Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

اے ایم یو کی سابق طالبہ ڈاکٹر بشریٰ عتیق کو شانتی سوروپ بھٹناگر ایوارڈ ملنے پر اظہار مسرت
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی ایک سابق ہونہار طالبہ اور آئی آئی ٹی کانپور کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ عتیق کو میڈیکل سائنس کے شعبہ میں ان کی گرانقدر خدمات کے لئے ملک کے سب سے مؤقر سائنس ایوارڈ ’شانتی سوروپ بھٹناگر ایوارڈ-2020‘ سے نوازا گیا ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ نے اے ایم یو سے 1998-2003 میں پروفیسر وسیم احمد فریدی کی نگرانی میں زولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔
آئی آئی ٹی کانپور کے بایوکیمیکل سائنسز اینڈ بایو انجینئرنگ شعبہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ڈاکٹر بشریٰ عتیق، پروسٹیٹ اور بریسٹ کینسر کا سبب بننے والے کینسر بایو مارکرس اور مولیکیولر پیش رفت پر تحقیق کررہی ہیں۔ پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں میں پائی جانے والی پروٹین کی سطح پر تحقیق کے لئے انھیں 2018 میں سی این آر راؤ فیکلٹی ایوارڈ پیش کیا گیا تھا۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے انھیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’عظیم تحقیقی خدمات اور علمی ذخیرہ میں گرانقدر اضافہ کے لئے ڈاکٹر بشریٰ کی حصولیابی قابل ستائش اور قابل فخر ہے جس پر اے ایم یو برادری مسرت کا اظہار کرتی ہے‘‘۔ پروفیسر منصور نے کہا کہ اے ایم یو کے صدی سال میں یہ حصولیابی مزید خوشی کا باعث ہے ۔
زولوجی شعبہ کے سربراہ پروفیسر محمد افضال نے کہاکہ ڈاکٹر بشریٰ نے اپنی گرانقدر تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ کینسر ہونے میں عمر اور نسل کا بھی رول ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایشیائی لوگوں میں افریقی اور یوروپی لوگوں کے مقابلہ کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ افریقہ اور یوروپ کے لوگوں میں کینسر سے جڑی جینیاتی تبدیلیاں کافی زیادہ پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ نے یہ تحقیق ایسے وقت میں کی ہے جب برصغیر میں میوٹیشن اور جینیاتی تبدیلی کے سلسلہ میں بہت کم معلومات تھیں۔
ڈاکٹر بشریٰ ان بارہ سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جن کے ناموں کا اعلان سی ایس آئی آر نے گزشتہ 26؍ستمبر کو شانتی سوروپ بھٹناگر ایوارڈ کے لئے کیا تھا۔ یہ ایوارڈ بایولوجی، کیمسٹری، ماحولیاتی سائنس، انجینئرنگ، ریاضی، میڈیسن اور فزکس کے میدان میں 45؍سال سے کم عمر کے سائنسدانوں کو گرانقدر سائنسی تحقیق کے لئے دیا جاتا ہے۔
پی ایچ ڈی سے قبل ڈاکٹر بشریٰ نے اے ایم یو میں ایم ایس سی زولوجی (1997) میں ٹاپ کیا تھا۔ انھوں نے گریجویشن بھی اے ایم یو سے کیا۔ پوسٹ ڈاکٹرل فیلو کے طور پر وہ امریکہ کی یونیورسٹی آف مشیگن سے وابستہ رہیں جہاں انھوں نے پروسٹیٹ کینسر اور جینومِکس پر کام کیا اور کناڈا کی میک گِل یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹرل ٹرینی کے طور پر کینسر بایولوجی اور اِپی جنیٹکس پر کام کیا۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ارتقائی سفر اور نمایاں حصولیابیوں پر مبنی کتاب ’’آکسفورڈ آف دَ ایسٹ‘‘ کی اشاعت
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے صدی سال کے موقع پر اس عظیم ادارے کے ارتقائی سفر، تاریخ اور نمایاں حصولیابیوں پر روشنی ڈالنے والی ایک اہم کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔ اے ایم یو کے یوجی سی-ایچ آرڈی سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی اور سنٹر فار ویمنس اسٹڈیز، اے ایم یو کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جوہی گپتا کی مرتب کردہ اس کتاب ’’آکسفورڈ آف دَ ایسٹ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی- 1920-2020‘‘ کو وائیوا بُکس، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب سترہ منتخب مضامین پر مشتمل ہے جس کے لکھنے والوں میں پروفیسر ڈیوڈ لیلے ویلڈ (امریکہ)، پروفیسر گیل مِنال (امریکہ)، ڈاکٹر کریمو محمد (پرتگال)، پروفیسر ایلن گنتھر (کناڈا)، ڈاکٹر جیوفری ناش (یوکے) ، چارلس ریمسی(امریکہ)، پروفیسر یاسمین سیکیا (امریکہ)، ڈاکٹر عنبر ایچ عباس (امریکہ)، ڈاکٹر فائزہ عباسی ، ڈاکٹر راحت ابرار، طارق حسن، ڈاکٹر گلفشاں خاں، پروفیسر ایم شافع قدوائی، پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، پروفیسر عائشہ منیرہ رشید، ڈاکٹر توصیف اے پیرے اور سارہ اے قدوائی (امریکہ) جیسے نام شامل ہیں۔
کتاب کا مقدمہ اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اور تعارف پروفیسر عبدالرحیم قدوائی اور ڈاکٹر جوہی گپتا نے تحریر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گزشتہ دہائی میں ملک کے ممتاز ترین اداروں میں شمار کی جاتی رہی ہے اور اس ادارے نے مختلف کمزور طبقات کے طلبہ و طالبات کو فیض پہنچایا ہے اور اس طرح ایک عظیم انسانی خدمت انجام دی ہے۔ یونیورسٹی کا اقامتی کردار اسے دیگر یونیورسٹیوں سے منفرد بناتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اقامتی ہالوں میں قیام کرنے والے طلبہ و طالبات زندگی بھر کے لئے ایک دوسرے سے مربوط ہوجاتے ہیں ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے خصوصاً اس علمی درسگاہ نے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے اور یہاں کے متعدد فرزندوں نے مختلف عہدوں پر فائز ہوکر اور مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ملک و قوم کی خدمت کی ہے، جن میں صدر جمہوریہ ہند اور نائب صدرکے عہدوں سمیت ایف این اے، پدم ایوارڈیافتگان، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتگان اور قانون، عوامی خدمت، علم و تحقیق اور ادب وغیرہ کے ممتاز نام شامل ہیں۔
330صفحات پر مشتمل اس کتاب (آئی ایس بی این: 978-93-90054-23-7 ) میں اے ایم یو کے نامور ابنائے قدیم کی فہرست بھی شامل ہے جسے ڈاکٹر راحت ابرار نے ترتیب دیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
لاء سوسائٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی لا فیکلٹی کی لا سوسائٹی کے زیر اہتمام ’’ایک عالمی شہری بننے کی صلاحیت اور اپروچ‘‘ موضوع پر بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
مہمان خصوصی محترمہ شیفالی راج (منیجنگ ڈائریکٹر، پی ایس آئی ٹی، کان پور) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی شہری وہ شخص ہے جو کسی سماج، شہر یا ملک سے اپنی مخصوص شناخت بنانے کے بجائے پوری دنیا کے شہری کے طور پر اپنی شناخت قائم کرتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہم سب کو عالمی شہری بننے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ رفتہ رفتہ پوری دنیا آپس میں جُڑتی جارہی ہے اور جغرافیائی سرحدیں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ عالمی شہری بننے کے لئے مکالمہ کی معقول صلاحیت، تجزیاتی فکر اور مسلسل سیکھنے کی خواہش کا ہونا ضروری ہے۔ شیفالی راج نے کہاکہ عالمی شہری کو شہریوں کے مسائل کا بہتر علم ہوتا ہے۔ انھوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر سوچیں اور مقامی سطح پر کام کریں
کانفرنس کی صدر ڈاکٹر پربھا تھوڈم (ہیڈ، ریسرچ اینڈ مینجمنٹ، یونیورسٹی آف بریمی، عمان)نے اپنے خطاب میں کہاکہ عالمی شہری بننے کے لئے صحیح تعلیم کا ہونا ضروری ہے اور جب بھی موقع ملے بیرون ملک کا سفر ضرور کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر پربھا نے کہاکہ کم عمر میں ہی ایک خاتون وائس چانسلر کے طور پر کام کرتے ہوئے انھوں نے ہمیشہ محنت اور ڈسپلن پر توجہ دی ۔ انھوں نے طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ موٹ کورٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں تاکہ ان کی منطقی اور مکالماتی صلاحیت بہتر ہو۔
کانفرنس کے ڈائریکٹر اور قانون فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ایم شکیل احمد صمدانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ عالمی شہریت آج کے دور میں ایک ابھرتا ہوا موضوع ہے ۔ اس کے لئے طلبہ کو اپنی طالبعلمی کے وقت سے ہی صحیح سمت میں کام کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنی چاہئے اور عالمی ثقافت، جغرافیہ، زبان وغیرہ کی معلومات حاصل کرتے ہوئے جب بھی موقع ملے بیرون ملک ضرور جانا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ سفر سے زندگی کے سچے حقائق کا علم ہوتا ہے اور یہ تجربہ انسان کے ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے۔ پروفیسر صمدانی نے کہاکہ سرسید انیسویں صدی میں انگلینڈ گئے تھے اس لئے انھیں عالمی شہری کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہاکہ قومی تعلیمی پالیسی میں مرکزی حکومت نے دنیا کی 100 ممتاز یونیورسٹیوں کے مراکز ہندوستان میں کھولنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مسٹر سُبھاجیت سانیال (ہمالین ڈبلیو ایچ این کالج، نیپال) نے کہاکہ عالمی شہری سے مراد وہ شخص ہے جو جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں کو پار کرجاتا ہے اور پوری دنیا کو اپنا کنبہ سمجھتا ہے۔ اس کے لئے انسانیت سب سے اوپر ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’وسودیو کُٹمب کم‘ عالمی شہریت کا سب سے مناسب حوالہ ہے۔
اس سے قبل لا سوسائٹی کے سکریٹری عبد اللہ صمدانی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ نظامت عائشہ علوی نے کی۔ سوال و جواب سیشن کی نظامت محمد ناصر (اسسٹنٹ پروفیسر) نے کی اور شکریہ پروفیسر محمد اشرف نے ادا کیا۔ مہمانوں کا تعارف حبیبہ شیخ، ڈاکٹر شاد احمد، شیلجا سنگھ اور عفیف جیلانی نے کرایا۔ کانفرنس کی رپورٹیئر فوزیہ اور عائشہ صمدانی تھیں۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں شبھم کمار، پون وارشنے، کاشف سلطان، سمرین احمد، سومیا گوئل، چندن گپتا، سمرہ ہاشم، عنبر تنویر، صدف خاں، شعیب علی، حُنین خالد، مہ لقا ابرار، علوینا رئیس، رضیہ چوہان وغیرہ کا خصوصی تعاون شامل رہا۔
٭٭٭٭٭٭
تین طلبہ کا ملازمت کے لئے انتخاب
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کمپیوٹر اینڈ الیکٹرانکس انجینئرنگ کے تین طلبہ کو آن لائن بھرتی مہم کے ذریعہ بنگلورو کی کمپنی تیجس نیٹ ورکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ نے ملازمت کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان طلبہ کے نام ہیں: ذکی علی، روی سا ہنی اور رجنیش شرما۔
ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ٹریننگ و پلیسمنٹ افسر فرحان سعید نے بتایا کہ آن لائن بھرتی مہم کے لئے ایم ٹیک اور بی ٹیک (کمپیوٹر اینڈ الیکٹرانکس انجینئرنگ) 2021 بیچ کے 89 طلبہ و طالبات نے رجسٹریشن کرایا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
گاندھی جینتی کی مرکزی تقریب آن لائن منعقد ہوگی، کامرس شعبہ کی جانب سے کوئز اور مضمون نویسی مقابلہ کا اعلان
علی گڑھ، 28؍ستمبر: کووِڈ 19 کی وبا کے باعث اس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں گاندھی جینتی کی مرکزی تقریب 2؍اکتوبر کو صبح دس بجے آن لائن منعقد ہوگی۔ مہاتما گاندھی کے حیات و خدمات پر مبنی کتابوں اور تصاویر کی نمائش بھی آن لائن ہوگی جس کا اہتمام روایتی طور سے اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری کرتی ہے۔
اس سلسلہ میں جاری سرکولر کے مطابق وائس چانسلر آن لائن خطاب کریں گے اور قومی اتحاد اور صفائی کا حلف دلائیں گے۔ پروفیسر ایم شکیل احمد صمدانی (ڈین، فیکلٹی آف لاء) اور پروفیسر رضوان احمد خاں (چیئرمین، شعبۂ انگریزی) بالترتیب اردو اور انگریزی میں تقریر کریں گے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شارق عقیل (سی ایم او، یونیورسٹی ہیلتھ سروس) اور اظہار تشکر مولانا آزاد لائبریری کے لائبریرین ڈاکٹر محمد یوسف کریں گے۔
اسی اثناء اے ایم یو کے کامرس شعبہ نے قومی سطح کے ایک بزنس کوئز مقابلے اور ’اکیسویں صدی میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات کی معنویت‘ کے موضوع پر مضمون نویسی مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔
صدر شعبہ پروفیسر نواب علی خاں نے بتایا کہ کوئز دو راؤنڈ میں ہوگا۔ ابتدائی راؤنڈ 30؍ستمبر کو آن لائن آبجیکٹیو ٹسٹ کے ذریعہ منعقد ہوگا جس کے فاتحین یکم اکتوبر 2020 کو فائنل راؤنڈ میں شریک ہوں گے۔ شرکت کے خواہشمند طلبہ اور طالبات کو ابتدائی راؤنڈ کے لئے ویب سائٹ dare2compete.com پر رجسٹریشن کرانا ہوگا۔ مقابلہ کے فاتح کو تین ہزار روپئے نقد انعام دیا جائے گا۔ مضمون نویسی مقابلہ میں شرکت کے خواہشمند طلبہ و طالبات اپنا مضمون ای میل [email protected] پر 30 ؍ستمبر تک ارسال کرسکتے ہیں۔ مضمون 800 سے 1000الفاظ کے درمیان ہونا چاہئے۔
٭٭٭٭٭٭
شعبۂ لسانیات کے ذریعہ ’’زبان کی ٹکنالوجی اور اس کا دائرہ کار‘‘ موضوع پر ویب لکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ لسانیات کے زیر اہتمام اے ایم یو صد سالہ تقریبات کے موقع سے ویب لیکچر سریز کی تیسری کڑی بعنوان ’’زبان کی ٹکنالوجی اور اس کا دائرہ کار‘‘ کے طور پر ایک ویب ٹاک کا انعقاد عمل میں آیا۔ پروفیسر محمد جہانگیر وارثی، صدر شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے مقرر پروفیسر نیلاندری سیکھر داش کا تعارف کرایا، جو کولکاتہ کے ہندوستانی شماریاتی ادارہ کی لسانی ریسرچ یونٹ کے صدر ہیں۔
فاضل مقرر نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹکنالوجی کی صدی ہے اور اس کا کینوس دن بدن پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پچھلے کئی سالوںسے زبان کی ٹکنالوجی نے نہ صرف لسانیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپنے قدم جمائے ہیںبلکہ علوم کے کی دوسرے میدان مثلاً سائنس، سماجی و انسانی علوم کی شکل میں اس کا دائرہ کار بڑھا ہے۔
دوران گفتگو انھوں نے ماہر لسانیات اور کمپیوٹر سائنس کو درپیش چیلینجز پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کیسے باہمی اشتراک وتعاون سے ان مسائل کو بحسن خوبی حل کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے ٹکنالوجی کے ان پہلوئوں پر بھی کافی تفصیلی سے روشنی ڈالی جن کی مدد سے زبان کو وقت کے دھارے سے جوڑا جا سکتا ہے۔
پروفیسر نیلادری سیکھر داش کی سیرحاصل گفتگو کے بعد شعبۂ لسانیات کے صدر پروفیسر ایم جے وارثی نے سامعین کے پیش کردہ سوالات موصوف تک پہنچائے جن کا انھوں نے تشفی بخش جواب دیا۔
اس کامیاب لیکچر کے آخیر میں پروفیسر وارثی نے سامعین کا اور بالخصوص شعبہ کے تمام اساتذہ اسٹاف اور طلبہ کا ان کی موجودگی اور لیکچر میں دلچسپی کے لئے شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی شعبۂ لسانیات اس طرح کے ویب لیکچر کا انعقاد کرتا رہے گا۔
٭٭٭٭٭٭
فِٹ انڈیا فریڈم رن-2020 کا اہتمام
علی گڑھ، 28؍ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فزیکل ایجوکیشن شعبہ کی جانب سے طلبہ کے درمیان صحت و تندرستی کی عادات کو فروغ دینے کے لئے حکومت ہند کے ’فِٹ انڈیا موومنٹ‘ پروگرام کے تحت ’فِٹ انڈیا فریڈم رن-2020‘ کا اہتمام 28؍ستمبر سے 2؍اکتوبر 2020 تک کیا جارہا ہے۔
صدر شعبہ پروفیسر ضمیراللہ خاں نے بتایا کہ ’کہیں بھی اور کسی بھی وقت دوڑیں‘ تھیم کے تحت فریڈم رن کا اہتمام کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں میں صحت و فٹنس کے تئیں بیداری پیدا ہو۔ انھوں نے یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور عملہ کے اراکین سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کووِڈ 19 کے پیش نظر دوڑتے وقت ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھیں۔
انھوں نے کہاکہ دوڑتے وقت کی دو اچھی تصاویر کو ای میل [email protected] پر ارسال کیا جاسکتا ہے۔ تیس سکنڈ کی مختصر ویڈیو بھی بھیجی جاسکتی ہے۔ تصاویر ارسال کرنے والوں کو ای-سرٹیفیکٹ دئے جائیں گے۔

You might also like