Baseerat Online News Portal

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ: دینی تحریکات کے لئے مشعل راہ

(25 ستمبر1903 یوم پیدائش اور 22 ستمبر1979 یوم وفات کی مناسبت سے ۔۔۔)

از قلم : مرزا عادل بیگ ، پوسد
(موبائیل نمبر : 9823870717)

مولانا مودودی ؒ کی ولادت 25 ستمبر 1903 کو اورنگ آباد شہر میں ہوئی تھی ، اور آج سے 41 سال پہلے مولانا مودودی ؒ نے اس دنیا کو خیر آباد کہا تھا ۔ مگر مولانا مودودی ؒ کی 76 سالہ زندگی اس عظیم ملت کے لئے سر چشمہ رہی ہیں ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ بیسوی صدی کے معروف اسلامی اسکالر ، رفیع الشان مفکر اور بلند پایا کے مصنف تھے ۔ مولانا مودودی نے تمام بندگانِ خداتک اسلام کا سیدھا اور سچا پیغام پہنچانے کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی اور اپنے اس نصب العین کو منظم انداز دینے کے لئے مشہور و معروف تحریک جماعت اسلامی کی بنیاد 1941 میں ڈالی تھی ۔ جو آج دنیا کے تمام ممالک میں پوری یکسوئی اور درد مندی کے ساتھ اقامت دین کی راہ پر گامزن ہے ۔
میرا وجود اس دنیا میں آنے سے پہلے مولانا مودودی ؒ کی وفات ہو چکی تھی ، اس لئے ان کو دیکھنے کا ، سننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر مسلسل مولانامودودی ؒ کی کتابیں ، تصانیف ، تفہیم القرآن ، تحریروں اور تخلیقی ایجادوں نے میری زندگی پر بہت نقوش چھوڑے ہے ۔ مولانا مودودی ؒ کے فکر و خیالات نے میرے ذہین میں غور و فکرکا مادہ پروان چڑھایا ہے ۔ مولانا کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسوی صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے بر صغیر ہند میں پھیل گئی ، جس کے دور رس نتائج سے ہم سب آگاہ ہے ۔
مولانامودودی ؒ نے اپنی وسعت نظری سے بہت کم عمر میں ہندوستان میں بدلتے ہوئے حالات اور ہونے والے تغیرات کو بھانپ لیا تھا ۔ جس وقت مولانا نے اپنی قلم کو جنبیش دینا شروع کیاتھا اس وقت خلافت اسلامیہ کا زوال اور اشتراکیت کا عروج ہو رہا تھا ۔ اس ملک کی مسلم قوم مایوسی ، شکست خوردگی اور تاریکی مستقبل کی طرف دوڑ رہی تھی ۔ ملت بے چینی و اصطراب کی کیفیت سے دوچار تھی ۔ اس وقت کے عظیم مسلم قیادت آزادی کی جدو جہدمیں مصروف تھی توکوئی ملت کو فضائل و مناقب کی داستان سنا کر ان کے فکر و خیالات کو بدلنے اور میزاج میں درستگی لانے کی سعی لا حاصل کر رہا تھا ۔ عزیز ساتھیوں اس وقت ہندوستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ملت اسلامیہ ہند پر گہن کے بادل منڈلارہے تھے ۔ معاشرہ میں مولانا مودودی ؒ آفتاب کے مانند نمودارہوئےاور کفر و الحاد اور توہمات میں مبتلا اور الجھی ہوئی قوم ،شرک اور بدعت کی طرف بڑھتی ہوئی قوم کے درمیان دین کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی اور الحمد اللہ مولانا مودودی ؒ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوئے ۔ مولانا مودودی ؒ نے ترجمان القرآن کے ذریعے سے دینی آواز کو عوام کے سامنے پیش کیا تو عوام الناس کی کثیر تعداد نے مولانا کی آواز پر لبیک کہا ۔ اس انقلابی اسلامی تحریک میں علمائے اکرام روز بروز جڑنے لگے ۔
1926 کے او آخر میں آریہ سماج کے لیڈر سوامی شردھا نند کو نبی کریم ﷺ کی ذات پر نار وا حملے کی بسارت میں عبدالرشید نامی مسلمان نے جوش میں آکر قتل کرد یا ۔ اس کے بعد ایک ہنگامہ خیز مقدمہ شروع ہوا ۔ اس واقع پر ہندو اخبارات و رسائل نے ملک گیر طوفان کھڑا کردیا انھوں نے ہر طور پر یہ ثابت کرنا چاہا کہ اسلام امن کے بجائے تلوار کا مذہب ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ جب تک دنیا میں قرآن کی تعلیم موجود ہے امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ گاندھی جی نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام میں فیصلہ کن چیز پہلے بھی تلوار تھی اور اب بھی تلوار ہے ۔ اس پروپیگنڈے کے طوفان میں مسلمانوں کےقائد مولانا محمد علی جوہر نے دہلی کی جامع مسجد میں جمعہ کے خطبہ میں عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا’’ کاش کوئی اللہ کا بندا ہندؤں کے ان الزامات کے جواب میں جہاد کا صحیح نقطہ نظر پیش کرتا‘‘۔ ہزارو ںمسلمانوں کے اس اجتماع میں نوجوان مودودی ؒ (عمر 24 برس) نے مولانا محمد علی جوہر کی بات گروہ میں باندھ لی اور ان کی اس پکار پر لبیک کہنے کا ارادہ کر لیا ۔
لہٰذا بڑی محنت و مشقت سے کچھ ہی وقت میں مولانا نے الجہاد فی الاسلام کو لکھ دیا ۔ جو آج بھی دنیا کی تمام مکاتب و فکر ، تمام اسلامی دینی یونیورسیٹی میں بڑے ہی شوق و زوق سے پڑھائی جاتی ہے ۔الجہاد فی اسلام کتاب اپنے آپ ایک بہترین تصنیف ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔
مولانا مودودی ؒ پر کئی اعتراضات بھی ہونے لگے ، مولانا کی مخالفت کرنے والے سارےکے سارے مسلمان تھے ۔ اس سلسلے میں مولانا نے تفہیم القرآن میں بالواسطہ جواب دیا ہے جس کے الفاظ اس طرح ہے : ’’ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے ، اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری ، اس کی قابیلیت ، اس کا اثر و رسوخ ، اس کا مال ، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لئے نہ ہوں ۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ نرم خورحم دل ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں ۔ ‘‘ (تفہیم القرآن : صفحہ 481-482)
آزادی کے بعد مولانا مودودی ؒ نے پاکستان جانے کو ترجیح دی اور پاکستان کا وجود اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ کو اہمیت دی ملک کی تقسیم ، عوام کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ، فسادات میں جو خدمت مولانا مودودی ؒ اور ان کے ساتھیوں کی ہے ایسی مثال تاریخ کے گوشوں میں مشکل ہی سے ملتی ہے ۔ غلبہ اسلام کی صحیح کوشش میں ان پر طرح طرح کے مصائب آئے ۔ کئی بار جیل جانا پڑا، 1953 میں ختم نبوت کے تعلق سے ایک کتابچہ لکھنے کے پاداش میں ان کے لئے پھانسی کی سزا تجویز ہوئی لیکن کبھی بھی ان کے پائے استقامت میں تزلزل پیدا نہیں ہو ا۔ پھانسی کی سزا کو بعد میں عمر قید میں تبدیل کردیا گیا ۔ مولانا نے تحریک اقامت دین کی دعوت کو عام کرنے کے لئے سو سے زائد کتابیں لکھی جو اس طرح ہے :
’’تفہیم القرآن(7 جلد)، خطبات ، الجہاد فی الاسلام ، دینیا ت ، تفہیمات (5 جلد)، تنفیحات ، سیر ت سرور عالم ﷺ (2 جلد)، رسائل و سائل (5 جلد)، خلافت و ملوکیت ، شہادت حق، دین حق ، سلامتی کا راستہ ، اسلام کا نظام حیات ، پردہ ، حقوق الزوجین ، وغیر ہ اہم تصنیفیات سمجھی جاتی ہے ۔‘‘
1979 کے وسط میں مولانا اپنے بیٹے ڈاکٹر احمد فاروق کے ساتھ علاج کی غرض سے امریکہ چلے گئے ، پیٹ کی تکلیف کی وجہ سے آپریشن کرنا پڑا جس کے بعد حالات نازک ہوگئی اور 22 سمتبر کو مولانا اس دنیا سے کوچ کر گئے ۔ (انا اللہ و انالیہ راجیعون ) مولانا کی میت تین ائر پورٹ پر رکی جہاں ایک درجن سے زیادہ آپ کی نماز جنازہ پڑھائی گئی ۔ 25 ستمبر کو جب مولانا کی میت لاہور پہنچی تو لاہور شہر اور اس کے مضافات سے انسانوں کا سیلاب آپ کی اقامت گاہ پہنچا ۔ لاکھوں سوگوار آپ کا آخری دیدار کرنے کے لئے ٹوٹ پڑیں ۔ گھر کے باہر ایک لمبی قطار لگی یہاں تک کہ اگلی صبح طلوع ہو گئی، اور ہجوم کا اب بھی وہی حال تھا ، جنازہ قذافی اسٹیڈیم کی جانب روانہ ہوا تو اکثر نوجوان فرط غم سے بے ہوش ہوگئے ۔ ان کے نماز جنازہ میں شرکت کے لئے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے راہنما ، بیرونی ملک سے آئے ہوئے تھے ۔ مقامی قائدین ، فوجی حکام اور سر براہ مملکت تک شریک تھے ، عالمی سطح پر غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا گیا ۔
٭ مولانا مودودی ؒ کی زندگی کا سبق دینی تحریکات کے لئے :
مولانا مودودی ؒ کی زندگی ایک انسان کو جو سبق دیتی ہے وہ یہ ہے کہ کام کے سلسلے میں انسان آخری حد تک قربانی دینے کے لئے تیار رہیں ۔ وہ جس مقصد کو لے کر اٹھا ہو اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی حد تک آخری کوشش کریں ، درمیان میں بہت سی مشکلیں پیش آئیں گی مگر وہ اس کی پروہ نا کریں بلکہ وہ تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتا ہوا آگے بڑھنے کی کوشش کریں ۔ وقت کی اہمیت اور دین کے لئے قربانی دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہے ۔ وہ خود ایک دین کا چلتا پھرتا نمونہ رہے ، اپنی جماعت ، اپنی تحریک ، اپنی تنظیم سے زیادہ اللہ رب العالمین کے احکامات کو ترجیع دے ۔ اس کے معاملات نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نظر آئے ۔ دور دور تک دیکھا جائے تو مولانامودودی کی زندگی کے اس پہلو سے کسی نے نہ تو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اس سطح پر کوئی کام کرنے کی کوشش کی ، جو علم و تحقیق کا کام انھوں نے کیا تھا اس میں اضافہ ہونا چاہیے تھا ، اس میں مزید نئے انکشافات ہونے چاہیے تھے ۔ مزید تحقیقات سامنے آنی چاہیے تھی ، مگر ہر جگہ خلا ء ہی خلاءنظر آتی ہیں ۔ بظاہر مولانا مودودی ؒ کی جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ علم و تحقیق کے حوالے سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، مگر علم و تحقیق کے حوالے سے ان کے کام کو آگے بڑھانے والوں کی شدیدکمی نظر آتی ہے ، اگر کمی نہ ہوتی تو اس حوالے سے یقینی طور پر کام ہوتا ۔ خلافت و ملو کیت ، تفہیم القرآن ، تفہیم الحدیث اور پردہ وغیرہ کے اگلے حصوں پر کام ہوتا ، اس سلسلے میں مزید افادیت منظر عام پرلائی جاتی ہے ۔ ان نقش اولین کو لے کر لوگ نقش ثانی کی تیاری کرتے ۔ اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں ، جس پر غور و فکر کرنا ضروری ہے ۔
آج ہر جماعت اور ہر تحریک کی صور ت حال یہ ہے کہ لوگ کام کو مزید آگے بڑھانانہیں جانتے اپنے اندر تخلیقی مزاج پیدا کرنا نہیں چاہتے ، بس ہم اپنے اپنے بانیوں کا قصیدہ پڑھتے ہوئے نظر آتے ہے ۔ یہ حقیقت ہے اس پر غور و فکر کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ کسی کی صرف تعریف کرنے سے کام آگے نہیں بڑھتا ہے بلکہ اس سلسلےمیں ہمیں خود سے اقدام کرنا پڑتا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ کسی تحریک کا ہر آدمی اس کے بانی کے برابر کام کریں ، مگر یہ بات واضح رہیں کہ ہمارے اندر یہ جذبہ ضرور پیدا ہونا چاہیے ، ہمارے اندر کا جو شخص بھی اس قسم کا کام کرنا چاہے وہ اس کے نفس اولین سے آگے کا کام کرے ۔ دینی تحریکات میں سر کردہ افراد اور نوجوان کے اندر مستقل مزاجی اور عزم مستقل کی شدید کمی نظر آتی ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نوجوان جذبات میں آکر کسی کام کو کرنے کا آغاز کرتا ہے وہ دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتا ہے ، رات دن دورے کرتا ہے ، ہمہ وقت وہ بے چین رہتا ہے ۔ مگر اس کی اپنی زندگی کے مسائل اسے گھیرتے ہیں تو وہ الجھ کر رہ جاتا ہے ۔ وہ جہاں سے آیا تھا وہی واپس چلا جاتا ہے ۔ اس کی تمام سرگرمیاں اور تمام جدوجہد سرد پڑ جاتی ہیں ۔ مستقل مزاجی اور دیر پا عمل کرنے کی کمی کی وجہ سے تحریکی سرگرمیاں منجمد ہو جاتی ہے ۔
آخر میں اللہ رب العالمین مولانا مودودی ؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقا م عطا فرمائے ، ان کی قبر کو جنت کی روشنی سے منور کردے ۔ مولانانے اسلام کو جس دلنشین مدلل اور انداز میں پیش کرنے کا جو ملکہ اور خدادار صلاحیت مولانا مودودی ؒ کو حاصل تھی ۔ آج اس کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد ، بوڑھے جوان ، بچے ، مرد عورت سب ہی ان کی تحریروں سے متاثر ہوکر اپنے سینوں کو نور ایمان سے منور کرچکے ہے اور کر رہے ہے ۔ اور کتنے ہی دہریت والحاد کے علم بردار اسلام کے نقیب بنے ہوئے ہے اور بن رہے ہے ۔ آخر میں ہمیں اللہ رب العزت مولانا مودودی ؒ کی تخلیق سے اقامت دین کو پوری طرح سے نافذ کرنے والا بنا دے اور دینی تحریکات کوصبر و استقامت کے ساتھ عمل پیراں کرنے والا بنا دے ۔

You might also like