Baseerat Online News Portal

راحت اندوری کی یاد میں آن لائن طرحی مشاعرہ کا انعقاد

راحت اندوری کی یاد میں آن لائن طرحی مشاعرہ کا انعقاد

ریاض، سعودی عرب

مشاعروں کی دنیا کے طرح دار اور مزاحمت کی بلند و بالا آواز راحت اندوری کی یاد میں ادارہ ادب اسلامی اور ایف آئی سی ریاض سعودی عرب کے زیر اہتمام ایک آن لائن بین الاقوامی زوم مشاعرہ انعقاد کیا گیا۔ راحت اندوری کے دو مصرعے ” ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے، ، اور”میں چاہتا ہوں کوئی اور کاروبار کروں ،،بطور طرح دیئے گئے تھے ،جن پر شعراء کرام نے شاندار گرہیں لگائیں۔

مشاعرہ کا آغازقاری منت اللہ کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا ، اس کے بعد جمیل احمد نے رضوان الہ آبادی کی حمد جبکہ حسان عارفی اور اسمعیل روشن نے نعت پاک پڑھی ۔اس مشاعرے کی صدارت پانچ شعری مجموعوں کے خالق اورعالمی شہرت یافتہ شاعر افتخار راغب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض منصور قاسمی نے انجام دیئے اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے معتبر شاعر ظفر فاروقی موجود رہے ۔منصور قاسمی نے راحت اندوری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:راحت اندوری اپنے کلام اور آواز سے ہر دور میں پہچانے جائیں گے ، ان کی دلکش اور سحر طراز شاعری ہمیشہ سنی جائے گی ۔اس کے بعد باضابطہ شعری سفر کا آغاز ہوا ، منتخب اشعار پیش ہیں ۔

نہ یار غار سا ثانی کوئی ملے گا کہیں

نمایاں سب سے ابو بکر کی یہ عظمت ہے ۔۔۔ اسماعیل روشن

عدالتوں کے عجب فیصلوں سے لگتا ہے

حکومتوں کے احا طے میںاب عدالت ہے ۔۔امتیاز احمد امتیاز

متاع دنیا میسر ہو پا ک و صاف اگر

خدا کی راہ میں انفاق بے شمار کروں ۔۔۔۔۔۔۔ضیاء عرشی

دیے کے ساتھ ہی آنکھیں جگی ہیں ہرلمحہ

وہ کہہ گیا ہے کہ میں اس کا انتظار کروں۔۔۔۔سعید اختر اعظمی

بدن کا قرض بھلا کب تلک اٹھائے پھروں

اے موت !آ کہ میں چکتا ترا ادھار کروں۔۔۔حسان عارفی

راحت دلوں کا چین چرا کر چلا گیا

بزم سخن کی شمع بجھا کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔ ابو نبیل مسیح دکنی

وہ اردو جس سے تمہیں ہمنشیں عداوت ہے

اسی زبان میں دل جیتنے کی طاقت ہے ۔۔خورشیدالحسن نیر

چلا رہے ہیں جو سدبھاونا مہم اکرم

وطن کی روح کو اس کی بڑی ضرورت ہے ۔۔۔اکرم علی اکرم

خدا نے ذہن کو دانش کدہ بنایا ہے

مرا یہ فرض ہے اوروں کو ہوشیار کروں۔۔۔دانش ممتاز

دکھا کے خواب فلک پر محل بنانے کا

فریب کار کو گھر لوٹنے کی عادت ہے۔۔۔منصور قاسمی

خدا سے تم کو اگر واقعی محبت ہے

نبی کے حکم کی تعمیل میں اطاعت ہے ۔۔۔اعجازاحمد اعجاز

ضمیر بیچنے والوں کی آج عزت ہے

ان ہی کی آج زمانے میں خوب شہرت ہے۔۔ریاض تنہا

سنا رہے ہیں وہ غزلیں مجھے ترنم سے

سو امتحان میںیہ قوت سماعت ہے۔۔۔۔شوکت جمال

مجھے ہے شوق کہ خوشبو کا کرو بار کروں

ہر ایک دل کو محبت سے مشک بار کروں۔۔۔۔۔طاہر بلال

غزل کو میں نے سنوارا ہے اپنا خوں دے کر

اسی لئے تو ظفرکی غزل میں رنگت ہے ۔۔۔ظفر فاروقی

دل کو کچھ اور آرہا ہے نظر

کیسے آنکھوںپہ اعتبار کروں ۔۔۔۔۔۔۔افتخار راغب

اس مشاعرے میں ہندو پاک کے علاوہ خلیجی ممالک کے بہت سے سامعین شریک تھے ۔حسان عارفی کے کلمات تشکر کے ساتھ مشاعرہ کا اختتام ہوا۔

 

 

 

 

You might also like