Baseerat Online News Portal

اردو کی بقاء کے لئے جاری تحریک سے اردو کی روٹی کھانے والے ہی غائب، اردو کے حقوق کے لئے جاری مہم سے سرکاری ٹیچروں کی غیر حاضری پر عوام برہم

رکسول۔ 15 / ستمبر ( محمد سیف اللہ )

ان دنوں بھلے ہی پورا چمپارن اردو کی بقاء کو یقینی بنانے کے لئے سراپا احتجاج بنا ہو مگر اس سلسلے کا سب سے قابل افسوس پہلو یہ ہے اردو کی روٹی کھانے اور اردو کے نام پر ماہانہ دس ہزار سے ایک لاکھ اور اس سے زائد تک کمانے والے لوگوں کا اس مہم میں دور دور تک کہیں پتہ نہیں ہے،اب اس سوال کا جواب تو ان ہی کے پاس ہوگا کہ آخر تحریک سے دوری بنائے رکھنے کا مقصد کیا ہے اور انہوں نے کیوں چپی اختیار کر رکھی ہے لیکن اتنا تو ضرور ہے اردو کے سہارے زندگی گزارنے والے ہزاروں اردو ٹیچروں کے خلاف یہاں کی عوام میں سخت ناراضگی ہے ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے سرکار کے دباو میں آکر خود کو اس سے دور رکھا ہے،یہاں لے لوگ مانتے ہیں کہ جب اردو کے بہانے سرکاری ٹکڑوں پر پلنے والے لوگوں کو ہی اردو کی بقاء وتحفظ کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تو پھر بہار کو اردو کو زندہ رکھ پانا کیسے ممکن ہو پائے گا اور یہ سچ بھی ہے کیونکہ اگر آپ ذرا گہرائی میں جاکر دیکھیں گے تو جو لوگ ہزاروں روپے ماہانہ سرکار سے تنخواہ پاتے ہیں وہ دو تین روپے کا اردو اخبار تک نہیں خرید پاتے ان کے گھروں میں یاتو ہندی کے اخبار آتے ہیں یا پھر انگریزی کے،ظاہر ہے کہ اس صورت حال کو کسی بھی طرح اردو کے شاندار مستقبل کی علامت نہیں کہا جا سکتا یہی وجہ کہ گزشتہ دو روز قبل رکسول میں محبان اردو کی ایک ہنگامی میٹنگ میں سرکاری اداروں میں کام کرنے والے مقامی ٹیچروں کی غیر حاضری کا سرحدی علاقہ کے حساس لوگوں نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کے اس طرز عمل کی سخت مذمت کی ہے آداپور بلاک کے سابق پرمکھ محمد اسلم نے اپنے سخت رد عمل میں کہا کہ اردو کی بقاء کے لئے لڑی جارہی جنگ میں اردو کی روٹی کھانے والے لوگوں کی عدم دلچسپی ایک فکر مندی کی بات ہے جس کے آنے والے دنوں میں بھیانک نتائج سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ چمپارن کا چپہ چپہ سراپا احتجاج بن کر سرکار کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہا ہے سرکاری ٹیچروں کا منظر نامہ سے غائب رہنا ان کی تنگ خیال اور مطلب پرستی کو واضح کرتا ہے لیکن انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اگر اردو زبان نہیں بچے گی تو کل وہ بھی زمین پر آنے کے بعد بھیک کا کٹورا لئے در در بھٹکیں گے،انہوں نے کہا کہ اردو کے نام پر ہزاروں لاکھوں روپے سرکار سے تنخواہ پانے والے لوگ اردو کے نستقبل کے تعلق سے اس قدر غافل ہوں گے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ اگر اردو کے خلاف سازش کارگر ہو جاتی ہے تو نہ ہماری نئی نسل بہت سے حقوق سے محروم ہو جائے گی بلکہ بہت سے سرکاری ٹیچروں کو بھی نوکری سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہونا پڑے گا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مقامی سطح کے اردو اساتذہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح اردو اساتذہ نے تحریک سے دوری بنائے رکھی تو انہیں بے نقاب کرنے کے لئے بھی عوام میں بیداری لائی جائے گی اور ان کےطخلاف مورچہ کھولا جائے گا،مفتی ضیاء الحق نے اردو کے نام پر بلائی گئی میٹنگ سے اردو کے سہارے جینے والے لوگوں کا غائب رہنا ان کی مفاد پرستانہ ذہنیت کی ترجمانی کرتا ہے مگر ہمیں یقین رکھنا چاہئیے کہ آنے والا وقت ایسے لوگوں سے حساب ضرور مانگے گا،انہوں نے کہا جب اردو کی روٹی کھانے اور اونچے اونچے سپنے دیکھنے والے لوگ ہی اردو کے دشمن بن جائیں تو پھر کسی خیر کی امید کرنا دیوانے کے خواب کی طرح ہوگا،انہوں نے کہا ہماری تحریک صرف نئی نسل کے مستقبل کے لئے نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے ٹیچروں کے لئے بھی ہے مگر انہیں اس کا احساس نہیں ۔

You might also like