Baseerat Online News Portal

مقامِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین!

مقامِ صحابہ
مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،پھلواری شریف،پٹنہ
اللہ رب العزت نے اس کائنات میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، تمام دنوں میں جمعہ سید الایام ہے، تمام راتوں میں شب قدر، تمام مہینوں میں رمضان المبارک، تمام رسولوں میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم، تمام لوگوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تمام صحابہ میں مہاجرین وانصار میں سے وہ جو پہلے ایمان لائے، پھر بیعت رضوان میں شریک ہونے والے، اصحاب بدر، عشرہ مبشرہ، خلفاء راشدین اور ان سب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، پھر تمام امتوں میں امت محمد یہ کو فضیلت عطا کی گئی، اسے خیر امت اور وسط امت کہا گیا اور اسے لوگوں پر شاہد بنانے کی بات قرآن کریم میں مذکور ہے۔ اس فضیلت کے سلسلے میں قرآن واحادیث کے نصوص موجود ہیں، جس کی وجہ سے عظمت، اہمیت اور فضیلت کا کسی درجہ میں بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، مجموعی طور پر صحابہ کرام کی جو فضیلت عام انسانوں پر اور عظمت تمام بنی نوع انسان پر ہے، اس کا مقابلہ کوئی دوسرا انسان کر ہی نہیں سکتا، اسی وجہ سے یہ بات مشہور ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے جو گرداڑی ہے، اس کے مقابل کوئی بڑا سے بڑا عالم اور بزرگ نہیں ہو سکتا،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیداری کی حالت میں ایمان کے ساتھ روئے انور کے دیدار کی سعادت پائی اور ایمان پر ان کا خاتمہ ہوا۔ حضرت امام شافعی ؒحضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی میرا اور میرے اصحاب کا انتخاب کیا، پھر انہیں میرا قرابت دار اور مددگار بنادیا، مسند بزاز میں حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی ایک روایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے علاوہ ساری دنیا والوں پر میرے اصحاب کو اپنے انتخاب سے فضیلت بخشی، میرے اصحاب میں بھی چار حضرات یعنی حضرت ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کو میرے ساتھ خصوصیت عطا کی اور فرمایا کہ تمام صحابہ میرے منبع خیر وبرکت ہیں، ابو داؤدطیایسی نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ کے دلوں کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر دیکھا تو انہیں آپ کی صحبت اور اپنے دین کی نصرت کے لیے منتخب کیا، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓکی ایک روایت امام احمد ؒ نے ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اقتداکرنی ہو تو وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرے، پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت اور دین کی استواری کے لیے منتخب کیا تھا۔
قرآن واحادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض وجوہ سے بعض کو بعض پر فضیلت کے باوجود تمام صحابہ کرام تین چیزوں میں برابر ہیں، اول یہ کہ وہ سب کے سب عادل ہیں، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جن کی اقتدا کروگے، ہدایت پالوگے، یہی وجہ ہے کہ محدثین جب اسماء رجال پر بحث کرتے ہیں تو ان کے بارے میں صحابی، عدول، صدوق وغیرہ کہہ کر گذر جاتے ہیں، حالاں کہ دوسرے لوگوں کے بارے میں وہ بہت سخت کلام کرتے ہیں، ان کی زندگی اور کردار کو واضح طور پر بیا ن کرتے ہیں، لیکن صحابہ کرام کے سلسلے میں ان کا طریق کار بالکل الگ تھلگ ہوتا ہے۔
دوسری بات جس میں سارے صحابہ کرام شریک ہیں وہ رضی اللہ عنہم ورضواعنہ کا مژدہئ الٰہی ہے، جس میں صحابہ کرام کے علاوہ کوئی دوسرا ان کا شریک وسہیم نہیں ہے، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی رہنے والے تھے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ وہ لوگ جو ابتداء ا ً سبقت کرنے والے ہیں، یعنی مہاجرین وانصار اور وہ لوگ جنہوں نے اچھے طریقے پر ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
تیسری بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی رفاقت کے لیے منتخب کیا تھا، وہ عام لوگ نہیں تھے بلکہ روئے زمین پر رسول کے بعد منتخب ترین افراد تھے،اس سلسلہ کی کئی روایتیں اوپر مذکور ہوئیں، انہیں خصوصیات کی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو برا بھلا کہنے سے سختی سے منع کیا، بخاری ومسلم کی روایت حضرت ابو سعید خدریؓ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ میں سے کسی کو گالی نہ دو، تم میں سے اگر کوئی شخص جبل احد کے برابر بھی سونا صدقہ کرے تو بھی وہ میرے صحابہ کرام کے ایک مٹھی دانے کے صدقہ کا اجر تو کیا آدھا ثواب بھی نہیں پا سکتا۔ (بخاری: ٣٦٧٣، مسلم شریف ٢٥٤١) حضرت انس بن مالکؓ سے ایک دوسری روایت ہے کہ جس نے میرے صحابہ کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
علامہ ایوب سختیانی کا قول ہے کہ جس نے صحابہ کرام کی مدح وثنا کی وہ نفاق سے بری ہو گیا اور جس نے کسی بھی صحابی کی تنقیص کی یا ان سے بغض رکھا وہ بدعتی ہے، سنت اور سلف صالحین کا مخالف ہے۔ امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کو برا کہنا فحش محرمات میں سے ہے، خواہ معاملہ ان صحابہ کا ہی کیوں نہ ہو جن سے بعض مسائل کی تفہیم کی ضرورت یا بعض حکمتوں کی وجہ سے لغزشیں ہوئیں اور جنہوں نے ایسی توبہ کی کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے شہر کے گنہ گاروں پر تقسیم کرنے پر سب کی مغفرت کی بات فرمائی یا وہ اصحاب ہوں جن کی باہم لڑائی ہوئی، کیونکہ یہ ان کا اجتہاد تھا، امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ جو صحابہ سے بغض رکھے اور ان کے لیے نا مناسب الفاظ استعمال کرے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، امام ابو زراعہ رازیؒ کی رائے ہے کہ جب کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ کسی صحابی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ جائیں کہ وہ زندیق ہے، محمد بن حسین ؒکی رائے ہے کہ جس نے صحابہ کرام پر سب وشتم کیا وہ گھاٹے میں رہا کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اس پر اللہ، رسول، ملائکہ اور تمام مؤمنین کی لعنت ہے۔
ان آیات واحادیث کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین اسلام کی ترویج واشاعت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائین تھے، مشکل اور پریشانی کے وقت میں سینہ سپر ہوجانے والے تھے،ا ن کو اپنی جان کی فکر نہیں تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربان کر نا سعادت کی بات سمجھتے تھے، ان کو یہ مقام ومرتبہ ان کی اس قربانیوں کے طفیل ملا، دین ہم تک ان کے ذریعہ پہونچا، ان کی صداقت، ثقاہت اور عدالت پر شکوک وشبہات کھڑا کرنے کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ دین کے سارے ذخیرے کو مشکوک قرار دیا جائے، دشمنان اسلام نے اسی نقطہئ نظر سے ہر دور میں صحابہ کرام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نعرہ لگایا کہ تنقید سے کوئی بالا تر نہیں، لیکن امت نے اس موقف کو نہیں مانا، ماہرین اسماء رجال نے ان کی صحابیت کی عظمت کو سمجھا اور ان لوگوں کے باطل خیالات کی تردید کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنایا اور پوری امت اس پر متفق رہی کہ صحابہ کرام کو بُرا بھلا کہنا بدبختی، شقاوت اور دین سے دوری کی دلیل ہے۔
ایسا جو لوگ کرتے ہیں اس کی داخلی وخارجی وجوہات ہوا کرتی ہیں، کبھی تو اپنی ہمہ دانی کے زعم میں ایسی جہالت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور کبھی کسی فرقہ کی طرف سے داد ودہش اس قسم کے ہفوات پر اکساتا ہے، وجہ چاہے جو بھی ہو، جو لوگ صحابہ کرام پر طعن وتشنیع اور ان کے مقام ومرتبہ کو فروتر کرنے میں لگتے ہیں وہ اپنی ذلت ورسوائی کا سامان کرتے ہیں، یہ ذلت ورسوائی دنیا میں بھی انہیں ملتی ہے اور آخرت کا عذاب ذلت ورسوائی کے اعتبار سے دنیا کے معالات سے کہیں بڑھ کر ہے، آدمی زندگی کے کسی موڑ پر بھی شیطان کے بہکاوے میں آسکتا ہے، اس لیے اس قسم کے معاملات میں اللہ کے سامنے اپنی براء ت کا بھی اظہار کرنا چاہیے او ردعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ ہر قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔(بشکریہ نقیب)

You might also like