Baseerat Online News Portal

سہرسہ کے گاؤں گاؤں میں اردو مخالف فیصلہ کے خلاف عوامی احتجاج بہارمیں اردو کومٹانے کی سازش کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے:شاہنوازبدر

سہرسہ کے گاؤں گاؤں میں اردو مخالف فیصلہ کے خلاف عوامی احتجاج

بہارمیں اردو کومٹانے کی سازش کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے:شاہنوازبدر

سہرسہ،بہار میں نتیش حکومت کے ذریعے اردو کے ساتھ متعصبانہ اور سوتیلے رویہ سے محبان اردو میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔محکمہ تعلیم کے حالیہ فیصلے سے اردو داں طبقہ میں اس مسئلہ کو لیکر غم وغصہ اور احتجاج کاسلسلہ دن بدن دراز ہوتاجارہاہے۔شہر سے لیکر دیہی علاقوں تک اس مسئلہ پر محبان اردو اپنی مکمل بیداری کاثبوت پیش کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔

ضلع کے سمری بختیارپور میں سنودھان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے زیراہتمام اس مہم کو عوامی تحریک بنانے کی ہرممکن جدوجہد جاری ہے۔شاہنواز بدر کی قیادت میں اب تک تریاواں، چکمکہ، مبارکپور، ہریوا سمیت کئی گاؤں میں محبان اردو احتجاج کرچکے ہیں۔مساجد کے ائمہ اور علماء حضرات بھی اس موضوع پر اپنی تقریروں کے ذریعہ لوگوں کو اردو کی بقاء اور فروغ کی طرف توجہ دلارہے ہیں۔

اس موقع پر سماجی کارکن وصحافی شاہنواز بدر قاسمی نے کہاکہ اردو زبان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے حکومت بہار کی طرف لئے گئے حالیہ فیصلے سے محبان اردو سخت ناراض ہیں اس لئے وزیر اعلی نتیش کمار سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوراواپس لیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بہار کے سرکاری اسکولوں سے اردو کی لازمیت کو ختم کرنے کے خلاف جاری مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں اور اس زبان کی بقاء وتحفظ میں اپناکردار اداکریں،انتخابات کے پیش نظر ضابطہ اخلاق نافذہونے کے باوجود اس تحریک کو جاری رکھیں اور اپنے گھر وں میں رہ کر ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ اس مہم میں شامل ہوں۔یادرکھئے اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب وتقافت اور مذہبی شناخت بھی ہے،نتیش سرکارکے ذریعہ نئی نسل کو اردو سے دور کرنے اور بہارمیں اردو زبان کومٹانے کی سازش کو ہم کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،شاہنواز بدر نے کہاکہ اگر ہماری خاموشی کی وجہ سے ریاستی حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی تواس کے نتائج واثرات بہت گہرے ہوں گے،محبان اردو سے اپیل ہے کہ وہ علاقائی سطح پر اس تحریک کو کامیاب بنانے میں ہرممکن مدد کریں اور اپنے مقامی ایم ایل اے، ایم پی اورسرکاری نمائندے سے اس سلسلے میں جواب طلب کریں۔

You might also like