Baseerat Online News Portal

فرقہ پرستی پرعالمی برادری کااظہارِتشویش :لمحہ فکریہ

خبردرخبر:محمدشارب ضیاء رحمانی
بین الاقوامی حقوق انسانی کے اداروں نے جس طرح مودی حکومت کو آئینہ دکھایاہے وہ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی منظرنامہ پرہندوستان کی شبیہ خراب ہوتی جارہی ہے۔چنانچہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کے حوالہ سے مودی حکومت کی کھنچائی کی گئی ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی حکومت اظہار رائے کی آزادی پرہو رہے حملوں کو روکنے میں ناکام ہے۔اس میں بی جے پی لیڈروں کے اقلیت مخالف بیانات سے پنپ رہے احساس عدم تحفظ پربھی تنقیدکی گئی ہے ۔سرکاری سطح پرحقوق انسانی کی خلاف ورزی کے حوالہ سے ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشددمیں اضافہ،دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف نسلی تشدد،بدعنوانی اورنسلی امتیازات پرتشویش کااظہارکیاہے۔نیز گجرات فسادات پرناناوتی مہتاکمیشن کی رپورٹ کوخفیہ رکھنے، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کوپریشان کرنے کاالزام لگاتے ہوئے اسے اظہارِرائے کی آزادی پرحملہ بتایاہے۔
عدم رواداری کے ماحول پربی جے پی لیڈران لاکھ کچھ کہیں،حقیقت یہی ہے کہ ملک نے کبھی ایساماحول نہیں دیکھاتھاجہاں ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کوشک کی نگاہ سے دیکھنے پرمجبورہے۔کل تک جوساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے،نفرت کی چنگاری ان کے درمیان سلگ رہی ہے،آرایس ایس اوراس کی ذیلی تنظیموں نے مختلف عنوان کے تحت اقلیتوں میں احساس عدم تحفظ اوراکثریتی طبقہ میں نفرت وتکدرکی آگ بھڑکارکھی ہے ۔اشتعال انگیزتقاریراورپروگراموں کے ذریعہ دیش کی گنگاجمنی تہذیب اورکثرت میں وحدت کی روایت دن بدن کمزورہوتی جارہی ہے۔رواداری کی کوئی بات انہیں گالی سی لگنے لگی ہے۔
ایک طرف پوری دنیاکے سرمایہ کاروں کی توجہ ہندوستان کی طرف مبذول کرانے کی کوشش ہے دوسری طرف ملک کا یہ تشویشناک ماحول جس میں رتن ٹاٹاجیسے صنعت کاربھی ملک کی صورتحال کاشکوہ کررہے ہیں۔یہ بھی باعث حیرت ہے کہ رتن ٹاٹااورکرن جوہرکوملک چھوڑکرکہیں جانے کامشورہ نہیں دیاگیا،جب کہ عامرخان اورشاہ رخ کیلئے پاکستان کاویزالئے کئی لیڈرقطاربند نظرآتے تھے۔کیایہ خودمذہبی عدم برداشت کی دلیل نہیں ہے ۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ملک میں فرقہ ورانہ ماحول سازگاربھی نہ ہواورغیرملکی صنعت کارسرمایہ کاری کریں۔ احساس عدم تحفظ اورفرقہ پرستی کی سرگرمی یورپ اورامریکہ تک محسوس کی جارہی ہے،یہ ہمارے لئے باعث شر م پہلوہے کہ ہمارا وطن ان ہاتھوں میں چلاگیاجن کے پریوارکے لوگ ملک کوترقی کی طرف لے جانے،مہنگائی کے ایشوزپرسنجیدگی سے سوچنے اورغریبوں کودووقت کی روٹی دینے کی بجائے ایک دوسرے کولڑانے میں مصروف عمل ہیں۔وہ کھانامیسرکرانے کی بجائے یہ طے کرنے لگے ہیں کہ کون کیاکھائے اورکیانہ کھائے۔کسان خودکشی کرتے رہیں،انہیں یونیورسیٹیوں سے لے کرایوانوں تک بھگواکرن کی سوجھی ہوئی ہے۔خوف وہراس کے ماحول نے ہمارے وطن کی شبیہ کوعالمی برداری کے درمیان داغداربنادیاہے۔یہ ہرمحب وطن کافرض ہے کہ وہ اس فرقہ پرستی کوپنپنے نہ دے جو ہمارے ملک کی ترقی اوربنیادی شہری مسائل کے حل میں رکاوٹ پیداکرنے کیلئے ہوادی جارہی ہے ۔ حکومت کوبھی سنجیدگی سے سوچناہوگاکہ اگروہ واقعی ملک کی ترقی کیلئے سنجیدہ ہے اوروہ چاہتی ہے کہ سرمایہ کاری کاماحول فروغ پائے،میک ان انڈیاجیسی مہم کامیاب ہوتواسے ان گرگوں پرلگام لگانی ہوگی جووطن عزیزکی نیک نامی کاذریعہ بننے کی صلاحیت تونہیں رکھتے ہیں لیکن اسے بدنام کرنے کے فن سے پوری طرح واقف ہیں۔
(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچرایڈیٹرہیں۔

You might also like