Baseerat Online News Portal

خدا کا انتخاب

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
ترجمان وسکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ
تاج محل کو دنیا کے تعمیری عجائب میں شمار کیا گیا ہے،جو شاہجہاں کی دَین ہے، جب یہ عمارت بن رہی تھی، تب بھی اس نے ہزاروں مزدوروں، کاریگروں اور ماہرین کو روزگار دیا ہوگا، اور آج بھی ہر سال لاکھوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے، کتنے ہی ٹیکسی چلانے والوں، گھوڑا گاڑی ہنکانے والوں، گائڈوں، ہوٹل اور چائے خانے والوں، تاجروں؛ یہاں تک کہ تصویر کشی کرنے والوں کے لئے یہ اچھے خاصے روزگار کا سبب بنتاہے، یہ عمارت واقعی اتنی حسین اور پرُکشش ہے کہ آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں، لگتا ہے کہ موم کے سا نچے میں ڈھالی ہوئی کوئی پری پیکر ہے، جو لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہے، اس عمارت کی خوبصورتی، اس کے ڈیزائن کی نزاکت، اس کے نقش و نگار کی لطافت، اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کی خصوصیات، اور اس کے گرد و پوش کا ماحول وغیرہ پر مشرق و مغرب کے مصنفین نے خوب لکھا ہے، نثر نگاروں نے گیسوئے جاناں کی طرح قلم سے اس کی تصویر کھینچی ہے اور شعراء نے اپنی قوت تخیل کو اس پر آزمایا ہے۔
اگر آپ تاج محل دیکھ کر آئیں اور اپنے دوستوں اور بچوں سے اس کی تعریف کریں تو سوچیے کہ یہ کس کی تعریف ہے؟ کیا یہ بے جان پتھروں کی تعریف ہے؟ کیا تاج محل کے گونگے ستونوں کی تعریف ہے؟ کیا یہ اس نقش و نگار کی تعریف ہے جو روح سے خالی اور زندگی سے عاری ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں، یہ ان فنکاروں کی تعریف ہے، جنہوں نے اس کا نقشہ بنایا ہے، یہ ان معماروں کی تعریف ہے، جن کے ہاتھوں نے حسن و جمال کی اس لازوال یادگار کو وجود بخشا ہے، یہ ان حکمرانوں کی تعریف ہے، جن کے دماغ میں اس حسین و جمیل تعمیر کا تصور آیا، یعنی تعریف بنانے والے کی ہوتی ہے نہ کہ اس چیز کی جو خود نہ بنی ہو، جس کو دوسروں نے بنایا ہو۔
جو صورت جمادات کی ہے، وہی کیفیت انسان کی ہے، اچھے طالب علم کو دیکھ کر اس کے استاذ کی تعریف کی جاتی ہے، نیک بخت اولاد کو اس کے والدین کی حسن تربیت کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اس پس منظر میں ہمیں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے صحابہ کا منصب اور ان کی حیثیت کو سمجھنا چاہیے، علم و عمل اور اخلاق و کردار کے تاج محل اِن صحابہؓ کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تراشا ہے، ان میں اخلاق و کردار کی جو خوشبوئے جانفزا ہے،کو آپ کے اخلاق کریمانہ کا عکس ہے، ان کی تعریف درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے، اسلام سے پہلے عرب کے معاشرے میں جو برائیاں تھیں، صحابہؓ نے بلا تکلف ان کو بیان کیا ہے، اور اپنی ان کوتاہیوں کو ذکر کرنے میں ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیا ہے، جو حضور کے دامن تربیت سے وابستہ ہونے سے پہلے ان کے اندر پائی جاتی تھیں،اورصاف طور پر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ ہمارے اندر جو کچھ خوبیاںنظر آتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا عطیہ اور آپ کی نگاہ توجہ کا صدقہ ہے؛ اس لیے صحابہ کی مدح در اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہے، اور صحابہ کی تنقیص دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہے، جب کوئی شخص صحابہؓ کو برا کہتا ہے تو گویا وہ دعویٰ کرتا ہے کہ نعوذباللہ حضور کی تربیت ناقص تھی، آپ کی اصلاح کی کوششیں ناکام رہیں، جن لوگوں پر آپ نے 23 سال محنت کی، شب و روز ان کی تربیت فرمائی، صبح و شام آپ ان کو سمجھاتے رہے، اور زندگی کے ایک ایک مسئلہ میں آپ نے ان کی رہنمائی فرمائی،ان کا حال یہ ہوا کہ ِادھر آپ دنیا سے رخصت ہوئے اور اُدھر اُن سبھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے موڑ لیا، انہوں نے آپ کے محبوب کے ساتھ بدترین عداوت کا مظاہرہ کیا، انہوں نے خود آپ کی اولاد کے ساتھ ظلم و جور کا یہ رویہ اختیار کیا، انہوں نے دین کے بنیادی تصور ہی کو پلٹ ڈالا۔
سوچئے اور بار بار سوچیئے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کی تنقیص ہے یاتعریف؟ یہ نعوذباللہ حضور کو ایک ناکام مصلح اور نامراد داعی ثابت کرنے کی کتنی عجیب کوشش ہے؟ جو لوگ دولتِ ایمان سے محروم ہیں، وہ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیںکہ سورج کی آنکھوں نے آپ سے بڑھ کر کوئی انقلاب انگیز شخصیت نہیں دیکھا، جس نے فکر و نظر کی کایا پلٹ دی، تہ در تہ تاریکی کا بستر لپیٹ دیا، اور ان کے طفیل عدل و انصاف کا سورج طلوع ہوا؛ یہاں تک کہ اکیسویں صدی کا ایک مستشرق تاریخ انسانی کی اُن شخصیتوں پر قلم اٹھاتا ہے، جس نے سب سے زیادہ زیادہ انسانیت پر اثر ڈالا ہے، تو وہ پہلے نمبر پر آپﷺ کے نام نامی کو رکھتا ہے؛ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے زبان حال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ ایک ناکام مصلح ثابت کرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں کے سامنے دونوں راستے کھلے ہوئے ہیں یا تو صحابہ کے بارے میں سلف صالحین اور امت کے مصلحین و مجددین کے اس نقطہ نظر کو قبول کریں، کہ صحابہ کی جماعت ایمان و عمل، ورع وتقوی، اللہ کی خشیت، رسولؐ اور آل رسولؐ کی محبت کے اعلی مقام پر تھی، جہاں امت کا کوئی اور طبقہ نہیں پہنچ سکتا؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ ہمارے زمانہ کے لوگ ہیں ”خیر القرون قرنی”، اور اس کے بعد درجہ بدرجہ ان میں زوال آتا جائے گا، قرن عربی لغت کے اعتبار سے ایک صدی کا احاطہ کرتا ہے (المعجم الوسیط:۲/۷۳۱)، اور پہلی صدی ہجری صحابہ کی صدی ہے، آخری صحابی حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ لیثی ؓکی وفات 110ھ میں ہوئی (معرفۃ الصحابہ لابی نُعیم:۵/۲۹۴۳)، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سب سے بہترین افراد قرار دیا، یا صحابہؓ کی اس تصویر کو قبول کیا جائے، جس کے مطابق آپﷺ کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی ان کے دل و دماغ بدل گئے، اور چند افراد کو چھوڑ کر سب کے سب کفر ونفاق، ظلم و بربریت اور بد اخلاقی و بداطواری میں مبتلا ہو گئے، کوئی بھی شخص جو حضور سے محبت رکھتا ہو، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ صحابہ کے بارے میں ان میں سے کونسا تصور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان ہے، اور جس سے آپ کی عظمت میں اضافہ ہوتا ہے؟
صحابہؓ کے بارے میں تاریخی روایات کو پڑھتے ہوئے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جیسے اسلام سے پہلے آنے والے انبیاء کرام ؑکی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، اور ایسے منافقین پیدا ہوئے ،جنہوں نے دین حق کی شکل کو مسخ کر دینا چاہا، جیسے حضرت عیسیؑ کو خدا کے نبی سے خدا کا بیٹا بنا دیا گیا؛ حالانکہ تورات میں اللہ تعالی کے ساتھ شرک کو بہت ہی سخت مثالوں کے ذریعے سمجھایا گیا ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنہوں نے آپ کی تعلیمات کو بگاڑنا چاہا، قرآن مجید کے الفاظ میں تو وہ کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے تھے؛ اس لیے کہ اس کی حفاظت اللہ تعالی نے اپنے ذمے لی ہے؛ لیکن انہوں نے دین کو بے اعتبار کرنے کے لئے تین راستے اختیار کیے: ایک یہ ہے کہ ایسی روایتیں وضع کی جائیں، اور آپ کی طرف ان کی نسبت کی جائے، جوعقل، واقعات اور مشاہدات کے خلاف ہوں؛ تاکہ جو لوگ اسے پڑھیں، وہ دین کا مذاق اڑائیں، اور انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھٹھا کرنے کا موقع مل جائے دوسرے: قرآن مجید کی تفسیر میں ایسی باتیں شامل کر دی جائیں کہ اہل دانش کی نظر میں قرآن ایک غیر معتبر کتاب اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک بے اعتبار شخصیت قرار پائیں؛ کیوں کہ جب پیغمبر اور ان کی لائی ہوئی کتاب پر سے اعتماد اٹھ جائے، تو پھر اس قوم کو ہدایت کے راستے سے ہٹا دینا چنداں دشوار نہیں ہوگا؛ چنانچہ تفسیر میں ایسی باتیں موجود ہیں، ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے آپﷺ کے نکاح کے سلسلے میں بعض روایتیں اس کی واضح مثال ہیں، اور یہی مستشرقین کے پروپیگنڈوں کا سرمایہ ہے۔
تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ آپ کے رفقائے عالی مقام کو متہم اور بے وزن کیا جائے، انہیں ظالم و غاصب ثابت کیا جائے، اور عام دنیا دار لوگوں کی زندگی جس انداز کی ہوتی ہے، ان کو اس سے بھی بدتر ثابت کرنے کی کوشش کی جائے؛ کیوں کہ احکامِ دین کا سب سے بڑا ذخیرہ حدیث ہے، قرآن میں اصولی احکام اور دین کے کے مبادی کو بیان کیا گیا ہے؛ لیکن عقائد اور عبادات سے لے کر خاندانی زندگی، مالی معاملات اور اجتماعی نظام سے متعلق قوانین ہمیں حدیث ہی میں ملتے ہیں، لہذا اگر حدیث کو بے اعتبار کر دیا جائے، تو دین کی صورت کو مسخ کرنا اور خود قرآن مجید میں معنوی تحریف کا راستہ کھولنا مشکل باقی نہیں رہے گا، اب اگر اس مقصد کے لیے یہ دعوی کیا جاتا کہ نعوذ با اللہ آپ نے دروغ گوئی سے کام لیا تو کوئی مسلمان ہر گز اس پر توجہ نہیں دیتا؛ بلکہ عجب نہیں کہ غیرت مند مسلمان اس کی زبان ہی حلق سے کھینچ لیتے؛ اس لئے بہت سوچ سمجھ کر یہ راستہ اختیار کیا گیا کہ صحابہ کو بے اعتبار کیا جائے؛ کیوں کہ قرآن ہو یا حدیث، اسلام کے یہ دنوںو بنیادی مصادر صحابہؓ ہی کے واسطے سے ہم تک پہنچے ہیں؛ اگر صحابہ غیر معتبر قرار پائیں تو احکام شریعت کے ان دونوں بنیادی مصادر کی اہمیت خود بخود کم ہو جائے گی، اسی لیے خاص طور پر سیدنا حضرت ابو ہریرہؓ جن سے احادیث کی سب سے بڑی تعداد یعنی پانچ ہزار سے زیادہ منقول ہیں، انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، اور مستشرقین نے صحابہ میں سب سے زیادہ انہیں کے خلاف لکھا، عہد صحابہ کے بعد دوسری نسل میں سب سے بڑے راوی ابن شہاب زہریؒ ہیں، ان کو بھی ناقابل اعتماد ٹھہرانے کی کوشش کی گئی؛ یہاں تک کہ اسلام سے بغض رکھنے والے مصنفین نے ان دونوں پر مستقل کتابیں تصنیف کیں، غرض کہ صحابہؓ کی تنقیص بالواسطہ پیغمبر اسلام ﷺکی تنقیص اور قرآن و حدیث کو مشکوک بنانے کی کوشش ہیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو نبوت ختم ہو چکی ہے؛ لیکن جب نبوت باقی تھی، تب بھی کوئی شخص عبادت و ریاضت اور محنت و کوشش کے ذریعہ مقام نبوت تک نہیں پہنچ سکتا تھا، نبوت کے سارے معاملات انتخاب الٰہی پر مبنی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے نبوت کے لئے منتخب فرمایا: ’’ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء‘‘ (الجمعہ:۴)،اگر حضورﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے متعلق تمام چیزیں انتخاب پر مبنی ہیں، اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ سے آپؐ کے معاونین و انصار کا انتخاب فرمایا، مثلا ازواج مطہراتؓ کے سلسلے کو دیکھیں، تو ان میں دو شخصیتیں نمایاں نظر آتی ہیں، ایک: ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، دوسری؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا، مکی زندگی میں حضرت خدیجہ آپؐ کے نکاح میں آئیں، جن کی جاںنثاری، وفاشعاری اور غمگساری کے علاوہ معاملہ فہمی، آپ سے اٹوٹ محبت نے مکہ کی پُر ابتلاء زندگی میں ظاہری طور پر آپ کو سہارا دیا، بہت سے مواقع پر مالی وسائل انسان کے لئے تقویت کا باعث بنتے ہیں، حضرت خدیجہؓ دولت مند خاتون تھیں، اور انہوں نے اپنا پورا اثاثہ آپ کے قدموں میں رکھ دیا، ہوتا تو وہی جو اللہ تعالی کا فیصلہ تھا؛ لیکن ظاہری اسباب کے درجہ میں حضرت خدیجہ کی غمگساری اور حضرت ابو طالب کی پشت پناہی شریکِ حال نہیں ہوتی، تو آپ کے لیے مکہ کی تیرہ سالہ زندگی دشوار تر ہوجاتی؛ اس لئے اس مرحلہ میں آپ کی رفاقت کے لیے اللہ کی طرف سے ان کا انتخاب کیا گیا، مدنی زندگی شریعت اسلامی کی توضیح و تشریح کا دور تھا، اس وقت آپ کے لئے ایک ایسی ذہین و ذکی، علم کی شیدائی اور فہم و رسا کی مالک رفیقئہ حیات کی حاجت تھی، جو آپ کی باتوں کو محفوظ کر سکیں، اس کو اس کے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھ بھی سکیں اور اس کی تفہیم بھی کر سکیں، اس کے لئے اُس وقت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بڑھ کر کوئی خاتون موزوں نہیں ہو سکتی تھیں، اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے، اور آپؐ کی خلوت سے متعلق زندگی کے بعض احوال و واقعات کے جاننے کا ذریعہ تنہا وہی ہیں، انصار کے اندر خود سپردگی کا بے پناہ جذبہ تھا؛ اس لیے اللہ تعالی نے ان کو اولین مرحلہ میں ایمان کی توفیق عطا فرما دی، اس سے ان کے اندر شکر و امتنان کا جذبہ بڑھ گیا، قریش مکہ کی گردنیں تکبر سے اکڑی ہوئی تھیں؛ اس لیے انہیں بدر و احزاب کی ذلتوں سے گزارا گیا اور فتح مکہ کے ذریعہ جب ان کی گردنیں جھک گئیں، توپھر ان کو ایمان کی توفیق دی گئی؛ تاکہ ان میں یہ احساس نہ پیدا ہو کہ ان کی قیادت اور طاقت کی وجہ سے اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ہے۔
اگر اہل مکہ کو اس مرحلے سے گزارا نہ جاتا، تو وہ قلیل التعداد قبیلہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کی خلافت کو شاید ہی قبول کرتے،حضرت عثمان ذوالنورین ؓاور حضرت علی مرتضیؓ کو آپ کے داماد ہونے کا شرف بخشا گیا؛ کیوں کہ رشتہ نکاح محبت کے تعلق کو اور استوار کر دیتا ہے؛ اسی لئے ام المومنین حضرت ا م حبیبہؓ بنت ابو سفیان سے نکاح کے بعد اہل مکہ اور مسلمانوں کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی، یہ دونوں صحابہؓ مکہ کے مضبوط ترین قبائل بنو ہاشم اور بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے، بنو ہاشم تو شروع سے آپ کے معاونین و مددگار رہے؛ لیکن جب بنو امیہ ایمان لے آئے تو اب پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کے خلاف کوئی طاقت باقی نہیں رہی، جو اسلام کے مقابلہ میں کھڑی ہو، مکہ کے سرکش مخالفینِ اسلام کو مدینہ کے انصار کے ذریعہ شکست دی گئی، اور یمن کے مرتدین کے فتنہ کو مکہ وطائف کے جنگجو نو مسلموںکے ذریعہ دبایا گیا،ابھی حضرت ابوہریرہؓ کا ذکر آیا، ۷ھ میں مشرف بہ اسلام ہوئے،(المختصر الکبیرفی سیرۃ الرسول، ص: ۶۵)، ان کو صرف ڈھائی سال کے قریب آپؐ کی صحبت حاصل ہوئی؛ لیکن انہوں نے آپ کی باتوں کو سننا اور اسے اپنے ذہن میں محفوظ کرنا شب و روز کا مشغلہ بنا لیا تھا، اس کا نتیجہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ حضرت عثمانؓ و علیؓ، مکہ کے مہاجرین، مدینہ کے انصار، ان سب سے زیادہ روایتیں انہیں سے منقول ہیں، اس کو اللہ تعالی کے غیبی نظام کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ غرض کہ حضور کی پوری سیرت اللہ تعالی کے ایک بنائے ہوئے منصوبہ کے تابع نظر آتی ہے؛ اس لیے یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ صحابہؓ کو اللہ ہی کی طرف سے آپ کی رفاقت کے لیے منتخب کیا گیا؛پس ان پر اعتراض فیصلہ خداوندی پر اعتراض ہے۔
صحابہؓ کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے، وہ بھی اللہ تعالی کی بے پناہ مصلحت کا حصہ ہے، اللہ کو یہ بات منظور تھی کہ امت آئندہ جن اختلافات سے دوچار ہوگی، اس کے لئے نمونہ عمل موجود رہے، جن آزمائشوں سے پیغمبر کو گزارا جا سکتا تھا، ان سے آپؐ کو گزارا گیا، اور جو آزمائشیں آپؐ کے شایان شان نہیں تھیں، ان سے صحابہؓ کو گزارا گیا، امت کا اختلاف اور آپسی جنگ و جدال نبی کے لئے موزوں نہیں تھے؛ اس لیے صحابہ کو ان احوال سے گزارا گیا، غور کیجئے کہ ایک طرف یہ ورع و تقویٰ ہے کہ جب شراب حرام قرار دی گئی تو جن کے ہاتھوں میں شراب کے جام تھے، وہ جام ہونٹوں تک نہیں پہنچ پائے، اور جن کے ہونٹوں تک شراب پہنچ گئی تھی، انہوں نے حلق تک نہیں پہنچنے دی، دوسری طرف یہ نوبت بھی آئی کہ آپؐ نے اپنے بعض رفقاء پر شراب پینے کی سزا جاری کی اور بعض کو بار بار پینے کی سزا دی گئی، عہد نبوت کی یہ دو مختلف تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں،شاید اس لئے کہ امت میں جیسے متقی و پرہیزگار شخصیتیں پیدا ہونے والی تھیں، وہیں ایسے لوگ بھی جنم لینے والے تھے، جو اس گناہ سے اپنے آپ کو بچا نہیں پائیں گے؛ اس لیے ضروری تھا کہ جیسے اصحاب تقویٰ اور اہل ورع کے لیے نمونہ موجود ہو، اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی راہ عمل موجود ہو، جن کی زندگی اس معیار پر نہ ہو، اس کے لیے قدرت الہی نے صحابہؓ کا انتخاب کیا، اور ایک طرح سے ان سے قربانی لی گئی؛ تاکہ یہ امت زندگی کے تمام مراحل میں رہنمائی سے محروم نہ ہو؛ اسی لئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ جب امت میں اختلاف پیدا ہو تو ہمارے لیے کون سا طریقہ درست ہوگا؟ آپﷺ نے فرمایا: میرا اور میرے صحابہؓ کا طریقہ (ما انا علیہ و اصحابی) (سنن الترمذی، حدیث نمبر:۲۶۴۱) یعنی حضورﷺ کے ساتھ صحابہؓ کا اسوہ بھی ضروری ہے؛ اگر صحابہؓ سے ہم محبت و یقین کا رشتہ ہی توڑ لیں تو پھر کیسے ہم اس شاہ راہ کو پار کرسکیں گے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے بنائی ہیں۔(بصیرت فیچرس)
َ

You might also like