Baseerat Online News Portal

وقت کی رفتار کے ساتھ پل پل بدلتا جالے کا سیاسی منظر نامہ ۔۔۔۔۔۔، کانگریس کارکنان کی اعلی کمان سے مسلم کو امیدوار بنانے کی مانگ نے پکڑا زور

جالے۔ 28/ ستمبر ( پریس ریلیز )

جالے اسمبلی حلقہ کا سیاسی منظر نامہ وقت کی رفتار کے ساتھ ہی تبدیل ہو رہا ہے،ایک طرف جہاں تمام ہی اتحادی جماعتیں اپنے اپنے طور پر منصوبندی میں مصروف ہیں وہیں کانگریس سے جالے کو مسلم امیدوار دینے کا معاملہ بھی اب دھیرے دھیرے دلچسپ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور حالات کے اشارے بتا رہے ہیں کہ اگر کانگریس اعلی کمان کی توجہ عوامی رائے پر نہیں گئی اور اس نے مسلمانوں کے مطالبے کو تسلیم نہ کیا تو نتیجہ امید کے برخلاف بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ یہاں کی سیاسی تصویر ہمیں یہ بھولنے کی اجازت نہیں دیتی کہ جالے اسمبلی حلقے پر مسلمانوں کی دعوے داری ہر دور میں نہ صرف مضبوط رہی بلکہ یہاں سے کئی بار مسلم امیدوار نے کامیابی اختیار کر کے علاقے کی تعمیر وترقی میں اہم رول بھی ادا کیا ہے مگر ان سب کے باوجود پچھلے پچیس سالوں سے یہاں کے مسلمان نظر انداز کئے جا رہے ہیں جسے کسی بھی طرح درست نہیں کہا جا سکتا، بتادیں کہ جب سے ریاست بھر میں انتخابی گہماگہمی شروع ہوئی ہے جالے میں مسلم امیدوار کا مسئلہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہاں کے اقلیتی طبقہ کی جانب سے اس مطالبے کو لے کر آئے دن جس طرح کی خبریں آرہی ہی ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس مرتبہ کسی بھی طرح اپنی مانگ سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں،اب آئندہ چند دنوں میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو کہا نہیں جا سکتا مگر یہاں کی زمینی سچائیوں کو دیکھیں تو منظر نامہ پہلے سے بہت مختلف ہیں مقامی سطح پر موجودہ ایم ایل اے کے کام کاج سے نہ صرف یہاں کی اکثریت نالاں ہے بلکہ ان کے خلاف بھی عوام نے مورچہ کھول رکھا ہے جبکہ مسلمان کی بات کریں تو وہ نظریاتی اعتبار سے اب بھی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہیں مگر شرط یہ ہے کہ یہاں سے انہیں نظر انداز کرنے کی روایت ختم ہو بصورت دگر حالات کیا ہوں گے وہ آنے والے وقت میں پتہ چلے گا،ادھر کانگریسی کارکنان نے منظم منصوبہ کے ساتھ جالے سے سینئر کانگریسی لیڈر عامر اقبال،صادق آرزو اور سید تنویر میں سے ہی کسی کو ٹکٹ دینے کی مانگ کے ساتھ رابطہ مہم شروع کر دیا ہے یہ اور بات ہے کہ سیاسی حلقوں میں مسلم امیدوار کے طور پر محمد صادق آرزو اور سید تنویر کے نام کی بھی چرچا ہے مگر زیادہ تر لوگ اس معاملے میں عامر اقبال کو مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اعلی کمان کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے،تاکہ جالے کو مثبت نتیجہ دیا جاسکے،آج جالے میں کانگریس کارکن محمد اختر جالوی کی رہائش گاہ پر محمد فیض اللہ،انجینئر کامران،ابرار احمد،جاوید احمد،مرزا آرزو بیگ،امداد احمد،محمد فرقان، محمد وقار،محمد عرفان،سمیع اللہ،عطیع الرحمان،محمد درسیاب،محمد ذیشان، محمد فرحان، محمد اسد،محمد غفران محمد سیف،محمد نواز،محمد عادل،محمد غالب،محمد زاہد،محمد اظہر اور محمد جنید سمیت درجنوں ارکان کی مشترکہ میٹنگ میں بھی اس مطالبے کو دہرا کر کانگریس اعلی کمان کو جالے کے سیاسی مزاج سے آگاہ کیا گیا،اختر جالوی نے کہا کہ جالے میں ایک تہائی ووٹرس مسلمان ہیں لیکن انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ہمیں بس ووٹ دینے کے لائق سمجھنے کی پالیسی اپنائی جاتی رہی ہے مگر اب یہ روایت ختم ہونی چاہئے اور یہاں کے مسلمانوں کو اس کا حق ملنا چاہئے انہوں نے کہا کہ مسلمان جالے اسمبلی حلقہ سے امیدواری نہیں مانگے گا تو پھر کہاں سے مانگے گا،انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اگر ہمیں نظر انداز کیا گیا تو اس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے اور پارٹی کو اس کی قیمت مسلمانوں کی ناراضگی کی صورت میں چکانی ہوگی،میٹنگ میں جالے سے امیدواری کے لئے جن ناموں پر بات ہوئی ان میں بھی عامر اقبال،صادق آرزو اور سید تنویر چرچے میں رہےاور شرکاء نے مانا کہ ان میں سے کسی ایک کے نام پر کانگریس کو مہر لگا کر انہیں نمائندگی کا موقع دینا چاہئے،اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس کارکنان میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ جالے اس وقت باہری امیدوار کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ایسے لوگ ہماری توجہ کے قابل ہوں گے،اگر ایسے کسی شخص کو ہمارے سروں پر تھوپا گیا تو اس کے خلاف مہم چھیڑی جائے گی۔

You might also like