Baseerat Online News Portal

یوگی حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں کا استحصال کیاجارہاہے

نامہ نگاروں سے گفتگوکرتے ہوئے ایس پی کے سینئر لیڈر و سابق ایم ایل سی عمر علی خان کااظہار خیال
دیوبند،28؍ ستمبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
سماج وادی پارٹی کے سابق ایم ایل سی عمر علی خاں نے کہا کہ ریاست اترپردیش میں جس طرح فاشسٹ حکومت نوجوانوں کے اہم مسائل روزگار کو درکنار کرکے ہندو مسلم لڑائو سیاست کررہی ہے اور کسانوں کو کھاد پانی اور بجلی سے بھی ترسا دیا گیا ہے اس سے عوام کو چھٹکارا صرف سماج وادی پارٹی ہی دلا سکتی ہے۔ عمر علی خاں نے کچھ نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ جس طریقے سے پوری ریاست میں مسلمانوں ،دلتوں اور برہمنوں کا استحصال کیا جارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سب سماج کے لوگ اس مرتبہ جمع ہوکر بی جے پی کی یوگی حکومت کو ریاست سے اکھاڑ پھینکیں گے اور ایک مرتبہ پھر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش سنگھ یادو کی حکومت اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئے گی۔ عمر علی خاں نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام اکھلیش یادو کی حکومت کے دوران ہی کئے گئے ہیں۔ ان کے اقتدار میں روزگار مہیا کرائے گئے تھے ، کسانوں کے مفاد میں فیصلے لئے گئے تھے اور سبھی طبقات کی بھلائی کے لئے سماج وادی پارٹی حکومت میں قدم اٹھائے گئے تھے، مگر یوگی حکومت سماج وادی پارٹی حکومت کے دوران کرائے گئے کاموں کو بھی اپنا بتاکر واہ واہی لوٹنے کی ناکام کوشش کررہی ہے جو عوام کسی بھی قیمت پرمنظورنہیں کرے گی۔ عمر علی خاں کے مطابق کسانوں کو دیہی علاقوں میں بجلی نہیں مل پارہی ہے ، سوسائٹی سے کھاد نہیں مل پارہا ہے ، گنے کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کسان اس وقت برے حال سے گزررہے ہیں ، جب کہ یوگی حکومت کسان کے مفاد کے جھوٹے دعوے کرتی رہتی ہے ۔ مگر کسان اب سمجھ رہا ہے کہ سماج وادی پارٹی حکومت ہی کسانوں کو فائدہ پہنچاسکتی ہے اور 2022کے انتخاب میں کسان اس مخالف سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کا من بنا چکی ہے۔ کسی دوسری سیاسی جماعت میں جانے کی افواہ پر عمر علی خاںنے کہاکہ یہ فضول ہے کہ جس سیاسی جماعت اور پارٹی کے صدر نے ان کو اور ان کے تمام ساتھیوں کو عزت بخشی تو وہ ان کو چھوڑ کر کسی اور سیاسی جماعت میں کیسے شامل ہوسکتے ہیں۔ عمر علی خاں کے مطابق اس طرح کی افواہیں اڑانے والے وہ لوگ ہیں جن کو عوام نے درکنار کردیا ہے اور اب وہ اس طرح کی افواہیں اڑاکر خود کو اور اپنے چند ساتھیوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں ۔

You might also like