Baseerat Online News Portal

برطانیہ:کوروناوائرس سے جڑی پابندیوں سے پریشان عوام کالندن میں پرزوراحتجاج

آن لائن نیوزڈیسک
لندن میں کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ہے جنہیں منتشر کرتے ہوئے پولیس کے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز پکڑے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’ہم نہیں مانتے‘ اور ’احمقانہ پابندیوں کو کچرا دان میں ڈالو۔‘
میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مظاہرین نے احتیاط سے کام نہیں لیا اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔‘
’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اجتجاج کو قواعد و ضوابط سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور ہم انھیں منتشر ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ افسوس کہ افراد سے نمٹتے ہوئے چند افسر زخمی ہو گئے۔‘
ٹریفلگر سکوئر پر مظاہرہ کرنے والے ہزاروں افراد میں سے بہت کم لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور وہ ان مقررین کا خطاب سننے آئے تھے جو پابندیوں کے خلاف حکومت پر تنقید کر رہے تھے۔
میٹروپولیٹن پولیس نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ پہلے مظاہرین کو کہے گی وہ سماجی فاصلہ قائم کریں اور انہوں نے یہ بات نہ مانی تو پولیس کارروائی کرے گی۔
جب اس مظاہرے کا آغاز ہوا تو پولیس ٹریفلگر سکوئر پر موجود تھی لیکن اس نے تین گھنٹے تک کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔
یہ مظاہرے ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب برطانوی پارلیمنٹ کورونا وائرس کے حوالے سے قوانین کا جائزہ لے رہی ہے اور حکومت نے وبا پر قابو پانے کے لیے نئی پابندیاں لگائی ہیں۔
جبکہ بعض اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر پابندیاں لگانے پر حکومت پر تنقید بھی کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ریلی کے مقررین نے کہا ہے کہ وہ سازشی نظریے پیش نہیں کر رہے ہیں بلکہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے لیے کھڑے ہیں۔
حکومت نے رات 10 بجے کے بعد بارز اور ریسٹورینٹس جانے پر ملک بھر میں کرفیو نافذ کیا، ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانوں کا اعلان کیا اور چھ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر بھی پابندی لگائی۔
تاہم احتجاجی مظاہرے پر پابندی نہیں تاوقتیکہ اس کے منتظم اس بات کی یقین دہانی کروائیں کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں گے۔
برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث 42 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

You might also like