Baseerat Online News Portal

بی جے پی کی گھٹیا سیاست کو سشانت،ریا اور کنگنا کا سہارا

بہار الیکشن پھانسی کے دم پر’’بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے‘‘

تحریر: سید فاروق احمدسید علی
9823913213
محترم قارئین کرام!کچھ دنوں سے آپ دیکھ رہے ہوںگے کہ کس طرح سے گودی میڈیا چینلوں پر صرف ایک ہی بات چل رہی ہے۔ اور وہ ہے سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے جڑا معاملہ۔
سشانت راجپوت نے خود کشی کیوں کی؟ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے؟ سشانت سنگھ نے آخری بار کس کو کال کیا؟ سشانت سنگھ کی گرل فرینڈنے تو انہیں پھانسی پر نہیں چڑھادیا؟ اور کون کون جڑے ہیں اس خودکشی کے کیس سے۔۔۔۔۔۔ریا چکروتی کون ہے؟ریاچکروتی نےہی رچی ہوگی سشانت کی موت کی کہانی۔۔۔۔۔حد ہے دوستو۔۔۔۔مانو ایسا چل رہا ہے جیسا یہ پورے ملک کی ناک کا مسئلہ ہو۔۔۔اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو جیسے سونامی آجائے گی۔۔۔ کہ آخر سشانت سنگھ کو انصاف کب ملے گا؟
بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہےکہ گودی چینلوں پر چاٹو کر اینکر چلا چلا کر کبھی مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو نازیبا الفاظ میں ڈانٹتے ہوئے نظرآتے ہیں تو کبھی ۔۔۔۔شیوسینا کے دیگر لیڈران پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
وہ ایک نمبر کا سنگھی چاٹوکر اینکر ارنب گوسوامی کی آپ لینگیوج تو دیکھئے کہ کس طرح سے وہ سشانت سنگھ کی خودکشی سے متعلق سے ادھو ٹھاکرے سے مخاطب ہے۔
مانو ارنب گوسوامی ادھو ٹھاکرے جی کا جیسے باپ ہو۔۔۔۔آخر اتنی ہمت اور جرات کہاں سے مل رہی ہے ان دو ٹکے کے چاٹوکریتا ٹی وی چینلوں کے اینکروں کو۔۔۔سشانت کی موت کو لے کر خوب ڈبیٹ کئے جارہے ہیں۔ ہر اینگل سے اس موت کو دیکھا جارہا ہے۔ ابھی ادھر گودی چینلوں پر دھوم دھڑاکے سے یہ سرکس جاری تھا کہ اس میں ایک اور بندریا جڑگئی ہے ۔جو خود کو ایک کامیاب اداکارہ سمجھتی ہیں۔ جبکہ اس کی اداکاری کو دیکھ کر اور اس کے کریئر کو دیکھ کر توایسانہیں لگتا ہے کہ اس نے ایسا کوئی کام کیا ہو کہ واقعی وہ کامیاب اداکارہ کہلانے کے لائق ہیں۔
وہ بندریا ادکارہ کنگنا رانوت جس نے سشانت سنگھ کے ساتھ فلم میں کام کرنے سے منع کردیا ۔وہ کنگنا رانوت جس نے ممبئی میں رہتے ہوئے کبھی سشانت سنگھ سے ملنا گوارا نہیں کیا وہ سی کلاس ایکٹر آج کل سشانت سنگھ کے لئے انصاف مانگتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
اچانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اتنا بھونچال کہاں سے آگیا۔ ۔۔۔کنگنا رانانوت کے روزآنہ ٹویئٹر اکائونٹ پر لاکھوں کی تعداد میں فالورز بڑھتے جارہے ہیں۔ ۔۔۔۔کنگنا رانوت اچانک کیوں کود پڑی اس خودکشی کے معاملے میں ۔۔۔اچانک سشانت سنگھ راجوپت کو بچانے والے اس کی فیملی کو انصاف دلانے والے کہاں سے کود پڑے۔
آخر کیا ہوگیا ہے کہ اچانک سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ نیشن کا معاملہ بنادیاگیا ہے۔ اور اس کی خودکشی کو کرسی کی جنگ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔
تو دوستو میں بتاتا ہوں آپ کو کہ آخر معاملہ کیا ہے۔۔۔۔جیسا کہ میں آپ کو پچھلے ۲ تین ماہ سے بتا رہا ہوں کہ مودی حکومت بھاجپ حکومت سنگھی حکومت ملک کے ہر مسائل کو حل کرنے ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔
کرونا کو لے کر سرکار کا کام کاج اور کرونا کو قابو کرنے میں مودی انتظامیہ پوری طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ ملک کی جی ڈی پی انتہائی گھٹیا مقام پر پہنچ گئی ہے۔ بہار لوٹے مزدوروں کو کام کاج نہیں مل رہا ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے۔ آدھا بہار سیلاب کی چپیٹ میں ہے۔ چین من مرضی اند رگھستا جارہا ہے۔ ایسے میں ان سارے مدعوں کا بھاجپ اور مودی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
لہذا ایسے میں بھاجپ کو گودی میڈیا کے سہارے کے ساتھ ساتھ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ مل گیا ہے۔
اور پھر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اب بہار میں چنائو ہونے والے ہیں لہذااس سے اچھا مدعا بھاجپ کو اور کیا مل سکتا ہے کہ بہار سے تعلق رکھنے والے سشانت سنگھ راجپوت کو لے کر ہی سیاست کھیلی جائے۔
لہذا اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ بہار میں انتخابی ریلیوں کے درمیان جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت ہیش ٹیگ چلا کر اور سشانت سنگھ کے ماسک بناکر اور نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے والی لائنیں لکھ کربہار کے اند ھ بھکتوں کو مزید اندھ بھکت بنانے کا کھیل اس وقت جاری کر رکھاہے۔
اور پھر آپ لوگ یہ اچھی طر ح سے جانتے ہیں کہ بی جے پی جذباتی مدعوں کو لے کر ہر بار الیکشن میں نیا پتہ کھیل جاتی ہے لہذ اس نے جذباتی ماحول بنانے کے لئے جی جان سے مصروف ہوگئی ہے۔ اور عوامی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اس نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش تک کردی ہے ۔
کیونکہ بھاجپ کو یہ اچھی طریقے سے پتہ ہے کہ اگر بہار اسمبلی انتخاب میں اگر اس مدعے کو نہیں بھنایاگیا تو پھر بھاجپ کے لئے بہت مشکلیں کھڑی ہوجائے گی۔
دوستو اتنا ہی نہیں کہ سشانت سنگھ راجپوت کے اسٹیکر ہورڈنگس اور ماسک بنائے گئے بلکہ وقتاً فوقتاً سشانت سنگھ راجپوت کے جذباتی ویڈیوز بھی بھاجپ آئی ٹی سیل اپلوڈ کرتا جارہا ہےتاکہ لوگ جذباتی طور پر ان سے جڑ جائے اور وہ اپنا کام کرجائے۔
لہذا بھاجپ نے اصل سوالوں سے بچنے کے لئے جذباتی مدعے کا سہارالیا تو لیا ہی ساتھ ہی اسے بہار کی شان اور وقار سے جوڑ دیا ۔اور کسی بھی طریقے سے کیس میں کمی نہ رہ جائے اس لئے بھاجپ نے ایسا کھیل کھیلا کہ یہ معاملہ بجائے پٹنہ پولس ممبئی پولس کے حوالے یہ جانچ سونپ دیتی اور اصول بھی یہی تھا لیکن اس نے ایسا نہ کرتے ہوئے ڈائریکٹ جانچ ٹیم کو ہی ممبئی بھیج دیا۔جس کے بعد آپ نےد یکھا کہ ممبئی پولس اور بہار پولس میں کھینچ تان شروع ہوگئی۔
اور پھر ایک دوسرے پر سوالیہ نشان لگانے لگے۔حد تو تب ہوگئی دوستو جب ایک نئی دو نہیں بلکہ تین تین جانچ ایجنسیاںاس خودکشی والے معاملے سے جڑگئی ہے۔ جبکہ یہ بات یاد رہے کہ تینوں ہی جانچ ایجنسیاں مرکزی حکومت کے ماتحت آتے ہیں اور مرکز وریاست میں این ڈی اے کی سرکار ہے؟ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسٹس فار سشانت سنگھ ہیش ٹیگ چلا کر بہار میں بی جے پی کس سے جسٹس مانگ رہی ہے؟
دراصل، بی جے پی کو لگ رہا ہے کہ بہار کی عوام میں سشانت کو لےکر ایک جذباتی ماحول بنا ہوا ہے اور صرف سشانت کی تصویر دکھاکر اور یہ بتاکر کہ سی بی آئی جانچ کراکر سشانت کو انصاف دلایا جا رہا ہے، عوام کو بیوقوف بنا کر ان کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ بہارانتخاب میں اس مدعے کوزورشور سے رکھنے کی حکمت عملی تیار کر چکی ہے۔لیکن، سوال یہ ہے کہ 15 سال تک بہار میں سرکار چلا چکی بی جے پی اسمبلی انتخاب میں سشانت راجپوت کی موت کو مدعا کیوں بنا رہی ہے؟کیا اس کے پاس اب کوئی ہندو مسلم مدعا نہیں بچا ہے ؟کیونکہ اب رام مندر کے نام پر پھر سے کوئی دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔
ایسے میں حیرت اس بات پر بھی کی جارہی ہے کہ اپوزیشن کیا کررہی ہے؟اپوزیشن کیوں حکومت کی ناکامیوں کو سامنے نہیں لارہی ہے۔خیر وہ الگ موضوع ہے کہ اپوزیشن کیوں متحرک نہیں ہورہی ہے۔
ایسے میں سشانت سنگھ راجپوت کے بچائو میں اترنے والی سی گریڈ ایکٹر کنگنارانوت کیوں کود پڑی۔۔۔۔جس کے نام سے اس کو کبھی نفرت ہوتی تھی وہ کیوں اس کے قصیدے گانے لگی۔۔۔۔۔۔۔جس سے یہ بات پوری طرح سمجھ میں آتی ہے کہ ان دنوں بی جے پی نے اپنا شفقت کا ہاتھ سونو سوڈ کی طرح اب کنگنا رانوت پر رکھ دیا ہے۔
بجائے بی جے پی کا کوئی ذمہ دار اس کیس کے تعلق سے بات کرتا انھوں نے سیدھے سیدھے کنگنا رانونت کو شیوسینا کے خلاف میدان میں اتار دیا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ پورا گودی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ اس دیش میں سب سے زیادہ جان کو خطرہ کپل مشرا،ارنب گوسوامی اور کنگنا رانوت کو ہے۔ لہذا سینٹرل گورنمنٹ نے ان تینوں کو وائے پلس سیکوریٹی دے دی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔کیا چل رہا ہے دوستو یہ ملک میں۔۔۔۔
کنگنا رانوت آئے دن بے تکے بیانات دیتی جارہی ہے اس نے ممبئی کو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کا حصہ کی طرح ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس نے بالی ووڈی کو بھائی بھتیجا واد کہہ کر نشانہ بنایا تھا تو کبھی ممبئی پولس کی ایمانداری اور کارگذاریوں پر سوال اٹھا کر ان کے حوصلوں کو پست کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔ آخر اس فالتو اداکارہ کی اتنی ہمت بڑھ کیسے گئی۔ کہ وہ ڈائریکٹ ڈائریکٹ ادھو ٹھاکرے سرکار سے بھڑ رہی ہے۔ وہ بے خوف وخطرسنگھی اور آر ایس ایس کے غنڈوں والی باتیں کرکے ان کی واہ واہی لوٹ رہی ہے۔ اور گودی چینلوں پر اس کو خوب ہوا بھی دی جارہی ہے۔ جبکہ اگر کنگنا کا یہی بیان کہ ممبئی پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے اگر کوئی مسلمان اداکار یا کوئی اور مسلم شخص کہہ دیتا تو اب تک پتہ نہیں وہ یا تو جیل میں ہوتا یا پھر خود کشی کرگیا ہوتا۔اور گودی چینلوں پر جیسے ڈبیٹ کی بھرمار لگ جاتی۔
لیکن حیرت ہے گودی چینلوں نے اپنے نام کی طرح بالکل کچھ بھی نہیں کہا کہ کنگنا کیا کہہ رہی ہے۔
دوستو آپ کو یاد ہوگا ۔۔۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب ملک میں ماب لینچنگ کا سلسلہ چل پڑا تھا جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا متعدد مسلمانوں کو ماب لینچنگ کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جس میں، اخلاق، پہلو خاں اور جنید خان کانام شامل ہے مسلمانوں کے کھانے پر بھی پابند ی لگا دی گئی تھی ملک کی زہریلی فضا کو دیکھتے ہوئے بالی ووڈ فلم کے مشہور و معروف اداکار و پروڈیوسر عامر خان نے انٹولرنس کی بات کی تھی انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ یہاں مجھے ڈر لگنے لگا ہے، اتر پردیش میں انسپیکٹر سبودھ کانت کی ماب لینچنگ میں قتل کئے جانے کو لے کر فلم اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ماب لینچنگ پر سوال اٹھائے تھے۔اس وقت دونوں مسلم اداکار کے خلاف جس طرح سے فرقہ پرست تنظمیموں کے کارکنان اور گودی میڈیا نے مہم چلائی تھی اسے بھلایا نہیں جا سکتا ایک طرف عامر خان کو پاکستان جانے کی بات کہی جا رہی تھی وہیں نصیر الدین شاہ کو ایک بی جے پی قائد نے انہیں پاکستان کا ٹکٹ بھی بنوا کر بھیج دیا تھا۔پورے ملک میں ان مسلم اداکاروں کے خلاف مورچہ کھول دیا گیا تھا دوسری جانب گودی میڈیا بھی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ انہیں دیش دروھی کا بھی خطاب مل گیا تھا۔
دونوں مسلم اداکاروں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس سے انہیں پاکستان بھیجنے اور دیش دروھ کا تمغہ دیا جا تا انہوں نے مودی حکومت کو صرف آئینہ دکھانے کی بات کی تھی انہوں نے ملک میں ہو رہے ماب لینچگ کو روکنے کی بات کی تھی لیکن انکی یہ بات فرقہ پرست تنظیموں اور گودی میڈیا کو راس نہیں آئی اور انکی زبان بند کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی۔
لیکن وہ سب باتیں تو گئی تیل لینے فی الحال بھاجپ مہاراشٹر حکومت ہاتھ سے جانے کا غم بھلا نہیں پارہی ہیں۔یہ ایک ایسا زخم دیاگیا ہے کہ مودی گورنمنٹ ان دنوں بہار الیکشن بھی مہاراشٹر کی راجنیتی گرما کر جیتنا چاہتی ہے۔ اسی لئے آپ دیکھ رہے ہوںگے کہ سشانت سنگھ کی گرل فرینڈکا جینا دوبھر کردیاگیا ہے۔آتے جاتے اس کے گھر کے باہر کیمرہ مین اور بکائو اینکر بکواس کرتے گھنٹوں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔گودی چینلوں کے کیمرہ مین اور اینکربھوکے بھیڑے کی طرح ریاچکرورتی کو گھیرنے لگے ہیں۔ گھر میں آنے جانے والے ہر شخص کو سوال کرکرکے پریشان کردیا جارہا ہے۔ کبھی بھاجپ کی دوسری آنکھ بنی شیوسینا آج وہی آنکھ میں کھٹکنے لگی ہے۔
سیدھے سیدھے بات یہی ہے کہ بھاجپ کوصرف کرسی چاہئے چاہے اس کے لئے کسی کی جان کیوں نہ چلی جائے۔ اس کو اس ملک کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مرنے دیں اس سے سنگھیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
شیوسینا کو چاہئے کہ شیواجی مہاراج کا اپمان کرنے والی۔ممبئی پولس کو ٹھینگا دکھانے والی اور ادھو ٹھاکرے کو حکومت چلانے کا سبق دینے والی دو ٹکے کی اداکارہ کو ایسا سبق سکھائیں کہ بی جے پی بہار الیکشن کے لئے صرف مدعے ہی ڈھونڈتے رہ جائیں۔
سچ تو یہ ہے کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک معمولی اداکارہ کا سہارا لے رہی ہے اوراس کا بھرپور ساتھ گودی چینل دے رہے ہیں۔ جس سے یہ بات بالکل آئینے کی طرح صاف ہوگئی ہے کہ اب مودی حکومت ملک کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ سشانت سنگھ کی خودکشی کو بھی وہ سیاست کے پلو سے باندھ کر کرسی کے لئے گھنائونا کھیل کھیلنے پر لگی ہوئی ہے۔
تھو ہے دوستو ایسی سیاست پر جوسچ اور جھوٹ ۔۔۔۔اچھا اور برے۔۔۔۔کے فرق کو ختم کردے۔اور اپنے مفاد کے لئے کسی کو بھی دائو پر لگا دے۔۔۔۔۔۔۔اللہ آپ تمام کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

٭٭٭٭٭٭

You might also like