Baseerat Online News Portal

امارات اوربحرین کااسرائیل تعلقات بحالی معاہدہ پردستخط عربوں کی پیٹھ میں چھراگھونپناہے

آن لائن نیوزڈیسک
متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر دستخط کردیے، اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔
وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ”ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی۔” اس موقع پرصدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ‘یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس معاہدے سے ‘عرب۔اسرائیلی تصادم اب ہمیشہ کے لیے ختم‘ ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس پیش رفت میں مزید توسیع ہوگی اور دیگر عرب ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔

تاریخ کا دھارا بدل جائے گا
اس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ‘امن کا انتخاب کرنے اور فلسطینی علاقوں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کو روک دینے‘ کے لیے نیتن یاہو کا ذاتی طورپر شکریہ ادا کیا۔
بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے بھی اپنے ملک کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو سراہا ہے اور اس کو امن کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”یہ اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہمیں اپنے عوام کو ایسا امن وسلامتی مہیا کرنے کے لیے فوری طور پر اور فعال انداز میں کام کریں جس کے وہ حق دار ہیں۔”
وائٹ ہاوس کے ساتھ لان سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا”آج سہ پہر ہم یہاں تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے جمع ہوئے ہیں” انہوں نے مزید کہا”کئی دہائیوں کی تقسیم اور تنازعات کے بعد نئے مشرق وسطی کا سورج طلوع ہورہا ہے۔“
صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب مشرق وسطیٰ کے تین ممالک مل کر کام کریں گے، اب یہ دوست ہیں، ان تین ملکوں کی قیادت کی جرات و ہمت کا شکر گزار ہوں اور اب تمام عقائد کے لوگ امن اور خوش حالی کے ساتھ رہ سکیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب تک کئی دہائیوں میں اسرائیل کے صرف دو ملکوں سے اس طرح کے معاہدے ہوئے تھے لیکن ہم نے محض ایک ماہ میں ایسے دو معاہدے کر لیے اور ابھی اس طرح کے مزید معاہدے بھی ہوں گے۔
ان دونوں معاہدوں کو امریکی صدر کے لیے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے اورآئندہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

عربوں کے پیٹھ میں چھرا
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی حقیقی حصولیابی بہت زیادہ نہیں ہے۔ ان تینوں ملکوں نے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر اب باضابطہ دستخط کردیے ہیں کیوں کہ خطے میں ایران کے اثرات کی مخالفت ان تینوں ملکوں کا مشترکہ مفاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل، امارات اور بحرین کی قربت دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان تینوں ملکوں کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اس کے بیلیسٹک میزائل کے منصوبے پر تحفظات ہیں۔
دریں اثنا ایک طرف تو وائٹ ہاوس میں معاہدوں پر دستخط ہورہے تھے اور دوسری طرف جنوبی اسرائیل میں حماس کے کنٹرول والے غزہ پٹی سے راکٹ داغے جارہے تھے۔ اس حملے میں دو لوگوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔
ان معاہدوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان عشروں پرانے تنازعے کا براہ راست کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے البتہ اسرائیل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو انضمام کرنے کے اپنے منصوبوں کو روک دے گا۔
فلسطینی اتھارٹی نے ان معاہدوں کو ‘عربوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک بیان میں کہا کہ ان معاہدوں سے علاقائی امن قائم نہیں ہوگا۔

سعودی عرب کا موقف
محمود عباس کا کہنا تھا”اسرائیلی قبضہ ختم ہونے تک خطے میں امن، سلامتی اور استحکام حاصل نہیں ہو گا۔” انہوں نے کہا کہ ”اصلہ مسئلہ ان ملکوں اور اسرائیلی قابض حکومت کے درمیان نہیں ہے جنہوں نے ان معاہدوں پر دستخط کیے ہیں بلکہ یہ معاملہ فلسطینی عوام کا ہے جو قبضہ کی وجہ سے مصائب سے دوچار ہیں۔“
سعودی عرب نے ایک بیان جاری کرکے فلسطینی موقف کی تائید کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ”مملکت فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور مسئلہ فلسطین کے ایک ایسے منصفانہ اور جامع حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس سے بین الاقوامی فیصلوں اور عرب امن پہل کو مدنظر رکھتے ہوئے 1967کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔”
ایران اور ترکی نے ان معاہدوں کی مذمت کی ہے۔ اگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔

نگاہیں صدارتی انتخابات پر
متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے اس معاہدے کو’ابراہیمی معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کو تسلیم کرنے والے بالترتیب تیسرے اور چوتھے عرب ملک بن گئے ہیں۔ اس سے قبل 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔
تقریب سے قبل نیتن یاہو سے اوول آفس میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد مزید پانچ سے چھ ملک ہمارے ساتھ مل جائیں گے تاہم انہوں نے ان ملکوں کے نام واضح نہیں کیے۔
ٹرمپ کے حامیوں کو امید ہے کہ یہ دونوں معاہدے آئندہ امریکی صدارتی انتخاب میں ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے سیاسی حامیوں میں سے ایک بڑا طبقہ اسرائیل کے حامی عیسائیوں کا ہے اور یہ ووٹرز 3نومبر کے الیکشن میں ٹرمپ کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

You might also like