Baseerat Online News Portal

مرکزی اور صوبائی حکومتیں کسانوں کو برباد کرنے پر آمادہ ہیں

کسان قانون کے خلاف پچھم مکتی مورچہ کازبردست احتجاج، روڈ جام کرکے صدر جمہوریہ کو بھیجامیمورنڈم
دیوبند،25؍ ستمبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
زراعت آرڈی نینس کے خلاف پچھم مکتی مورچہ کی جانب سے آج کسانوں نے دیوبندہائی وے جام کرکے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران موقع پر پہنچے والے افسران کو کسانوں نے صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم دیا اور پارلیمنٹ میں پاس کئے جانے والے آرڈی نینس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔تفصیل کے مطابق آج پچھم مکتی مورچہ کی اپیل پر بڑی تعداد میں کسان ٹریکٹر ٹرالیوں میں سوارہوکر منگلور بس اسٹینڈ پرپہنچ گئے اور انھوں نے اپنے ٹریکٹر ٹرالیوں اور گاڑیوں کو ہائی وے کی دونوں جانب کھڑا کرکے جام لگادیا۔ جام کی اطلاع ملتے ہی افسران موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے کسان لیڈران سے بات چیت شروع کی۔ اِسی درمیان ھائی وے پر کسانوں کی جانب سے لگائی جانے والی پنچایت میں مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورمانے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں کسانوں کو برباد کرنے پر آمادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آزادی سے لے کر اب تک کسانوں کو ان کی فصلوں کی منافع بخش قیمت ملنا تو دور کی بات ہے کوئی بھی حکومت فصل پر آنے والی لاگت کے برابر بھی رقم نہیں دے پائی، جس کی وجہ سے کسان قرضوں میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ پریشان ہوکر خود کشی کررہے ہیں۔ بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے لائے جانے والے زراعتی بل سے صرف کارپوریٹ گھرانوںاورصنعت کاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ جبکہ کسان اور مزدور غریبی اورقرضوں کے جال میں مزید پھنستا چلاجا ئے گا۔ہائی وے پر زبردست جام لگانے کے بعد کسانوں نے صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک آٹھ نکاتی میمورنڈم ایس ڈی ایم راکیش کمار سنگھ اور سرکل آفیسر رجنیش اپادھیائے کے سپرد کیا۔ انھوں نے بتایا کہ میمورنڈم میں زراعتی بل آرڈی نینس کو واپس لینے، کسانوں کو ان کی فصلوں کی منافع بخش قیمتیں دلانے، قرضدار کسانوں کے قرضے معاف کرنے اور منریگا کو سیدھے سیدھے کھیتی سے منسلک کرنے کامطالبہ کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ میمورنڈم میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ گنے کی قیمت 600؍روپے فی کوئنٹل مقرر کی جائے، شوگر فیکٹریوں کی جانب سے کسانوں کی بقایا جات کی ادائیگی جلد ازجلد کرائی جائے۔ کسانوں کو کھیتی کے لئے مفت بجلی دی جائے اور 40؍لیٹر ڈیژل مفت دلایا جائے۔ واضح ہو کہ کسانوں کی جانب سے ہائی وے جام کئے جانے کے بعد راہ گیروں کو گھنٹوں تک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور سہارنپور مظفر نگر سے آنے والی گاڑیوں کو فلائی اوور سے ہوکر گزرنا پڑا۔ اس احتجاجی مظاہرے اورپنچایت کی صدارت رائو فاروق نے کی اور نظامت کے فرائض گلوندر سنگھ بنٹی نے انجام دیئے۔ اس دوران لاتعداد ٹریکٹر ٹرالیوں اور ہزاروں کسانوں کے علاوہ حاجی سلیمان، ترپن سنگھ، روبن سنگھ، روندر گل، بھوراتیاگی، محمد یاسین، سشیل گوجر، نیٹوپردھان، برج بھوشن شرما، مہکار گوجر، نیترپال سنگھ، بدھو حسن، محبوب حسن، رشی پال گوجر، سبھاش شرما، امت، موہن سنگھ، دھن راج تیاگی، افضال پردھان، ذوالفقار، جوگیندر سنگھ اورحاجی احتشام کے نام قابل ذکر ہیں۔

You might also like