Baseerat Online News Portal

شہید اعظم بھگت سنگھ :’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ‘‘

شہید اعظم بھگت سنگھ کی یومِ پیدائش 28 ستمبر کے ضمن میں خصوصی پیشکش

عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ۔ پنجاب۔
’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ‘‘
دیش کی جدو جہدآزادی میں جب کبھی نمایاں کردار ادا کرنے والے جانثار شہدا کا تذکرہ ہوتا ہے تو اپنی جان کا نذرانہ دینے والے شہداء میں ٹیپو سلطان ، مولانا محمد باقر (مدیر دہلی اردو اخبار) کرتار سنگھ سرابھا ، شہید اودھم سنگھ کے نام سر فہرست آتے ہیں انھیں میں سے ایک اور نام جو آج بھی ہمارے بچے بچے کی زبان پر ہے وہ نام ” شہید اعظم بھگت سنگھ ”کا ہے۔
بھگت سنگھ جنکا جنم مورخہ ۲۸ ستمبر ۱۹۰۷ کو گاؤں بنگا، چک نمبر ۱۰۵، ضلع لائیلپور موجودہ پاکستان میں ہوا۔ انکے والدکا نام سردارکرشن سنگھ اور والدہ ودیا وتی تھا ۔ بھگت سنگھ کے پریوار کا پوشتینی گاؤں کھٹکڑ کلاں مشرقی پنجاب میں ضلع نواں شہر میں واقع ہے۔
بھگت سنگھ نے جب آنکھ کھولی توہندوستان میں انگریزوں کے خلاف ایک جدوجہد اپنے عروج پہ چل رہی تھی ۔جلیانوالہ والے باغ کاخونی سانحہ،کرتار سنگھ سرابھا کو ا نگریزوں کی طرف سے پھانسی پہ لگایا جانا ،ایسے دل سوز و اقعات تھے جنھوں نے بچپن میں ہی بھگت سنگھ کی دل پر گہرے زخم چھوڑے ۔ آپ کے چچا سردار اجیت سنگھ اپنے وقت کے ایک عظیم مجاہدین آزادی تھے۔اس طرح وطن کی محبت اور ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کا جزبہ بھگت سنگھ کو وراثت میں ملا۔ جب گاندھی جی نے سول نافرمانی تحریک چلائی تو بھگت سنگھ نے اپنے طالب علمی کے زمانہ میں ہی خود کو اس تحریک کے ساتھ جوڑ لیا ۔
آگے چل کر جیسے جیسے ہندوستان کے نشیب و فراز سے بھگت سنگھ دوچار ہوتے گئے ان پہ وطن کی محبت کا رنگ مذید گہرا ہوتا گیا ۔
۱۹۲۱ میں اسکول کی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد بھگت سنگھ نے نیشنل کا لج لاہور میں داخلہ لیا۔اسی بیچ گھر والوں نے اس کو شادی کر نے کے لئے جب زور دیا تو اپنی بی۔ اے ۔ کی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اور کالج کو الودع کہہ لاہور کو چھوڑ کر کانپور چلے آئے۔اصل میں وہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے وہ اپنے وطن کو انگریزوں کے چنگل سے آزاد کروانا چاہتے تھے۔ یہاں کانپور میں آپ نے انقلابی تحریک سے وابستہ لوگوں کی مدد سے پرتاپ پریس میں ملازمت کی ، یہیں پر مجاہدین آزادی کے ساتھ مل کر ہندوستان ریپبلکن ایسوسیشن میں شامل ہوئے جو بعد میں سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسیشن کے نام سے جانی جانے لگی۔اسکے بعد پھر آپ واپس لا ہور آگئے ۔ انگریزوں کی طرف بھگت سنگھ کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جا رہی تھی۔۱۹۲۷ میں لاہور میں دسہرہ بم کیس میں انہیں گرفتار کیا گیااور شاہی قلع لاہور میں رکھے گئے ضمانت کے بعد ہندوستان کی آزادی کیلئے نوجوان بھارت سبھا کا قیام عمل میں لائے اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگئے۔۸،اپریل ۱۹۲۸ کو نئی دہلی میں عین اس وقت جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا بھگت سنگھ اور بی کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکہ کی آواز پیدا کرنے والا بم پھینکا تانکہ گونگی بہری فرنگی حکومت کے کانوں تک اپنی آواز پہنچائی جاسکے،اس دھماکہ کے بعد دونوں گرفتار کر لیئے گئے عدالت نے عمر قید کی سزا دی ۔ ۱۹۲۸ میں سائمن کمیشن کی آمدپر لاہور ریلویاسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو ئے اور بعد میں دل کا دورہ پڑنے سے اس دنیا کو الودع کہہ گئے ۔
ایک دن مسٹر سانڈرس اے۔ایس ۔پی اپنی موٹر سائیکل پر سواردفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔اسکے بعد حکومت نے ایک ہی رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا او لاہور کی سینٹرل جیل کے ایک کمرہ میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔بھگت سنگھ اور بی کے دت اس سے پہلے اسمبلی بم کیس میں بھی سزا پاچکے تھے ۔ملزمان کی طرف سے لالہ امر داس وکیل تھے ۔مقدمہ تین سال چلاآخر ۷ ، اکتوبر ۱۹۳۰ کو ٹربیونل کا فیصلہ جیل میں پہنچا اس فیصلہ میں بھگت سنگھ ،سکھدیو ،اور راجگرو کو پھانسی، جبکہ کمل ناتھ ،شو ورما، گیا پرساد، جئے دیو کپور، کشوری لال اور مہاں ویر کو عمر قید، جبکہ کندن لال، کو سات سال اور پریم دت کو تین سال کی سزا قید بامشقت سنائی گئی۔
پھانسی سے پہلے بھگت سنگھ نے اپنے دوست شو شرما کو یہ الفاظ کہے؛”جب میں نے انقلاب کے راستے پر قدم بڑھایا،میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی جان نچھاور کر ، ‘انقلاب زندہ باد ، کانعرہ وطن کے کونے کونے میں پہنچاسکا تو میں سمجھونگا کہ میری زندگی کی قیمت پڑ گئی ۔آج جب میں پھانسی کی سزا کیلئے جیل کوٹھری کی سلاکھوں کے پیچھے ہوں،میں اپنے دیش کے کروڑوں لوگوں کی گرجتی ہوئی آواز میں نعرے سن سکتا ہوں۔۔۔ایک معمولی سی زندگی کی اس سے بڑی کیا قیمت پڑ سکتی ہے”!! بھگت سنگھ کو اردو، پنجابی اور ہندی کے علاوہ انگریزی زبا ن بھی آتی تھی اس ساتھ ہی انھوں نے اپنے دوست بی ۔کے دت سے بنگلہ بھاشا بھی سیکھی تھی ۔بھگت سنگھ کی اردو قابل تعریف تھی ۔اس کا احساس ہمیں ان کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اشعار سے ہو جاتا ہے ۔بھگت سنگھ نے اپنی پھانسی سے قبل۳ ،مارچ کو اپنے بھائی کلتار کو ایک خط لکھا جس کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بھگت سنگھ ایک سچے دیش بھگتی کا جزبہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے شاعر بھی تھے ان کے اس خط کا اقتباس قارئین آپ بھی دیکھیں۔”اسے یہ فکر ہے کہ ہر دم طرز وفا کیا ہےہمیںیہ شک ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے
دہر(دنیا)سے کیوں خفا رہیں،چرخ(آسمان) سے کیوں گلہ کریںسارا جہاں عدو سہی ، آؤ مقابلہ کریں۔۔۔”۲۳مارچ۱۹۳۱ کو شام قریب سات بجکر ۳۳ منٹ پر بھگت سنگھ اورانکے دو ساتھیوں راج گورو اور سکھدیو کو پھانسی دے دی گئی۔جبکہ پھانسی کے وقت ان کے لبوں پہ یہی نغمہ تھا کہ۔۔دلوں سے نکلے گی نہیں ،مر کے بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وطن آئے گی۔۔۔آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان پیڑھی کو بھگت سنگھ جیسے کہ عظیم سپوتوں کی زندگی کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کروائیں ۔
بھگت سنگھ نے ہندوستان کی آزادی کے لیے جو لڑائی لڑی وہ کسی خاص دھرم یا فرقہ کے لوگوں کے لیے نہیں تھی ۔بلکہ ہندو مسلم اور سکھ سب دھرموں کے لوگوں کو آزادی دلانے کے لیے تھی ۔
یقیناً آج ملک جن اقتصادی، معاشی،بے روزگاری، غریبی اور کرپشن جیسے بحران کا سامنا ہے. اس کو دیکھتے ہوئے یقیناً بھگت سنگھ کی روح پریشان ہو رہی گی۔
ملک کے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد جس طرح سے روز بہ روز بڑھ رہی ہے. آج جس طرح سے مزدور و کسانوں کے دلوں میں سرکار کے کھیتی اور مزدور کے حوالے سے نئے ترمیم شدہ قوانین کو لیکر تشویش پائی جا رہی ہے اور خصوصاً کھیتی آرڈیننسز کو لیکر جس طرح سے دیش کا کسان سرکار کی لاکھ یقین دہانی کے باوجود بھی انکو رد کروانے کے لیے سڑکوں پر دھرنے دینے کے لیے مجبور ہے اور سرکار سے آر پار کی لڑائی لڑنے کی باتیں تک کہہ رہا ہے. وہ یقیناً دیش کے استحکام کے لیے ایک خطرہ بننے کا اندیشہ ہے. یقیناً آج جہاں کہیں بھی بھگت سنگھ کی روح ہوگی وہ ملک کے موجودہ حالات کو لیکر ضرور رنجیدہ ہو گی اور وہ یہ سوچ رہی ہوگی کہ آزادی دلانے کے بعد جس ملک کا خواب انھوں نے دیکھا تھا یہ ویسا تو یہ ملک کسی طور نظر نہیں آتا۔
آج ملک کے مین سٹریم میڈیا کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وع ادھر ادھر کی فرضی خبریں دکھا کر عوام کے ذہنوں کو منتشر و بھٹکانے کی کوششیں کرنا بند کرے اور اس کی جگہ عوام کو درپیش حقیقی مسائل کو سرکار کے روبرو پیش کر ان کو حل کروانے میں معاون و مددگار بنے. حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کی بے یقینی و عدم اعتماد کو دود کر ایک اعتبار و اعتماد کے جذبے کو بحال کرے. ہم سمجھتے ہیں آج کے دن شہید اعظم بھگت سنگھ کو دیش کے حکمرانوں کی طرف سے یہ سب سے بڑی شردھانجلی ہوگی۔

You might also like