Baseerat Online News Portal

’جینوادھاری ‘کانگریسی قیادت کوووٹ کٹواکہنے کاحق نہیں،اویسی کانگریس پربرہم

نئی دہلی 28ستمبر(بی این ایس )
بہارمیں اسمبلی انتخابات ہونے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے درمیان گھمسان برپاہوگیا ہے۔ اسدالدین اویسی کی آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی بھی اس بار بہارکے الیکشن میںکودنے کے لیے تیاری کر رہی ہے اورتقریباََپچاس نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرسکتی ہے۔اس سے اس کے بی جے پی کے لیے کام کرنے کی قیاس آرائیاں تیزہوگئی ہیں۔اورمسلم حلقوں میں انھیں مشکوک نگاہوں سے دیکھاجارہاہے۔ ادھر ایم آئی ایم پر ایک بار پھر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم اور ووٹ کٹوارہی ہے۔ اب اویسی نے ان الزامات پر جوابی حملہ کیاہے ۔کانگریس کی کھنچائی کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہاہے کہ جینوادھاری قیادت یہ کہہ کر خود کو تسلی دے سکتی ہے کہ ہماری پارٹی ووٹ لینے والی ہے لیکن ان کی شکست ان کی اپنی ہے۔ 2019 میں کانگریس کو 191 میں سے 175 سیٹوں پرہارملی جہاں اس نے براہ راست بی جے پی سے مقابلہ کیاہے۔حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہاہے کہ ایسی صورتحال میں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارامنصب صرف فرمانبردار ووٹرز کاہے ، ہم اپنی قیادت اور آواز بن سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ جب ایم آئی ایم نے بہارکے انتخابات میں پچاس امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا ، آر جے ڈی اور کانگریس سے اویسی کی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم کہاگیاہے۔

You might also like