Baseerat Online News Portal

امریکہ: انتخابی نتائج میں تاخیر ممکن ہے، ووٹرز کو صبر سے کام لینا ہو گا

آن لائن نیوزڈیسک
امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ الیکشن کے روز، رات گئے تک حتمی نتائج مرتب نہ کیے جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بار ماضی کے برعکس ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اپنا ووٹ ڈاک کے ذریعے بھیجے گی، جن کی گنتی میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے لوگوں کو نتائج کے متعلق صبر و تحمل سے کام لینا ہو گا۔
عہدے داروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ چونکہ نتائج مرتب کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ عمل اگلے روز مکمل ہو۔ اس لیے نتائج کے متعلق غلط اور گمراہ کن خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر روس سے منسلک میڈیا ادارے ایسا کر سکتے ہیں۔ لہذٰا امریکیوں کو بہت احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ انہیں چاہیے کہ وہ صرف مستند قومی ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔
امریکہ کے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر کربز نے منگل کے روز سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک ورچوئل کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر ان کی گنتی میں زیادہ وقت لگے گا، اس لیے لوگوں کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کربز نے لوگوں کو الیکشن کے نتائج کے سلسلے میں صبر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن اب اس مشورے کی اہمیت اس لیے بڑھتی جا رہی ہے کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہا ہے، ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجنے پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔
امریکی ریاست کولوراڈو کے ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے چیف انفارمیشن آفیسر ٹریور ٹمونز نے کہا ہے کہ انتخابی عہدے دار اس وقت جس ایک پہلو پر بہت زیادہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ ووٹرز اور میڈیا کی توقعات ہیں، اور انہیں صورت حال کے بارے میں تیار کرنا ہے۔
کولوراڈو ان چند امریکی ریاستوں میں شامل ہے جو اپنے تمام درج شدہ ووٹرز کو الیکشن سے کئی ہفتے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجنے کی اجازت دیتی ہے۔
اس سال کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر کئی دوسری ریاستوں نے بھی اس بارے میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اکثر ریاستوں کے قوانین مختلف ہیں کہ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی کب شروع کی جا سکتی ہے۔
قانون کے تحت کولوراڈو کے انتخابی عہدے دار الیکشن سے 15 دن پہلے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی شروع کر سکتے ہیں، لیکن اس کے نتائج کا اعلان الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے کا وقت ختم ہونے سے پہلے نہیں کر سکتے۔
اس کے برعکس کم ازکم 15 ریاستیں ایسی ہیں جہاں کے قوانین الیکشن کا وقت ختم ہونے سے پہلے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی کی اجازت نہیں دیتے۔
سائبر سیکیورٹی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر ٹمونز کہتے ہیں کہ امکان یہی ہے کہ الیکشن کے دن تین نومبر کو شام سات بجے ہمیں نتائج کا علم نہیں ہو سکے گا۔ ممکن ہے کہ ہمیں آدھی رات تک بھی نتائج معلوم نہ ہو سکیں۔
انتخابی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کا ہدف یہ ہے کہ ووٹرز کو تمام امکانات کے متعلق آگاہ کریں اور انہیں ووٹنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار کریں۔ ٹمونز کہتے ہیں کہ اگر ووٹر اس لیے ووٹ نہ ڈالیں کہ انہیں انتخابی طریقہ کار پر بھروسا نہیں ہے تو پھر خراب لوگ جیت جائیں گے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی میں سائبر سیکیورٹی کے ایک سینئر ایڈوائزر میتھیو ماسٹرسن کہتے ہیں کہ ہمارا ہدف امریکی عوام کو الیکشن کی جانب لانا ہے۔
الیکشن میں ووٹنگ کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم چیز جھوٹی خبروں کو روکنا بھی ہے۔ امریکی عہدے دار اور سوشل میڈیا کمپنیاں لوگوں کو مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ انہیں مستند اور مصدقہ خبریں کہاں سے مل سکتی ہیں اور انہیں کن غیر ملکی میڈیا ذرائع سے اجتناب کرنا ہے۔
امریکہ میں ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔ الیکشن سسٹمز اینڈ سافٹ ویئر کے نائب صدر کرس والزچن کہتے ہیں کہ ووٹنگ مشنیوں کو ہیک کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم ان کی ہر طرح سے جانچ پرکھ کرتے ہیں اور ہمارا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے۔
انتخابی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے نظام پر لوگوں کا اعتماد بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری توجہ ووٹنگ کے عمل کی درستگی پر ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ماسٹرسن کہتے ہیں کہ انتخابی عہدے دار ووٹوں کو پراسس کریں گے اور ان کی گنتی کریں گے اور آپ کو تصدیق شدہ اور درست نتائج ملیں گے جس کی آپ کی توقع رکھتے ہیں۔

You might also like