Baseerat Online News Portal

بریگزٹ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں برطانیہ کی معیشت پرگہرے اثرات مرتب ہوں گے:جرمنی وائس چانسلر

آن لائن نیوزڈیسک
جرمنی کے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین برطانیہ کے ساتھ مذکرات کی ناکامی کے لیے تیار ہے لیکن اس کے برطانوی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔جرمن وائس چانسلر اور وفاقی وزیر خزانہ اولاف شولس نے برطانوی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بریگزٹ سے متعلق تجارتی معاملات طے نہ ہوسکے تو اس کے نقصانات کی ذمہ داری برطانیہ پر ہوگی۔
ہفتے کے روز برلن میں یورپی وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد شولس کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل کی تجارت کے حوالے سے معاملات طے نہ ہوسکے تو یورپی یونین تو اس صورتحال سے نمٹ لے گی لیکن اس کے برطانوی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت کا سلسلہ ٹوٹنے کی صورت میں ”یورپ ان حالات سے نمٹ لے گا۔ ہم نے اس کے لیے تیاری کر رکھی ہے اس لیے یہ اتنا مشکل نہیں ہوگا۔‘‘
اس موقع پر یورپی یونین کے اقتصادی کمشنر پاؤلو جینٹیلونی نے کہا کہ اب یہ برطانیہ پر منحصر ہے کہ وہ ‘اعتماد کی بحالی‘ کے لیے اقدامات کرے۔
برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ سے متعلق تجارتی معاملات اکتوبر کے آخر تک طے ہونے ہیں۔ تاہم برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ ہفتے واضح کردیا تھا کہ اگر پندرہ اکتوبر تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ان کا ملک بریگزٹ مذاکرات سے الگ ہو جائے گا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق جوں جوں سمجھوتہ طے کرنے کی مہلت ختم ہو رہی ہے فریقین کی طرف سے ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیان بازی میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
پچھلے ہفتے برطانیہ کے چیف مذاکرات کار ڈیوڈ فروسٹ نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ بریگزٹ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ کو کسی طرح کا خوف نہیں ہے اور حکومت اپنے اصولوں اور مؤقف سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
کہنے کو برطانیہ اس سال اکتیس جنوری سے یورپی یونین سے علیحدہ ہو چکا ہے لیکن اس پر عملدرآمد اگلے سال سے شروع ہونا ہے۔ فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سال کے آخر تک باہمی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور اس عبوری دور کے دوران مستقبل کے معاملات کا تعین کیا جائے گا۔
برطانیہ اور یورپی یونین کے لگ بھگ پچاس سالہ تجارتی تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کرنے کے لیے بہت سارے کاروباری معاہدوں اور قانونی لوازمات کو از سر نو طے کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جس پر بعض معاملات پر سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔
اگر فریقین واقعی بغیر کسی معاہدے سے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں تو اس سے ان کے درمیان تقریباﹰ ایک ٹرلین ڈالر کی تجارت کا ایک بڑا حصہ بے یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔

You might also like