Baseerat Online News Portal

لاک ڈائون میںمزدوروں کی فلاح کے لیے مثالی اقدام کیے گئے،سنتوش گنگوارکادعویٰ،ایک کروڑمزدورآبائی ریاست واپس ہوئے

نئی دہلی16ستمبر(بی این ایس )
مرکزی وزیر محنت اور روزگارسنتوش گنگوار نے آج کہاہے کہ کوویڈ-19 وباء کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعہ ہندوستان بھر میں مزدوروں سمیت مزدوروں کی فلاح اور روزگارکے لیے مثالی قدم اٹھائے گئے ہیں۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ مہاجر مزدوروں کے قانون کے مطابق مہاجر مزدوروں کا رجسٹریشن متعلقہ ریاستی حکومت کے ذریعہ کیاجاناچاہئے اور اس ڈیٹا کا رکھ رکھاؤ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ کیاجاناچاہیے۔تاہم کوویڈ-19 کی غیر معمولی صورتحال میں وزارت محنت اور روزگار میں مہاجر مزدوروں کا ڈیٹا جمع کرنے کی پہل کی ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران اپنی آبائی ریاستوں میں جارہے ہیں۔متعدد ریاستوں سے جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر پتہ چلا کہ تقریباً ایک کروڑ مہاجر مزدور کوویڈ-19 کے دوران اپنی اپنی ریاستوں میں واپس جاچکے ہیں۔وزیر محنت نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مہاجر مزدوروں کی فلاح کے لیے بہت سے قدم اٹھائے گئے ہیں۔لاک ڈاؤن کے فوراً بعد وزارت محنت اور روزگار کے ذریعہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھے کہ وہ عمارت اور دیگرتعمیراتی مزدوروں کے محصول فنڈ سے تعمیراتی مزدوروں کومالی مدد فراہم کریں۔ ایسا اندازہ ہے کہ مہاجر مزدوروں میں سب سے زیادہ تعداد تعمیراتی مزدوروں کی ہے۔ ابھی تک عمارت اور دیگر تعمیراتی مزدوروں کے محصول فنڈ سے، جس کا رکھ رکھاؤ متعدد ریاستوں کے ذریعہ کیاجاتا ہے،تقریباً 2 کروڑ مہاجر مزدوروں کے بینک کھاتوں میں 5 ہزار کروڑ روپے براہ راست بھیجے جاچکے ہیں۔لاک ڈاؤن کے دوران مہاجر مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وزارت محنت اور روزگار نے ملک بھر میں 20 کنٹرول روم قائم کئے تھے۔ لاک ڈاؤن کیدوران ان کنٹرول روم کے ذریعہ مزدوروں کی 15 ہزار سے زائد شکایتوں کا ازالہ کیاگیا تھا اور وزارت محنت اور روزگار کی مداخلت سے 2 لاکھ سے زیادہ مزدوروں کو ان کی بقیہ اجرت، جو کہ تقریباً 295 کروڑ روپے تھی، دلوائی گئی۔لاک ڈاؤن کے بعد پردھان منتری غریب کلیان یوجنا شروع کی گئی جس کے تحت ملک بھر کے غریب، ضرورتمند اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی مدد کے لئے 1.7 لاکھ کروڑ روپے کا مالی پیکج دیا گیا ہے۔ اس پیکج کے تحت80 کروڑ لوگوں کو 5 کلو گیہوں/ چاول اور ایک کلو دال فراہم کیا گیا ہے۔ تمام مستفیدین نومبر 2020 تک مفت اناج فراہم کیا جائے گا۔حکومت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس وبائی مرض اور چنوتی بھرے وقت کے دوران کوئی بھی ا?دمی اناج کے بغیر نہ رہے۔منریگا کے تحت یومیہ مزدوری کو 182 روپے سے بڑھا کر 202 روپے کردیا گیا ہے۔

You might also like