض بحسن وخوبی انجام دیتےاورسیمینارکوکامیابی سے ہمکنارکراتے،یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سیمینارکے اختتام پرجب سیمینارکے روح رواں اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی کارکنان کاشکریہ اداکرتے تومولاناامین عثمانی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کاتذکرہ ہمیشہ اہمیت کے ساتھ کرتے اوران کے کردارکوبنیادکاپتھربتاتے جو عمارت کوسہاراتودیتاہے لیکن نظرنہیں آتا،ٹھیک اکیڈمی کے سیمیناروں میں حضرت مولاناامین عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہی حیثیت ہوتی تھی۔
مولاناامین عثمانی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کئی مختصرملاقاتیں رہی ہیں،جب کبھی دہلی جاناہوتااوراکیڈمی حاضری ہوتی تومولاناکی خدمت میں ضرورحاضری دیتااورکچھ دیربیٹھ کربہت کچھ کام کی باتیں سیکھتا۔مولاناامین عثمانی ندوی خودزبردست صلاحیتوں کے مالک تھے،ہمہ جہت خوبیوں کے حامل تھے،بیک وقت کئی زبانوں پرعبوررکھتے تھے،لکھناپڑھناان کی زندگی تھی،ہمیشہ تحقیق وتعلیق میں مصروف رہتے اورایسے نوجوان فضلاکوپسندکرتے تھے جولکھنے پڑھنے کاشوق رکھتے تھے،نئی نسل کے تعلق سے مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ بہت متفکررہاکرتے تھے اوران کی کوشش ہوتی تھی کہ نوجوان نسل اپنی صلاحیتوں کومثبت اورمفیدکاموں میںاستعمال کریں۔مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے میری ایک ملاقات بہت یادگارہے جس میں انہوں نے مجھ سے بطورخاص تاکیدکے ساتھ کہاتھاکہ میری خواہش ہے کہ آپ ’’دارالعلوم دیوبندکی سیاسی خدمات‘‘ پرکام کریں۔واقعہ یہ ہے کہ جب ۲۰۱۸میں خطیب الاسلام حضرت مولانامحمدسالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بین الاقوامی سیمینارمیں شرکت کرکے دیوبندسے واپس ممبئی جارہاتھاتوچندگھنٹوں کے لئے دہلی میں قیام کاموقع ملا،دہلی میں قیام ہواوراکیڈمی حاضری نہ ہویہ ناممکن ہے،لہذااکیڈمی کے رفقاسے ملاقات کی غرض سے میں اوکھلاواقع اکیڈمی کے دفترمیں پہونچا،اکیڈمی کے رفیق علمی اورباحث مفتی محمداحمدنادرالقاسمی صاحب کے دفترمیں حاضرہواکچھ دیرمفتی نادرصاحب سے گفتگوکے بعدجب واپسی کاارادہ ہواتومفتی نادرصاحب نے کہاکہ بھائی جانے سے پہلے چلیں مولاناامین عثمانی صاحب سے ملاقات کرلیں،حالاںکہ میری خودخواہش تھی ملاقات کرنے کی بہرحال ہم لوگ مولاناامین عثمانی صاحب کے دفترمیںحاضرہوئے،مولانانے بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کیا،حال احوال دریافت کیا،اس موقع پرملک وملت کے مختلف مسائل پرگفتگوہوتی رہی،اسی دوران مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بطورخاص مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میری خواہش ہے کہ آپ دارالعلوم دیوبندکی سیاسی خدمات پرکام کریں،انہوں نے کہاکہ لوگوں نے دارالعلوم دیوبندکی مختلف علمی ودینی خدمات پرکام کیاہے لیکن لوگوں نے اس کام کوابھی تک قابل اعتنانہیں سمجھاہے،میری خواہش ہے کہ آپ اس کام کوبصیرت آن لائن کے پلیٹ فارم سے کریں،مولانانے مجھے یقین دلایاکہ آپ اس سلسلے میں ابتدائی خاکہ تیارکریں انشاء اللہ میراہرقسم کاتعاون رہے گا۔کچھ دیرمزیدبصیرت آن لائن کے تعلق سے مولانانے مجھے کچھ مفیدمشورے دئیے اورجب میں نے رخصت کی اجازت چاہی توایک بارپھرمولاناعثمانی نے مجھے تاکیدکرتے ہوئے کہاکہ اس موضوع پرآپ ضرورکام کریں۔لیکن یہ میری بدقسمتی ہی ہے کہ اپنی غیرضروری مصروفیات کی وجہ سے آج تک اس کام کی جانب توجہ نہیں دے سکا۔دعاکریں کہ اللہ مجھے توفیق دے اوراس کام کوپوراکرکے حضرت مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی دیرینہ خواہش کوپوراکرسکوں اوریہ بصیرت آن لائن کی جانب سے حضرت مولاناعثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے بہترین خراج عقیدت ہوجائے۔
حضرت مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ تواس دارفانی کوچھوڑکراپنے خالق حقیقی سے جاملے،یقینایہ وقت اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے لئے بڑاسخت ہے،مولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کواکیڈمی کادماغ کہاجاتاتھا،انتظامی امورکواتنی خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے کہ بڑے سے بڑے مسائل آسانی سے حل ہوجاتے تھے،اپنی معتدل مزاجی اورفکرمیں توازن کی وجہ سے مختلف مکاتب فکرکے درمیان رابطہ کے لئے پل کاکام کرتے تھے،یہ وقت بڑانازک ہے،ہم عموماکسی کی وفات پراپنی دعاؤں میں اللہ سے یہ مانگتے ہیں کہ اے اللہ جانے والے کانعم البدل عطافرما،بالکل یہ دعامانگنی ہی چاہئے،لیکن موجودہ حالات پرنظرڈالنے سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ نعم البدل تودوراگربدل ہی مل جائے تویہ اداروں کے لئے بہت بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔بہرحال! پھربھی ہم اللہ سے دعاکرتے ہیں کہ اللہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکومولاناامین عثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کابدل عطافرمائے اورمولاناعثمانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی بال بال مغفرت فرمائے،ان کے سیئات کوحسنات سے بدل دے اورانہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین
میں اپنی بات کوشورش کاشمیری مرحوم کے اس شعرکے ساتھ ختم کرناچاہتاہوں جوانہوں نے مولاناابوالکلام آزادرحمۃ اللہ علیہ کی وفات پرکہاتھا:
تری لحد پہ خدا کی رحمت، تری لحد کو سلام پہنچے * تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے!

You might also like