Baseerat Online News Portal

پروفیسر عبدالمغنی پر مونوگراف: ایک جائزہ

سرفراز عالم ،عالم گنج، پٹنہ
رابطہ 8825189373

اس وقت میرے ہاتھ میں مونوگراف نمبر 7 ہے جو اردو کی ایک ناقابلِ فراموش شخصیت عبدالمغنی کے نام اردو کے ایک بے باک صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے نذر کیا ہے ۔انہوں نے اپنے قلم سے اردو تحریک کے اتار چڑھاؤ کو اس طرح پیش کیا ہے جیسے کوئی کمینٹیٹر کسی کھیل کے میدان سے کھیل کاآنکھوں دیکھا حال نشر کر رہا ہے ۔اس کتاب کے پیش لفظ میں سابق ڈائریکٹر امتیاز احمد کریمی نے اپنے ذمہ دار ذہن کا یہ کہہ کر ثبوت دیا ہے کہ ’’دبستان بہار کے ان لعل و گہر کو نئی نسل تک پہنچانا ہے‘‘۔معروضی تعارف میں ڈاکٹر اسلم جاوداں نے پروفیسر عبدالمغنی کا نظریہ ادب پیش کرتے ہوئے ان کی 46 تصانیف کے نام درج کئے ہیں جس کی جانکاری سے محبان اردو کو سکون ملے گا ۔اس کے بعد “ابتدائیہ”کاخالی سفید صفحہ شاید بھول چوک کی نظر ہو گیا۔شاید اس میں بھی کچھ قیمتی باتیں پڑھنے کو ملتی۔ عبدالمغنی ایک تعارف میں مصنف نے ان کی تعلیمی سفر اور اردو سے محبت کا جائزہ لیتے ہوئے عالم گنج کے چند اشخاص کی زبانی ان کے مقامی تعلقات کو بتایا ہے جس میں صفحہ 20 پر “دلال جی کی مسجد” کے بجائے “دلان جی کی مسجد”پرنٹ ہوگیا ہے ۔دو تحریکات کے آئینے میں عبدالمغنی کے تنقیدی بے باکی کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ پتہ چلا کہ انہوں نے آزاد نظم، بے ماجرا افسانہ اور ناول اور عجوبہ پسند تنقید نگاری کو مہلک امراض میں گنا ہے جو ادب کو سرطان کی طرح اندر سے کھائے جا رہا ہے ۔بہار میں اردو تحریک کی تاریخ کا ایک خاکہ پیش کرتے ہوئے مصنف نے اپنے قلم کو اور ایماندار بنادیا اوراس دور کا First Hand Information پیش کیا ہے ۔
افسوس تب ہوا جب عبدالمغنی اور غلام سرور کی علمی نوک جھونک تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا اور مجھے یہ احساس ہوا کہ اہل خرد بھی انا کی چکی میں پس کر امت کا بڑا نقصان کر جاتے ہیں ۔صفحہ 38 پر درج ہے کہ”( 1975) صدر کے عہدے کے لئے غلام سرور اور پروفیسر عبدالمغنی دونوں امیدوار تھے جس کی وجہ سے زبردست تنازعہ پیدا ہو گیا”۔خیر آگے چل کر غلام سرور سیاست کے پنجڑے میں بند ہوگئے اور پروفیسر صاحب کی کوششوں سے 19 جنوری 1981 کواردو کو بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ مل گیا ۔غنیمت ہے کہ 26 برسوں کی تلخی کے بعد 10 جنوری 2001 کو دونوں نے آپس کے گلے شکوے کو ختم کر دیا ۔اللہ ان دونوں بزرگوں کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے آمین ۔لیکن پھر انا نے مسلم امت کا پیچھا کیا اور 2006 میں چھپرہ میں سیکریٹری کے انتخاب میں تنازعہ غضبناک اور عبرتناک صورت اختیار کرکے سامنے آیا۔صفحہ 48 پر تمنا مظفرپوری کے حوالے سے ایک پیراگراف درج ہے جو انتہائی مایوس کن حالات کو بیان کرتا ہے ۔خیر جو بھی ہو پھر بھی مصنف نے عبدالمغنی کی قیادت میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان بننے کو ان کے لئے فخر کی بات مانا ہے اور عوام نے بھی ان کی انتھک کوششوں کو سراہا ہے، یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔
آگے کے عنوانات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عبدالمغنی شاعر مشرق علامہ اقبال کے بڑے مداح تھے ۔وہ حصولِ علم میں انگریزی میڈیم کی نکتہ چینی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ان کا احساس بجا ہے کہ پرائمری ایجوکیشن مادری زبان میں ہونا چاہئے ۔شاید یہ احساس صحیح ہے اس لیے کہ انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ہی آج اردو زبان کا بیڑا غرق ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عربی و فارسی کے مقابلے میں اردو میں حروف تہجی زیادہ ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اسی لئے اردو زبان میں زیادہ وسعت ہے۔عبدالمغنی نے “مریخ”میں جہاں ایک طرف مولانا آزاد، آل احمد سرور، جگر مراد آبادی اور مجروح سلطان پوری جیسی شخصیات پر مضامین لکھے وہیں برنارڈ شاہ، مولانا مودودی، قرۃالعین حیدر، ٹیپو سلطان، اورنگزیب، محمود غزنوی اور فیض احمد فیض جیسی تاریخ ساز شخصیتوں پر باضابطہ کتابیں لکھیں ۔عنوان “پروفیسر عبدالمغنی کی منتخب تحریری”بہت پرمغز مضمون ہے جسے ہر کسی کو پڑھنا چاہئے ۔
22 اگست 2006 کو ڈاکٹر ریحان غنی نے پندار کے لئے ان کا آخری یادگار انٹرویو لیا تھا جس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان بستر مرگ پر پڑی ہوئی اپنے تیمار دار کا انتظار کر رہی ہے۔امت مسلمہ پر یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ اردو زبان کی بقا کے لئے از سرِ نو اٹھ کھڑی ہو ۔بالعموم ارود کی روزی کھانے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی روزی حلال کریں اور نئی نسل تک اس زبان کو منتقل کریں ۔عمومی طور پر ہم نے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم سے دور کر رکھا ہے۔ سرسری جائزہ سے پتہ چلتا ہے ہم نے ڈرائینگ روم میں اردو اخبار رکھنا معیوب سمجھ رکھا ہے، الاماشاءاللہ۔ یاد رہے عربی کے بعد اردو زبان میں ہی ہمارا تمام اسلامی سرمایہ باقی ہے ۔لہٰذا اگرارود زبان کمزور ہوئی تو ہمارا اسلامی تشخص بھی پامال ہوگا۔اللہ ہمیں اس بدنصیبی سے بچائے ۔آخری صفحہ پر کاروانِ اردو کے83 ٹوٹے ہوئے تارے کا نام درج ہے۔اللہ ان روشن ستاروں کی ادبی خدمات کو قبول کرےاور اردو سے ان کے بےلوث محبت کا بھر پور اجر دے۔
8 ستمبر 2020 کو اردو ڈائریکٹوریٹ کے زیر اہتمام سادہ مگر پروقار پروگرام میں بیک وقت 10 مونوگراف کا اجراء ہوا ۔بتدریج 10 مونوگراف میں اعجاز علی ارشد نے شاد عظیم آبادی، ڈاکٹر اسلم جاوداں نے ڈاکٹر کلیم عاجز، ڈاکٹر محسن رضا رضوی نے پروفیسر شاہدی، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے کلیم الدین احمد، ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے رضا نقوی واہی، ڈاکٹر نسیم اختر نے علامہ واقف عظیم آبادی، ڈاکٹر ریحان غنی نے پروفیسر عبدالمغنی، ڈاکٹر سرور حسین نے پروفیسر وہاب اشرفی، ڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے رمز عظیم آبادی اور ڈاکٹر ابوبکر رضوی نے شین مظفرپوری کے نام فردنامے لکھ کراپنی شخصیت شناسی کا عوام کے سامنے بہترین ثبوت پیش کیا ہے ۔میں ان تمام معزز حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔اس پرخلوص کوشش کے لئے میں اردو ڈائریکٹوریٹ کا بھی شکرگزار ہوں، اور آئندہ بھی اسی طرح فعال رہنے کی امید کرتا ہوں ۔بحرحال روزنامہ کا سرورق سادہ لیکن باوقار ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ مصنف کی عبدالمغنی پر لکھی گئی اس کتاب کو محبانِ اردو کے لئے مشعل راہ بنادے، آمین!

You might also like