Baseerat Online News Portal

لیڈران کے خلاف تفتیشی ایجنسیاں کوئی کارروائی نہیں کرتی ہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی16ستمبر(بی این ایس )
موجودہ اورسابق ایم ایل اے / ممبران اسمبلی کے خلاف زیر التوا فوجداری مقدمات جلد از جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ہائی کوررٹ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ برسوں سے زیرالتوامقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سابقہ اور موجودہ ممبران اسمبلی / ممبران اسمبلی (داغدار اور سابق ایم ایل اے ، ممبران اسمبلی) کے خلاف ایکشن پلان پیش کریں۔ عدالت نے کہاہے کہ تفتیشی ایجنسیاں ایف آئی آر درج کرتی ہیں اور پھر کچھ نہیں کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ معاملات میں پولیس وارنٹ پرعمل نہیں کرتی ہے۔ایمیکس کوریاکی جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ایک وزیراعلیٰ کے خلاف بدعنوانی کے تقریباََ 15 مقدمات اور منی لانڈرنگ کے کچھ معاملات زیرالتواہیں۔مرکزی حکومت نے کہاہے کہ وہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے اراکین اسمبلی/ممبران اسمبلی کے خلاف سماعت میں تیزی لانے کے کسی بھی حکم کاخیرمقدم کرتے ہیں۔ ان معاملات کو وقت مقررہ کے ساتھ نمٹایا جاناچاہیے۔اگر ممبران اسمبلی کے خلاف مقدمات پر برسوں تک التواہے تومتعلقہ عدالتوں کو ایک ماہ میں فیصلہ کرناہوگا۔

You might also like