Baseerat Online News Portal

کورونابحران:’کرائے کی ماؤں‘ کے پاس پھنسے ہزاروں چینی بچے

آن لائن نیوزڈیسک
دولتمند چینی والدین نے بیرونی ممالک میں اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے سروگیسی ایجنسیوں کا سہارا تو لیا مگر کورونا کی وبا کے سبب وہ اب اپنے بچوں سے ملنے اور انہیں گھر لانے سے محروم ہیں۔
سرحدوں کی بندش، سفری پابندیاں اور وائرس کے پھیلاؤ کا خوف حیاتیاتی والدین اور ان کے بچوں کے درمیان فاصلے کم ہونے نہیں دے رہا۔
چین نے ہر طرح کی ‘سروگیسی‘ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ کمرشل یا کاروباری اور بے لوث دونوں صورتوں میں ‘خواتین کو کسی دوسرے مرد اور عورت کے بچے کو اپنے رحم میں پالنے‘ کی اجازت نہیں ہے۔ یہ پابندی غریب خواتین کے استحصال کے خدشات کے پیش نظر 2001ء میں لگائی گئی تھی۔
چیری لن بچے کے جھولے کو ہلکے ہلکے ہلاتے ہوئے یہ سوچ رہی ہے کہ غالباً اُس کے بیٹے کے لیے یہ جھولا اب چھوٹا پڑے گا کیونکہ اُسے معلوم نہیں کہ وہ اپنے بیٹے سے کب ملے گی۔ چیری لن ان سینکڑوں ماؤں میں سے ایک ہے، جو اپنے بچوں کے لیے اجنبی ہیں کیونکہ ان کے بچوں کی پیدائش ‘سروگیٹ مدر‘ یا ‘کرائے کی ماں‘ کے ہاں ہوئی اور وہ غیر ملکوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کے سبب بہت سے ممالک کی سرحدیں بند کر دی گئیں۔ اب ان چینی ماؤں کے حیاتیاتی بچے غیر ممالک میں اپنی ‘کمرشل‘ ماؤں کے پاس ہیں۔ چین نے غریب عورتوں کے استحصال کے خدشے کے پیش نظر ‘کرائے پر بچے کو اپنے رحم میں رکھنے اور اسے پیدا کرنے‘ کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر کر رکھی ہے۔ پھر بھی سروگیٹ یا کرائے کی ماؤں کی تلاش میں بہت سے جوڑے ہزاروں ڈالر خرچ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ چین میں ایسے جوڑے 35 تا 75 ہزار امریکی ڈالر تک دے کر غیر ملکی خواتین کو بطور کرائے کی ماں اپنے بچے کو رحم میں رکھ کر نو ماہ تک اس کی پرورش کر کے اسے جنم دینے کی ذمہ داری سونپ دیتے ہیں۔ یہ کرائے کی مائیں انہیں زیادہ تر لاؤس، روس، یوکرائن، جارجیا یا امریکا میں مل جاتی ہیں۔ عام حالات میں سروگیٹ ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے پیدائش کے بعد جلد سے جلد حیاتیاتی والدین کے حوالے کر دیے جاتے ہیں تاہم کورونا کی وبا نے اس پورے سسٹم کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔

کورونا کا بحران اور سروگیسی کاروبار
کورونا کی وبا کیا پھیلی کہ تمام کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا۔ سرحدیں بند، پروازیں منسوخ، یہاں تک کہ ویزے بھی کینسل کر دیے گئے۔ ایسے میں نوزائیدہ بچوں کے چینی حیاتیاتی والدین اپنے بچوں کے انتظار میں بے چین، حالات کے نارمل ہونے کے منتظر ہیں لیکن فی الحال یہ ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ان حالات میں تاہم چین کے اندر سروگیسی کی بلیک مارکیٹ میں کاروبار دوبارہ چل پڑا ہے۔
بڑھتی ہوئی آمدنی، بانجھ پن یا ڈھلتی ہوئی عمر کے جوڑوں یا ایسے والدین جن کی تولیدی عمر گزر چکی ہے، یہ تمام عناصر سروگیسی کی بلیک مارکیٹ کو دوبارہ سے متحرک کرنے کا سبب بنے ہیں۔ چین نے سن 2016 میں ‘ون چائلڈ پالیسی‘ کو ختم کر دیا تھا، جس کے بعد بیٹے کی پیدائش کے خواہش مند شہریوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا اور غیر ملکی سروگیٹ ماؤں کی مانگ بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔
روس اور یوکرائن کی سروگیسی ایجنسیوں کے مطابق ان ممالک کے یتیم خانوں اور مختلف اپارٹمنٹس سے ایسے درجنوں نو زائیدہ بچے ملے ہیں جنہیں سروگیٹ ماؤں نے جنم دیا۔ چین کے جنوبی شہر چنگڈو سے تعلق رکھنے والی ایک ماں لِن نے اے ایف پی کو بتایا، ”میری راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں، میں سو نہیں سکتی، میں پوری رات اپنے نوزائیدہ بچے کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں جو ایک یتیم خانے میں پھنسا ہوا ہے۔‘‘ یہ چینی خاتون متعدد بار حاملہ ہوئی لیکن ہر بار اُس کا حمل گر گیا۔ اب اس کے پاس اپنے بچے کی پیدائش کے لیے ایک سروگیٹ ماں کے انتخاب کا آپشن ہی بچا تھا۔ اس کے بچے کی پیدائش جون میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوئی۔ اس سے تین ماہ قبل ہی روس نے کورونا کی وبا کی روک تھام کے دوران چین کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ لِن کا کہنا ہے، ”ہمیں نہیں معلوم ہمیں اپنے بچے کا کب تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘
38 سالہ لِن ایک وکیل ہے، گزشتہ برس اپنے شوہر کے ساتھ روس گئی اور وہاں جا کر اُس نے ایک ‘سروگیسی کمپنی‘ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ جب اُسے ڈاکٹروں کی طرف سے حمل ٹھہرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی، تو اُس کے بعد اُس نے بچے کی ضروریات کی چیزیں خریدیں، یہاں تک کہ اُس نے ایک ‘Infant Aid Course‘ بھی کر لیا۔‘‘
اس کا بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا سپنا ایک بھیانک خواب بن کر رہ گیا۔ اُس کے بچے کی پیدائش سروگیٹ ماں کے ہاں ہوئی اور پیدائش کے بعد پہلے ہفتے اُسے اپنے نو زائیدہ بچے کی تصاویر اور ویڈیو کلپس ملتے رہے، جو اُسے سروگیسی ایجنسی بھیجا کرتی تھی۔

حکام اور سرکاری ادارے خاموش
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے چینی وزارت خارجہ اور بیجنگ میں روسی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور اُن سے پوچھا کہ چینی والدین کے نوزائیدہ بچوں کو واپس لانے کے لیے اُن کی طرف سے کیا تعاون کیا جا رہا ہے؟ اس سوال کا اے ایف پی کو اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ نہ ہی اب تک اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود ہیں کہ سروگیٹ ماؤں کے ہاں غیر ممالک میں جنم لینے والے اور وہاں پھنسے ہوئے چینی بچوں کی کُل تعداد کتنی ہے۔
جون میں یوکرائن کی سروگیسی سروس BioTexCom نے ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں ایک ہوٹل میں نوزائیدہ بچوں کی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔ دریں اثناء ‘بائیو ٹیکس کام‘ کے ایک نمائندے نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس وقت اُن کے پاس جو 46 نوزائیدہ بچے ہیں، اُن میں نصف سے زیادہ کے حیاتیاتی والدین چینی ہیں۔ سرحدوں کی بندش کے باوجود حکام نے حیاتیاتی والدین کو اپنے بچوں کی وطن واپسی کا دعویٰ کرنے کا خصوصی اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔ لیکن ‘لی منگسیا‘ جس کا بچہ مئی میں کییف میں پیدا ہوا تھا، اُس کے لیے یہ کافی نہیں۔ کییف میں قرنطینہ کی شرائط اور ایئر لائنز کی طرف سے شاذ و نادر پروازوں کا بندوبست انہیں اُن کے نوزائیدہ بچے تک پہنچنے کے عمل کو مزید مشکل اور تاخیر کا شکار بنا رہا ہے۔ یہ نومبر کے اواخر سے پہلے کسی صورت کییف نہیں پہنچ سکتیں۔ لی منگسیا کے بقول، ”میں اپنے نوزائیدہ بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کا کوئی تجربہ نہیں کر سکتی۔ اُسے محسوس نہیں کر سکتی اور یہ وقت مجھے کبھی واپس نہیں مل سکتا۔‘‘
بیرون ملک پیدا ہونے والے زیادہ تر بچوں کے پاس کوئی برتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ہوتا کیونکہ اس سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لیے درکار والدین کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا فی الحال ناممکن ہے کیونکہ ایسے والدین بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

You might also like