Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

ممتاز محقق، مصنف اور دانشور پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی کے سانحۂ ارتحال پر اے ایم یو برادری سوگوار
علی گڑھ 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی علوم کے سابق صدر اور ممتاز اسلامی اسکالر اور مصنف، پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی کا طویل علالت کے بعد آج انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76سال تھی۔
پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی نے 40 سے زائد کتابیں اور 300 سے زائد تحقیقی مضامین اردو، عربی اور فارسی زبان میں شائع کیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات وتعلیمات پر ان کی کتاب کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔معروف ادبی جریدہ ” نقوش” میں ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوئے اور ان کی ادبی و تصنیفی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں بین الاقوامی ” نقوش ایوارڈ ”، ‘سیرت رسول ایوارڈ’ اور ‘سیرت نگاری ایوارڈ’ سے سرفراز کیا گیا۔
پروفیسرصدیقی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم تھے اور انہوں نے ابتدا میں دس سال یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ میں تدریسی خدمات انجام دیں اور بعد میں شعبہ علوم اسلامی میں ریڈر کے عہدے پر فائر ہوئے اور پروفیسر اور چیئرمین بنے۔ انہوں نے آفتاب ہال کے پرووسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصورنے پروفیسر صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے سیرت نگاری کے میدان میں نئے ابعاد روشن کیے۔ ان کے انتقال سے علمی دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
پروفیسر نثار احمد، ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت پیش کی اور دعا کی کہ اللہ سوگواران کو صبر جمیل عطا کرے۔
پروفیسر محمد اسماعیل، صدر، شعبہ اسلامیات نے کہا کہ پروفیسر صدیقی کا شمار شعبہ کی تاریخ میں ممتاز ترین شخصیات میں کیا جائے گا اور ان کی تصنیفات کی روشنی میں آنے والے دور میں تحقیق کی نئے جہات کھلیں گی۔
پروفیسر عبید اللہ فہد نے ان کی وفات پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیرت نگاری کے میدان میں پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی کانام مولانا حالی اور علامہ شبلی نعمانی کے بعد خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے پیغمبرِ اسلام محمد مصطفیٰ صلی ا اللہ علیہ وسلم کی حیات اور سیرت پر گرانقدر علمی کارنامہ انجام دیا اور اس موضوع پر ان کی کتابوں کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی۔
٭٭٭٭٭٭
بین الاقوامی ورچوئل آرٹ نمائش کا افتتاح
علی گڑھ، 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی معین الدین احمد آرٹ گیلری اور فائن آرٹس شعبہ نے تھری ڈی آرٹ گیلری، برلن، جرمنی میں مشترکہ طور سے ایک بین الاقوامی ورچوئل آرٹ نمائش کا اہتمام کیا جس میں جرمنی، امریکہ، ترکی، سعودی عرب سمیت 16 ملکوں کے 70؍آرٹسٹوں نے اپنے فن پاروں کی نمائش کی ہے۔ 5؍اکتوبر 2020 تک جاری رہنے والی اس نمائش میں مجموعی طور سے 115 فن پارے شامل کئے گئے ہیں۔نمائش کا عنوان ہے: ’اے واک اِن ٹائم‘۔
سِسکو ویبیکس پلیٹ فارم پر نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے نامور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے کہاکہ آرٹ انسان کو دوسروں کے جذبات و احساسات کے تئیں بیدار کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مادّی وسائل کے حصول کی بھاگ دوڑ میں آرٹ انسانیت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا ’’موجودہ وقت میں آرٹ سے لوگوں کو قریب لانے کے لئے نئے وسائل و ذرائع اپنانے ہوں گے اور ورچوئل نمائش موجودہ وقت کی ضرورت ہے کیوں کہ وبائی مرض کے وقت لوگ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں‘‘۔
فائن آرٹس شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر بدر جہاں نے کہا کہ بین الاقوامی ورچوئل نمائش سے اے ایم یو کے طلبہ و طالبات کو بین الاقوامی آرٹسٹوں سے مربوط ہونے اور آرٹس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہاکہ اس ورچوئل نمائش میں شامل آرٹسٹ مستقبل میں منعقد ہونے والی نمائشوں کا بھی حصہ رہیں گے۔ ڈاکٹر وسیم مشتاق نے افتتاحی تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔
ورچوئل نمائش کو http://artspaces.kunstmatrix.com/en/exhibition/2321035/a-walk-in-time پر دیکھا جاسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
پائیدار ترقی اور گرین اِنرجی کے موضوع پر پانچ روزہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ کی جانب سے ’پائیدار ترقی اور گرین اِنرجی‘ کے موضوع پر اے آئی سی ٹی ای ٹریننگ اینڈ لرننگ اکیڈمی (اٹل) کے تحت پانچ روزہ آن لائن فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا جس میں اے آئی سی ٹی ای سے تعلیم شدہ اداروں کے اساتذہ، ریسرچ اسکالر، اعلیٰ کورسوں کے طلبہ، حکومت و صنعت اور انتظامیہ سے وابستہ افراد اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل 200 ؍افراد شریک ہوئے۔
پروگرام کوآرڈنیٹر ڈاکٹر محمد ریحان نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اے ایم یو کیمپس میں گرین اِنرجی اور توانائی تحفظ اقدامات اپنانے پر پورا زور دے رہے ہیں اور اسی کے اعتبار سے یہ تربیتی پروگرام منعقد ہوا جس کے شرکاء کو اے ایم یو کے کامیاب تجربات سے واقف کرایا گیا۔
فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کی افتتاحی تقریب کا انعقاد اے آئی سی ٹی ای نے براہ راست کیا تھا جس کے مہمان خصوصی اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین پروفیسر انل ڈی سہسرابُدھے تھے، جب کہ اے ایم یو کی نمائندگی پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ (پرنسپل، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی) اور ڈاکٹر محمد ریحان (شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ) نے کی۔ افتتاحی تقریب میں پروفیسر سفیان بیگ نے قومی پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں اے ایم یو کے کردار پر روشنی ڈالی۔
پانچ روزہ پروگرام میں اے ایم یو سمیت آئی آئی ٹی دہلی ، دَ اِنرجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ٹیری)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی، نالندہ یونیورسٹی، پی ڈی پی یونیورسٹی آف گجرات، سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا، وزارت جدید و قابل تجدید توانائی وغیرہ کے ماہرین نے خطبات پیش کئے ۔ مسٹر محمد زاہد (اسسٹنٹ پروفیسر) پروگرام کے معاون کوآرڈنیٹر تھے۔
٭٭٭٭٭٭
بایوکیمسٹری شعبہ میں شجرکاری مہم
علی گڑھ، 15؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بایو کیمسٹری شعبہ میں شجرکاری مہم کے تحت مختلف پودے لگائے گئے۔ شعبہ کے اساتذہ اور عملہ نے اس مہم میں حصہ لیا۔
صدر شعبہ پروفیسر محمد تابش نے کہاکہ شجرکاری مہم کا اہتمام اور پودوں کا تحفظ ماحولیات کے لئے ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عوامی سطح پر بیداری لازمی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ملک گیر سطح پر جگہ جگہ ایک مہم کے طور پر پودے لگائے جاتے ہیں جس سے دوسروں کو بھی ترغیب ملتی ہے۔ شجرکاری مہم میں پروفیسر وسیم احمد (ڈین، فیکلٹی آف لائف سائنسز)، پروفیسر قیوم حسین، پروفیسر عمرانہ نسیم، پروفیسر سلیم جاوید اور پروفیسر ذکی انور صدیقی (ایم آئی سی، لینڈ اینڈ گارڈن) شامل ہوئے۔

You might also like