Baseerat Online News Portal

سپریم کورٹ نے اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعات کے خلاف درخواست پرنوٹس جاری کیا

نئی دہلی16ستمبر(بی این ایس )
سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرنے کاارادہ کرنے والے جوڑوں کی تفصیلات ہیں۔ اگرچہ سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے درخواست گزار سے کہاہے کہ آپ نے استدلال کیا ہے کہ یہ ان کی رازداری کی خلاف ورزی ہے ، لیکن سوچیے کہ اگر بیوی یا بیٹی بھاگ جاتی ہے تو پھر انہیں (شوہر یا باپ کو)کیوں پتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ خصوصی شادی ایکٹ کی کچھ دفعات کوچیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائرکی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں کہاگیاہے کہ ان دفعات کے تحت دو بالغ افراد کو جانچ پڑتال سے قبل اپنی ذاتی تفصیلات کوعام کرناہوگا۔ یہ شادی اور رازداری کے ان کے بنیادی حق کومتاثرکرتی ہے۔ کیرالا کے قانون کی طالبہ ، نندینی پروین نے یہ پی آئی ایل دائرکی ہے جس میں کہاگیاہے کہ ذاتی تفصیلات کی اشاعت اکثر شادی کے حق کو متاثر کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شادی کرنے کے خواہشمند جوڑے کو رازداری کے اپنے حق سے محروم ہوناپڑتا ہے۔ یہ شادی کرنے کے لیے تمام جوڑوں کی خودمختاری ، وقار اور حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ مذہب اورذات پات کوتوڑ کر شادی کرنے والے جوڑے کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔درخواست میں خصوصی میرج ایکٹ کی بہت سی شقوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 14 ، 15 اور 21 میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

You might also like